![]() |
کون نہیں جانتا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث پائی جاتی ہے۔’’را‘‘ نامی خفیہ ایجنسی نے عرصہ دراز سے پاکستان اور اسکے پڑوس میں واقع دوسری ریاستوں کو دہشت گردانہ کاروائیوں کا مرکز بنائے رکھا ہے۔1968ء میں جب ’’را‘‘ کی داغ بیل ڈالی گئی تو اُسی وقت سے اس خفیہ ایجنسی نے اپنے ہمسایہ ممالک کے حالات خراب کروانے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی۔بنگلہ دیش میں ’’را‘‘ کے کارکنوں کا دہشت گرد عناصر اور بنگلہ دیش کی ہندو اقلیتوں کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابط رہا۔یہ خفیہ ایجنسی 1960ء سے مشرقی پاکستان میں سرگرمِ عمل رہی ہے۔مجیب الرحمٰن کی حمائیت میں ’’را‘‘ کا جبہ شوق دیدنی تھا اِس نے بنگلہ دیش کے باغی عناصر کو سرمایہ بھی فراہم کیا تھا اور اسلحہ بھی ۔مکتی باہنی کی اصل سرگرمیوں کا سہرا تو ’’را ‘‘ کے سر ہی ہے۔اِسی طرح ’’بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سری لنکا کے تامل مسلح گروہوں کو ہر قسم کی مراعات فراہم کرتی ہے اور اِس خفیہ ایجنسی کے 30سے زائد تربیتی ادارے اِن مسلح گروہوں کو تربیت فراہم کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی جانب سے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کو پھنسانے اور ہراساں و خوفزدہ کرنے کی کوششیں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔جب بھی اس قسم کا واقعہ بھارت کے کسی بھی کونے میں ہوتا ہے اس کا ٹھیکرہ مسلمان نوجوانوں کے سر پھوڑا جاتا ہے بھارتی پولیس اور ’’را‘‘ اپنی خفت چھپانے کے لئے سب سے پہلے چند بے قصور اور سیدھے سادھے مسلم نوجوانوں کوپکڑ کر انہیں مجرم بنانے کی حتیٰ ا لوسعیٰ کوشش کرتے ہیں ۔اسکے بے شمار شواہد موجود ہیں اور حقائق سے چشم پوشی کے باعث بھارتی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔اسکے باوجود بھارتی خفیہ ایجنسی مسلم مخالف مہم کو مسلسل ہوا دیتی رہتی ہے۔اس سلسلہ میں بھارت کی ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے کردار بھی غیر منصفانہ رہے ہیں جسکی وجہ سے اکثروبیشتر مسلم نوجوان بھارتی جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہوتے ہیں اس وجہ سے متاثرہ خاندان بہت زیادہ متاثر ہو جاتے ہیں ۔بھارت میں جے این یو ایس اور فورم فار ڈیموکریٹک اینیشیٹو کے ذریعہ منعقدہ کانفرنس میں کلکتہ کے آفتاب انصاری نے بھارتی خفیہ ایجنسی اور ایس ٹی ایف کی جن گھناؤنی کاروائیوں کا انکشاف کیا ہے وہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔دراصل بھارت میں کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو وہ اقلیتوں پر ظلم اورزیادتی کرتی ہی رہتی ہے ۔ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار انکے گھروں میں گھس کر تلاشی کے نام پر انہیںذلیل و رسوا کرتے رہتے ہیں انکی عزت سر عام نیلام کرنے میں بھارتی خفیہ اداروں کو کوئی آر محسوس نہیں ہوتا ۔آفتاب عالم انصاری کے مطابق انہیں 22دنوں تک خفیہ ایجنسی اور ایس ٹی ایف کے افسران اُلٹا لٹکا کر پیٹتے رہے ،کئی کئی دِن تک سونے نہیں دیا گیا اور جب وہ اپنا قصور جاننے کی کوشش کرتے تو اُن پربھارتی خفیہ ادارہ زور دیتا کہ بس اتنا کہہ دے کہ تو ’’ ہوجی‘‘ کا ایریا کمانڈر مختار عرف راجو بنگالی ہے ۔خفیہ ایجنسی نے آفتاب عالم پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اُس نے بنگلہ دیش سے فوجی ٹریننگ لی ہے اور اسکے بینک کے کھاتہ میں 6کروڑ روپے ہیں ۔بھارتی ایجنسی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد نکلے اس لئے وہ 22دن بعد رہا ہوگئے۔مگر اس ناکردہ گناہ کی وجہ سے اسکی بہن کا رشتہ ٹوٹ گیا اور سماج میں اسکی ذلت اور رسوائی ہوئی ۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل بھارت میں ’’مکہ مسجد ‘‘ سانحہ میں بھی خفیہ ایجنسی مقامی پولیس سے مل کر آنکھ بند کرکے عام شہریوں کو گرفتار کرتی رہی ۔سادے لباس میں ملبوس اہلکار غنڈوں کی طرح بغیر نمبر والی گاڑی میں نوجوانوں کا اغواء کرتے رہے ۔آندھرا پردیش ہائیکورٹ نے بھی متعدد بے قصور لوگوں کو رہا کر دیا ۔قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ بھارتی پولیس اور ایجنسیاں دہشت گردانہ کاروائیوں کی آڑ میں بے گناہوں کو پکڑ کر اُس وقت تک انہیں تشدد کا نشانہ بناتی ہیں جب تک وہ اپنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف نہ کرلیں اور بعض اوقات انکی موت واقع ہو جاتی ہے ۔بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی ایسی حرکتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو کسی سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے ۔چند سال قبل ریاست گجرات کے گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا اس واقع کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر وہاں کے انتہا پسند ہندؤں نے اِن کے خلاف مسلح کاروائیاں شروع کر دی تھیں۔اِن واقعات میں سینکڑوں مسلمان شہید کر دئیے گئے تھے ۔ بعد ازاں اس واقع کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا اور بھارتی خفیہ ایجنسی اورگجرات کی پولیس مسلمانوں کی نسل کشی میں ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی تھی۔ممبئی سے دو سو کلومیٹر دور رائے گڑہ کے بوری پنجتن گاؤں میں رائل ایجوکیشن سوسائٹی ہے ۔جہاں چند سال قبل گجرات کے بے سہارا اور یتیم بچوں کو لے جایا گیا تھا۔یہ بچے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ،اِن کے پاس ماضی کی تلخ یادیں ہیں تو نئی زندگی جینے اور اُسے پورا کرنے کے لئے کچھ خواب بھی ہیں ۔گجرات کے یہ بچے اپنے غم کو بُھلا کر ایک ساتھ آگے بڑھنا سیکھ رہے ہیںکوئی انجینئر بننا چاہتا ہے تو کوئی ڈاکٹر ،کوئی پائلٹ اور کوئی کمپیوٹر انجینئر،لیکن ہر کسی کے دِل میں آج بھی ایک کسک ہے خطاکاروں کو سزا دلوانے کی۔ریشماں نامی ایک لڑکی 28فروری2002ء کو ہونے والی ایک واردات بتاتے ہوئے لرز اُٹھتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے حملہ آوروں نے پہلے نورانی مسجد جلا کر شہید کردی اور پھر گھروں پر حملہ شروع کر دیا ۔ریشماں کی بِہن کو اسکی نظروں کے سامنے تلوار کے ساتھ کا ٹ دیا۔اُسکے ہاتھ پر بھی وار کیا گیا اور ماں کو زندہ آگ میں پھینک دیا گیا لیکن ریشماں بچتے ہوئے نکل گئی ۔ہسپتال میں علاج کے دوران ریشماں اور اسکی ماں کے زخم بھر گئے۔آج ریشماں رائل ایجوکیشن سوسائٹی کے یتیم خانے میں زندگی گزار رہی ہے جہاں اسکی طرح کی گجرات سے آئی ہوئی 37لڑکیاں رہتی ہیں۔ریشماں اس وقت نویں جماعت میں ہے اورڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ریشماں اپنے دِل کا زخم بھلانا چاہتی ہے ۔ وہاں موجو د گیارہ سالہ پروین شیخ کا زخم شائد سب سے زیادہ ہے۔فساد میں اسکے ماں باپ دونوں کو ہی زندہ جلا دیا گیا ۔سوسائٹی کی صدر’’ ریحانہ اندرے‘‘کہتی ہیں کہ پروین اور اسکے ساتھ سارے بچوں کو وہ گجرات کے ریلیف کیمپ سے یہاں لائے تھے ۔وہ دور بہت دِل دہلا دینے والا تھا ۔ہر طرف غم کا ماحول بے بسی اور ہمہ وقت روتے بچے ۔ماہرِ نفسیات کی مدد لی گئی پھر رفتہ رفتہ ماحول ٹھیک ہوا تعلیم نے سب کا غم بھلانے میں بڑی مدد کی ۔یتیم خانے کی وارڈن فیروزہ شیخ کے مطابق پروین 9ماہ تک کچھ بھی نہیں کہتی تھی لیکن اب وہ بہتر ہے اِس وقت وہ پانچویں جماعت میں ہے لیکن اب بھی کم ہی بولتی ہے۔اِن لڑکیوں میں مہتاب محمد اقبال نامی لڑکی بہت ہمت والی ہے وہ گجرات کے علاقے ’’وٹوا ‘‘ میں رہتی تھی جب انکے گھر حملہ ہو ا ۔مہتاب نے بتایا کہ ہم نے انتہا پسند ہندؤںکے روپ میں آنے والے ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کے سامنے ہاتھ جوڑے ،اُنکے پاؤں پڑے ،بہت روئے لیکن کسی نے ایک نہ سُنی ۔گھر میں ہم نے مرچی کا سفوف تیار کیا تھا وہ اُن پرڈال دیا اور پس وہی ایک پل تھا جب ہم وہاں سے فرار ہو گئے ۔میرے ماں باپ سلامت ہیں اور آج ایک بار پھر وہیں جاکر آباد ہوئے ہیں لیکن ہم محفوظ نہیں ہیں ،کاروبار ختم ہو چکا ہے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے مجھے یتیم خانہ میں رہنا پڑا ۔اسی طرح یتیم خانہ میں رہنے والی باقی بچیاں بھی بھارتی انتہا پسندوں کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر وہاں ماں باپ کے بغیر زندگی کے باقی دِن گزار رہی ہیں۔دوسری جانب’’را‘‘ کی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارتی گجرات میں آج بھی مسلمانوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ بنا کر انہیں ملک کے لئے غیر ضروری بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ مہم صرف بھارتی گجرات میں ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں مثلاً اُتر پردیش،میدھیہ پردیش،کرنائک،مغربی بنگال میں بھی جاری ہے۔یہ ایک وقت تھا جب مسلمانوں کے کاروبار بھارتی گجرات کے ہر گھر کا اہم حصہ تھے لیکن آج بازار سے وہ تمام مصنوعات غائب ہیں جِن کے ذریعے مسلمان کاروبار کرتے تھے ۔یہ تبدیلی گزشتہ چند سال میں آئی ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تبدیلی خود بخود آئی ہے یا پھر مسلمانوں کو جان بوجھ کر اقتصادی طور پر الگ تھلگ کیا گیا ہے؟کسی کا معاشی گھیراؤ قتلِ عام سے کم نہیں ہوتا ۔اِسی طرح افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے اڈے بنتے جا رہے ہیں،یہاں سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے خلاف برسر پیکار عناصر کو مالی امداد مل رہی ہے بلکہ جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مکمل کوشش ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنگ و جدل کا شکار ہوں تاکہ محب وطن قبائل کے دِلوں میں پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف انتقامی جذبات ابھریں۔یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کو ہوا دے رہا ہے تاکہ پاکستان کو خلفشار زدہ ملک قرار دے کر اس کی جوہری صلاحیت کے حوالے سے اپنے ناپاک عزائم پورے کر سکے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے قیام کا عمل جب مکمل ہوا تو اس کے ذمے یہ کام بھی سونپا گیاتھا کہ وہ پاکستان میں متعدد سطحوں پر سیاسی اور عسکری منصوبوں پر ہونے والے کام کی رفتار کا جائزہ لے اور بالخصوص ایسے تمام منصوبوں کو زیر بحث لائے جو بھارت کی قومی سلامتی سے براہ راست متعلق ہوں ان ہدایات کی روشنی میں ’’را‘‘ کے ذمہ دار افراد پاکستان پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے رہے ۔ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی منصوبہ بندیوں میں متحرک نظر آنے لگا۔ملک و قوم کا اس قدر جانی و مالی نقصان یقیناً حد درجہ تشویش ناک ہے اور دہشت گردانہ حملوں کے باعث نہ صرف بیرونی دنیا میں ہماری ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ عوام بھی خوف و حراس کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا ۔کیونکہ سوات میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ افغان باشندوں کی مدد سے شرپسندوں کو پاکستان مخالف کاروائیوں کے لئے اکسانے میں کامیاب ہوتی نظر آتی تھی اور شرپسند عناصر طالبانائزیشن کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مزموم عزائم کی تکمیل کے لئے کوشاںرہے جبکہ مقامی انتظامیہ اور پولیس انکا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی تب پاکستانی فوج نے ملکی سلامتی کی خاطر اور ہمسایہ ملک کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے سوات میں آپریشن کا آغاز کر دیا ۔اسی طرح وزیرستان ایجنسی میں کچھ سمگلر گروپوں نے ’’را‘‘ کے ذریعے بڑے بڑے نیٹ ورک کھول رکھے تھے جو غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو دولت کے چکر میں پھنسا کر اپنے مقاصد حاصل کرتے تھے۔بیرونی ممالک کے لوگوں کو جہاد کے نام پر انتہا پسندی کی ترغیب دے کر بد امنی اور دہشت گردی کی فضا ء پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے پاک فوج کو ان لوگوں کی سرکوبی کی زمہ داری سونپی گئی۔افغانستان میں بھولے بھالے افغانیوں کو ورغلاء کرانہیںبھارتی خفیہ ایجنسیاں افغانستان کے مذہبی انتہا پسندوں کے ذ ریعے تربیت دیتی ہیں کہ ’’جہاد‘‘ کرتے ہوئے اپنی جان دے دو تمہیں جنت میں گھر ملے گا۔پس انہی دو تین ماہ کے دوران اُس بھولے بھالے نوجوان کاذہن اتنا پختہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ سر پر کفن باندھ کر پاکستان کی سر زمین کا رخ کر لیتا ہے اور موقع ملتے ہی خود کو بم سے اُڑا تے ہوئے کئی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے ۔دراصل اُس بھولے بھالے خودکش بمبار کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ دراصل ’’جہاد‘‘ نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنسیاں اُنکے ملاؤں کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش کر رہی ہیں۔10جنوری کو مال روڈ لاہور میں ہونے والا خودکش حملہ بھی دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کی اِسی سازش کی ایک کڑی ہے ۔ کیا’’را‘‘ کے اہلکاروں کے دل پتھر ہو گئے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ کتنی ماؤں کے جگر گوشے،کتنی بہنوں کے بھائی اِن حادثات کا شکار ہو کر ہنستے بستے گھروں میں قیامت برپا کر کے چلے جاتے ہیں ؟کیا بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار یہ نہیں جانتے کہ وہ آج کسی عالمی طاقت کے اشاروں پر اگر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں تو کیا کل اُسی عالمی طاقت کا رخ انکی طرف نہیں ہو سکتا۔شائد بھارت اور افغانستان کو اِس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ جب ہمسائیوں کا گھر جلانے کی کوشش کی جائے تو آگ اپنے گھر بھی پہنچ جاتی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے پاکستان کے حالات خراب کرنے کے لئے سوات ،بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے شرپسند عناصر کوٹھیکہ دے دیا اور اکبر بگٹی اور سوات کے مولانا فضل اللہ کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش تیار کر لی۔بھارت اورافغانستان حکومتوں کی طرف سے بلوچستان میں چین کے منصوبوں کو سبوتاز کرنے کے لئے اسلحہ اور روپے کی فراہمی میں کمی نہ لائی گئی اور بعض لوگوں کے خیال کے مطابق تو متحدہ عرب عمارات نے بھی گوادر پورٹ منصوبہ ناکام بنوانے کے لئے شرپسندوں کو بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لئے سرمایہ فراہم کیا۔چینی باشندوں کا اغواء اور قتل اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔بگٹی کی ہلاکت کے بعد بھارت،افغانستان اورامریکہ نے گوانتانا موبے سے آزاد ہونے والے عبداللہ محسود کو بلوچستان میںچینی باشندوں کے خلاف تخریب کاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا،بلوچ لبریشن آرمی کو اسلحے کی فراہمی کرکے اسے پاکستان بھر میں تخریب کاری کا ٹاسک دے دیا اورپاکستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذہبی عناصر ’’پاکستانی طالبان‘‘ کو پروان چڑھا نا شروع کر دیا اور اس کی آڑ میں پاکستان کے امن کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کی کردار کشی مہم بھی شروع کردی گئی اور میڈیا کے ذریعے عوام میں بھی پاکستانی فوج کے خلاف نفرت کے بیج بونے کی کوشش کی گئی۔وکلاء مہم شروع ہوئی تب بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور دیگر غیرملکی ایجنسیوں نے اِس مہم کو ہوا دینے کے لئے بھرپور سرمایہ فراہم کیا، پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے لئے افغانستان کے بھولے بھالے معصوموں کو خودکش حملوں کے لئے اُکسایا اور پھر اسی پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو خود کش حملے میں ہلاک کروا دیا گیا جس کے بعد فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔کچھ عرصہ قبل ایک تجزیہ نگار نے کہاتھاکہ بھارتی فوج کے حوالے سے بھارت کے اخبارات میں یہ خبر چھپی ہے کہ سوات میں لڑنے والے طالبان جنگجوؤں میں ہمارے Assertsیعنی ہمارے اثاثے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات کے عسکریت پسند وں کو نہ صرف جدید ہتھیار ملتے رہے ہیں بلکہ اِن نئے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت بھی مِلتی رہی۔یہ سازوسامان جو اس وقت سوات میں اِن طالبان جنگجوؤں کے استعمال میں رہا یہ انہیں افغانستان سے ملنے والی سرحد کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے راستوں کے توسط سے مِل رہاتھا۔یہ طالبان جنگجو سوات میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف جو اسلحہ استعمال کرتے رہے ہیں وہ بھی Army Specificیعنی کہ صرف فوج کے استعمال کے لئے بنایا گیا تھا۔طالبان جنگجوؤں کے مشن کو آگے بڑھانے والا FMریڈیو بھی بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کی مدد سے لگایا گیا ۔سوات کے عسکریت پسندوں کو افغانستان کے ان تربیتی مراکز میں ٹریننگ دی گئی جو بھارت نے کرزئی حکومت کی درپردہ حمائیت سے قائم کر رکھے ہیں۔زرائع کے مطابق پاکستان کے اندرونی امن و امان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘اور دیگر غیر ملکی ایجنسیاں ’’مولانا فضل اللہ‘‘ اور اسکے ساتھیوں کی ہر لحاظ سے حمائیت کرتی رہی ۔سوات میں ایم ایم اے کے دورِ حکومت میں پولیس اہلکاروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح زبح کیا جاتا رہا ،ایف سی کے جوان اغواء ہوتے رہے،کئی ایک کو قتل کر دیا گیا ،پولیس تھانوں پر قبضے ہوتے رہے،ہسپتال ویران ہو گئے ۔ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ مولانا فضل اللہ کے حمائتی جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسزکے قافلوں پر حملے کئے جس سے متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کبل کو بموں سے اڑا دیا ،اکتوبر کے مہینے میں انہی جنگجوؤں نے تحصیل مٹہ ،تحصیل خوازہ،خیلہ مدین کے پولیس اسٹیشنوں اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ۔پولیس لائن نواں کلے کے قریب سکیورٹی فورسز کے ٹرک کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا جس میں 20کے قریب سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے ۔ہسپتالوں میں کھڑی گاڑیوں کو حتیٰ کہ ایمبولینسوں کو بھی جنگجوؤں نے اپنے قبضہ میں کر لیا۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ جنگجوؤں کی کاروائیوں سے تنگ آکر بالآخر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انکے خلاف آپریشن شروع کر دیا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی دہشت گردانہ کاروائیوںکو دیکھتے ہوئے اِس تنظیم /ایجنسی پر مکمل پابندی عائد کروائے اور بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے تاکہ وہاں قیام پزیر اقلیتیں کسی معاشی یا جسمانی قتلِ عام کے خوف کے بغیر اپنی زندگیاں بسر کرسکیں ۔جب تک عالمی برادری مداخلت نہیں کرے گی تب تک بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح زبح کرتی رہے گی۔
Shortlink: