طب یونانی(اسلامی)اور قومی صحت پالیسی
June 9, 2008
![]() |
ہمسایہ ملک بھارت میںآیورویدک اور سدھا طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ طب یونانی( اسلامی )کوبھی مکمل اہمیت دی گئی ہے اور اسے باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔اس سلسلے میںسینٹرل کونسل فار ریسرچ آیورویدک اینڈسدھا(36یونٹس) سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن(25یونٹس)اور دیگر حکومتی ادارے قائم ہیں جہاں ہیپاٹائٹس،ایڈز،برص(پھلبہری)سمیت بیسیوں پچیدہ اور(ایلوپیتھک طریقہ علاج کے مطابق) ناقابل علاج امراض کا کامیاب یونانی علاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس امر کا فقدان ہے دیگر تمام شعبوںاور اداروں کی تعمیر میں کوتا ہیوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی قوم کے مسئلہ صحت کے حل کیلئے بھی اغیار کے محتاج ہیں حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1942ء میں طلبائے طبیہ کالج دہلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ،،جب زمام اختیار مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی تو وہ تمام علوم و فنون اسلامیہ کے ساتھ طب اسلامی (یونانی)کے تحفظ و بقا کا بھی خیال رکھیں گے کیونکہ یہ ایک بہترین قومی ورثہ ہے اور اس کی حفاظت قوم کا فرض ہے۔،،اسی طرح مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1956ء میں کراچی میں پاکستان طبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ،،طب اسلامی اور اس کا تحفظ ایک مسلمہ امر ہے اگرچہ طب اسلامی کی روشنی طب مغرب کی مصنوعی چمک کے سامنے دھندلا گئی ہے تاہم آج بھی ہمارے عوام اس طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں ۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی بھی فن حکومت کے تعاون اور امداد کے بغیر بلندیوں کو نہیں چھو سکتا ۔طب اسلامی (یونانی) عوام کی عادات و مزاج کے عین مطابق ہے اس خصوصیت نے اس طریقہ علاج کو ہر آزمائش میں کامیاب کیا ہے۔ اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔پاکستان میں اس کیلئے ہر دروازہ کھلا رہنا چاہئے طبی ہسپتال ،طبی شفا خانے اور تجربہ گاہیں بالکل ان ہی خطوط پر جن پر طب مغرب کو یہ سب سہولتیں فراہم کی گئی ہیں مہیا کی جائیں تاکہ امراض اور ادویات پر تحقیقات کی جائیں ۔،، لیکن۔۔۔۔۔۔۔ آج نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود طب اسلامی کی حالت انتہائی ابتر اور سنگین تر ہے۔قومی طبی کونسل ،طب اسلامی کے معاملات اوردیگر طبی ادارے زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہیں ۔طبی نظام تعلیم انتہائی ناقص ہوچکا ہے۔ طبی دواسازی کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔اچھے معاشروں میں عوام کی صحت کی فکرعوام سے زیادہ حکومتوں کو ہوتی ہے یونانی طریقہ علاج برصغیر میں ثقہ نامور حکیموں کے توسط سے معتبر اور موثر رہا ہے حکیم محمد اجمل خان ،شہید پاکستان ،شہید فن طب حکیم محمد سعید،حکیم محمد حسن قرشی،حکیم عبدالرحیم اشرف ،حکیم نیر واسطی سمیت دیگر نامور حکماء نے اسے باقاعدہ فن اور سائنس کا درجہ عطا کیا ،یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ یونانی طریق علاج کے اداروں کو ریگو لرائزکر کے طب یونانی کی سرپرستی کرتی ۔طبی دواسازی کی صنعت کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچا کریونانی ادویات کے کلینیکل ٹرائل کے بعد ان کے لئے مناسب پیکنگ ،ریکارڈنگ اور مارکیٹنگ کا میکنزم ڈیولپ کرتی۔لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دباؤ اور ان سے وابستہ مفاد پرست سرکاری عناصر (بیوروکریسی )کے زیر اثر اس شعبہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ،،عطائیت ،،کو فروغ حاصل ہوا ناقص طبی نظام تعلیم کی وجہ سے نیم حکیم اور حکمت و طب سے نابلد افراد و ادارے چور دروازوں سے اس فن میں داخل ہو گئے یونانی ادویات کی آڑ اور صرف دولت کی ہوس میں غیر معیاری دواسازی(تحقیقاتی رپورٹنگ کے مطابق اس میں وفاقی و صوبائی وزارت صحت کے اہلکاران اور افسران بھی ملوث ہیں) کو عروج حاصل ہوا اور فن طب انحطاط پذیر ہوتا چلا گیا۔حکومت ہر شعبے میں اپنی ہی بے حسی اور لاپرواہی کے نتائج کو قانون بنانے کے اعلان میں چھپاتی ہے لمبے چوڑے بلند و بانگ دعووں کا اعلان کرتی ہے اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات رہتا ہے شائد دونمبر حکیموں کی طرح ہمارے حکمران بھی ایسے ہی ہیں لہذا رعایا کیسے صحتمند ہو؟اس وقت عالمی ادارہ صحت(WHO) کی رپورٹوںکے مطابق دنیا کی 86فیصد آبادی اور پاکستان کی 76فیصد آبادی ہربل (یونانی) ادویات استعمال کرتی ہے ۔باوجود اس کے طب یونانی کو کسی بھی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم میں شامل نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتی۔حکومت یونانی طریق علاج کو قواعدو ضوابط کے تحت منظم اوراس طریق علاج میں در آنے والی خامیوں کو دور کر کے عوام کے مسئلہ صحت کو حل کرنے کیلئے ایک بنے بنائے نیٹ ورک سے استفادہ حاصل کر سکتی ہے۔اور اس کا دائرہ کار دیہاتوں تک بڑھا سکتی ہے جہاں ایلوپیتھک ڈاکٹر جانے سے کتراتے ہیں۔یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ایلوپیتھک طریق علاج کے برعکس طب یونانی کسی مرض کیلئے دواساز ادارے کی سربند دوائی دینے کا نام نہیں۔دواساز اداروں کی ترقی طب کی ترقی ہرگز نہیںہے ۔ہر اچھا طبیب دواسازی کے فن پر بھی عبور رکھتا ہے لہذا طبیب کی ذاتی دواسازی پر قدغن لگانے کیلئے ملکی دواساز اداروںاور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایماء پر ڈرگ ایکٹ 1976ء کوبھی یونانی میڈیسن ایکٹ 2005ء کے ہمراہ لاگوکرنے کی کوششیں کی گئیں جسے کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان سمیت دیگر تنظیموںاور ملک بھر کے اطباء نے ناکام بنایا۔قومی صحت پالیسی کے ثمرات پاکستانی عوام خصوصاً دیہاتی آبادی کو تبھی پہنچ سکیں گے جب نیشنل ہیلتھ پالیسی میں طب یونانی کو بھی شامل کیا جائے گا حکومت سے اپیل ہے کہ طب یونانی طریقہ علاج کو سرکاری سرپرستی میں ترقی دینے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ طب یونانی اور اس کی صنعت دواسازی کو فروغ دیا جائے اس سے پاکستان اپنا قومی مسئلہ صحت حل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔طب یونانی(اسلامی) کا زوال ایک بہت بڑی سازش ہے۔جس میںبیوروکریسی کے ساتھ ساتھ،، سامراج،، اصل رکاوٹ ہے۔اگر موجودہ حکومت نے اس سلسلے میںخود انحصاری کی راہ نہ اپنائی اور اپنے اس ورثہ کی حفاظت نہ کی تو بعید نہیں کہ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستانیوں کو خمیرہ گاؤزبان بھی ،،بائر،،یا کسی اور ملٹی نیشنل کمپنی کا بنا ہوا خریدنا پڑے ۔



