![]() |
لاہور میں ہونے والے خودکش حملوں کے بعد پورا ملک افسوس اور غم میں نڈھال ہے مگر ہمارے حکمران ملک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیںکیونکہ اُن کے ساتھ سیکیورٹی ہے مگر ملک کے اہم اداروں،عبادتگاہوں،سکولوں،کالجوں،پرائیویٹ بلڈنگوں اور دیگر کئی عمارتوں کو سیکیورٹی مہیا نہیں کی جاتی جب تک اُن پر حملے نہ ہوں،جس کی وجہ سے ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں۔لاہور میں ہونے والا دہشتگردی کا واقع بھی ناقص سیکیورٹی کی وجہ سے پیش آیا۔واقعہ کے بعد مختلف رہنماؤں کی جانب سے اظہار افسوس اور مذمت کے ساتھ دیگر بیانات آتے رہے، صدر اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ایک بیان آیا اُنہوں نے کہا،لاہور میں دہشت گردی افسوس ناک ہے،شہریوں کو ہر صورت تحفظ دیں گے،اس بیان سے لگتا ہے صدر اور وزیر اعظم اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس سے پہلے بھی لاہور میں کئی بار دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں مگر ہر بار تحفظ دینے کانمائشی بیان دیا جاتا ہے ۔خبروں کے مطابق دونوں حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب ونگ نے قبول کی ویسے بھی ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں ہونے والے دونوں حملوں کا سٹائل سابقہ حملوں جیسا تھا۔لبرٹی میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہو یا مناواں اور بیدیاں،لاہور میں پولیس ٹریننگ سنٹرز اور راولپنڈی میں پہلے جی ایچ کیو اور پھر پریڈ لین مسجد میں حملہ۔ ۔ ۔ ان سب کا بنیادی طریقہ ضرب یکساں تھا۔ہر حملے میں خود کش بمباروں کے ساتھ گن فائیٹ کرنے والے لڑاکے بھی شامل تھے۔شہر لاہور کے دو مختلف علاقوں میں ہونے والے حالیہ واقعات میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ایک عبادت گاہ،علامہ اقبال روڈ گڑھی شاہو اور دوسری ماڈل ٹاؤن سی بلاک میں واقع ہے۔دونوں مقامات کادرمیانی فاصلہ تقریباً پندرہ کلومیٹر ہے۔دونوں جگہوں پر لوگ بڑی تعداد میں جمعہ کی عبادت کیلئے جمع تھے،کہ دہشت گرد دستی بم پھینکتے،جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے داخل ہوئے،کاروائی اتنی سرعت اور شدت سے کی گئی کہ سیکیورٹی گارڈز کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور باہر موجود پولیس اہلکاروںنے دھماکوں کی آوازوں سے بھاگنے میں ایک دوسرے سے ریس لگا لی۔مگر کُچھ دیر بعد ایلیٹ فورس کے جوان موقع پر پہنچے۔حملہ آور عبادتگاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں پر موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔فائرنگ اور دھماکوں سے تقریباً ۹۰سے زائد افرادشہید ہوئے اور ۱۵۰ سے زائد زخمی ہوئے۔آپریشن کلئیر ہونے کے بعد دونوں عبادتگاہوں سے دوکلو وزنی دھماکہ خیز مواد برآمد کیا،اس کے علاوہ بال بیرنگیز،ڈیٹونیٹنگ کارڈ،لیڈ شیٹ،چار ڈیوائسز اور اٹھارہ ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوئے جو دہشت گرد اپنے ساتھ عبادتگاہوں میں لے کر گئے تھے۔یہ اسلحہ استعمال ہوجاتا تو نجانے کتنی تباہی پھیلتی۔خیر معلومات کے مطابق پنجاب حکومت کو پہلے سے اس حملے کی اطلاع مل چکی تھی لیکن سیکیورٹی بڑھانے کی بجائے سیکیورٹی کم کر دی گئی اور یہ واقع صرف اور صرف پنجاب حکومت کی نااہلی،سُستی اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوا،عبادتگاہوں میں احمدی نوجوان بطور سیکیورٹی کھڑے تھے نہ کہ پولیس،اس کے علاوہ ماڈل ٹاؤن والی عبادتگاہ سے پکڑا جانے والا دہشت گرد بھی احمدی نوجوانوں نے عبادتگاہ کے اندر سے پکڑا اور اُس کے ہاتھ پیچھے کی جانب باندھ دئیے جبکہ دہشتگرد کے پیٹ پر خود کش جیکٹ بندھی ہوئی تھی۔جبکہ ذوالفقار علی کھوسہ نے کریڈٹ حاصل کرنے کیلئے دہشتگردوں کی گرفتاری پولیس کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بہت قربانیاں دی اور دہشتگردوں کو زندہ پکڑا۔جبکہ پولیس تو عبادتگاہ کے اندر موجود ہی نہیں تھی اور دہشتگرد باہر نہیں آئے جب تک اُنہیں اندر موجود نوجوانوں نے نہیں پکڑا۔گڑھی شاہو میں بھی پولیس نے تب تک فائرنگ نہیں کی جب تک فائر کرنے کی اجازت نہیں ملی،اگر یہ واقعہ کہیں اور ہوتا تو فائرنگ کی اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔خیر اچانک وہاں ایس پی صاحب کی آمد ہوئی اور واقع کے بارہ میں معلومات لینے کے دوران جب دہشتگردوں نے منار کی چھت سے ایس پی کی گاڑی پر فائرنگ کی تک جوابی کاروائی کی اجازت ملی اور کاروائی شروع ہوئی۔پھر جب دہشتگردوں نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا تو پولیس گڑھی شاہو کی عبادتگاہ کے ساتھ والی بلڈنگ پر چڑھ کہ فتح کے نعرے مارتی رہی اور پریس فوٹوگرافروں کو تصاویریں کھینچنے کے مواقع فراہم کرتی رہی۔سوال تو یہ ہے کہ پکڑے جانے والے دہشت گردوں پر کس قسم کی کاروائی ہوگی۔اُن پر کئے جانے والے کیس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا یا پھر یہ کیس بھی سابقہ کیسوں کی طرح دفاتر کی مٹی کھاتا رہے گا؟
Shortlink: