![]() |
یوم عاشور کے روز کراچی میں بم دھماکے کے بعد جلاؤ گھیراؤ کے واقعات سے شروع ہونے والی کہانی اب ٹارگٹ کلنگ سے ہوتی ہوئی بلدیاتی اداروں پر کنٹرول اورسیاسی بالادستی کے لیے دو اتحادی جماعتوں میں نفاق کا روپ دھار چکی ہے اور اس کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کرنے والے کرائسزمینجمنٹ سیل اوردوسرے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیپلز پارٹی اپنی جگہ احتجاج کر رہی ہے جبکہ حلیف جماعت ایم کیو ایم اپنی جگہ، دونوں جماعتوں کے لوگ واویلا کر رہے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ دار لوگوں کو گرفتار کیا جائے لیکن قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ کون سی قوت ہے جو قاتلوں کو تحفظ دے رہی ہے؟ حکمران اتحاد کی محاذ آرائی اورباہمی کشمکش کی وجہ سے ایک بارپھر کراچی میں ہونے والے خونریز سانحہ کی تحقیقات سیاسی مفادات مصلحت پسندی، روایتی بے حسی کی نذرہوگئی ، پھر وہی مفروضوں پر مبنی پولیس سربراہ کی پریس کانفرنس کہ کالعدم تنظیم ملوث ہے ، ملزم پکڑ لیے گئے ہیں، ملت جعفریہ کے قائدین نے آرٹس کونسل میں ہونے والی اے پی سی میں نہ صرف یوم عاشورکے دھماکے کی تحقیقات کو مسترد کیا ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ وفاقی ، صوبائی اورشہری حکومت سانحہ کراچی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیں ،یوم عاشور کے روزکراچی میں پیش آنے والے واقعات سے صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں ڈھائی ہزار دکانوں کا جلا کر راکھ کیا جانا اتفاقیہ واقعات نہیں ہیں ،اہم سوال یہ بھی ہے کہ نومحرم تک دو حملے ہونے کے باوجود وزارت داخلہ بہتر منصوبہ بندی کیوں نہیں کرسکی؟ اس مسئلے پر وزارت داخلہ کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔ یوم عاشور بم دھماکے کی تحقیقات بھی ماضی کی انکوائریوں سے مختلف نہیں ہے ، اس سے پہلے بھی اکثر اسی طرح ہوتا رہاہے کہ جائے وقوعہ سے انسانی سر مل جانے پر اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے اور دھماکے کو خود کش قرار دے دیا جاتا ہے اورتحقیقات کے عمل کو بندگلی میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، کراچی میں 28دسمبر کو ہونے والے بم دھماکے کو پہلے حکومت نے جس طرح خود کش قراردیا اوربعد میں پلانٹیڈ بم کا شوشہ چھوڑا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت اورحکومتی بے بسی سامنے آگئی، دھماکے بعد کراچی میں جو کچھ ہوا وہ اس صورتحال سے بھلا کس طرح مختلف تھا جو صورتحال 27دسمبر 2007ء پر محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے فوراًبعد پیدا ہوئی تھی؟ اسی طرح گاڑیاں جلیں، دکانیں لوٹی گئیں اور انہیں آگ لگائی گئی، پولیس اور رینجرز خاموش رہی، ان واقعات میں کون سی قوتیں ملوث تھیں، ان تک تحقیقاتی ادارے نہیں پہنچ سکے (یا پھر انہیں پہنچنے ہی نہ دیا گیا) اورپراسراریت سے پردہ نہ اٹھ سکا، دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو 28دسمبر کے واقعات، 27دسمبر 2007کے واقعات کا ایکشن ری پلے تھا،اس سے قبل نشترپارک سانحہ، 12مئی، 18 اکتوبر، 9اپریل سمیت دہشت گردی کے واقعات ہوئے لیکن ملوث قوتوں تک حکومتی ادارے نہیں پہنچ سکے،انتظامی سنجیدگی، ،کی حد تو یہ ہے کہ سانحہ نشتر پارک کی تحقیقات بیچ میں ہی روک دی گئیں، بارہ مئی، 18اکتوبر اور9اپریل کی دہشت گردی کرنے والوں کا بال بیکہ نہ ہوا، 28دسمبر پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے پاس ماتمی جلوس پر حملے کے بعد اہم کاروباری مراکز میں جولوٹ مار ہوئی اور آگ لگائی گئی اس وقت پولیس اور رینجرز کیاکررہی تھی؟ جب دکانیں لوٹی جارہی تھیں اور جلائی جارہی تھیں، فائرنگ ہو رہی تھی، تب پولیس اور رینجرز والے کہاں چلے گئے تھے؟ وہ بلوائی کون تھے؟ جنہوں نے لوٹ مارک کی اور آگ لگا کراربوں روپے کا نقصان پہنچایا، حکمران قوم کو بتائیں سانحہ یوم عاشور کی تحقیقات میں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے؟ اور انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی؟ اس حوالے سے جو پراسراریت موجود ہے کیا اس پراسراریت سے پردہ اٹھ سکے گا؟ آخر حکومت سندھ پرزورمطالبات کے باوجود28 دسمبر کے سانحے کی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن کی تشکیل سے کیوں گریزاں ہے۔ سول سوسائٹی ،عوامی حلقوں کا حکومت وقت کو صائب مشورہ ہے کہ اگر وہ کراچی کو ایک پرامن شہر بنانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے فوج کے ذریعے آپریشن کلین اپ کرکے غیر قانونی اسلحہ برآمد کرے اور اس کے ساتھ ساتھ نو گو ایریاز ختم کیے جائیں،نوگو ایریاز جمہوری حکومت کے لئے کلنک کا ٹیکہ ہیں اس لئے کوئی خوش ہو یا ناراض انہیں ختم کرنے کے لئے ریاستی قوت استعمال کرنی چاہیے، قوت کے استعمال سے پہلے وارننگ کے ساتھ ساتھ ڈیڈ لائن بھی دی جاسکتی ہے، اس ڈیڈ لائن کے اندر اگر نو گو ایریاز ختم کر دیئے جائیں تو ٹھیک ورنہ ڈیڈ لائن گزرنے پر آپریشن کیا جائے ،اپوزیشن کا یہ کہنا بجا ہے کہ کراچی کی صورت حال پر قومی اسمبلی میں جو سیر حاصل بحث ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہوسکی اور ارکان پارلیمنٹ بھی اس حوالے سے اتنے ہی بے خبر ہیں جتنی کہ قوم، کوئی بھی یہ نہیں سمجھ پارہا کہ کراچی میں روزانہ لوگ ٹارگٹ کلنگ کی نذر کیوں ہو تے ہیں؟ جہاں تک وزیر اعظم کے اس بیان کا تعلق ہے کہ کراچی کے حوالے سے حقائق جلد قوم کے سامنے لائے جائیں گے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ حقائق کون سامنے لائے گا؟ رحمان ملک؟ جو خود اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔ بلیک واٹر ، کراچی کے علاقے لیاری میں آپریشن ، بنگالی نژاد پاکستانیوں کو تیسری نسل کو غیرقانونی تارکین وطن قراردے کر ملک بدرکرنے ، لاپتہ بلوچوں کی بازیابی اورٹارگٹ کلنگ کا شکار کیے جانے والے بلوچوں کو غیرملکی قراردینے پر رحمن ملک تو پہلے ہی متنازع ہوچکے ہیں کراچی میں نکلنے والی حکومت مخالف ریلیوں کے شرکاء دیگر نعروں کے ساتھ ساتھ رحمن ملک کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں، کراچی کے لوگ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ لیاری جو کہ پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے ،وہاں تو آپریشن کی ضرورت محسوس کرلی گئی لیکن ان علاقوں میں آپریشن نہیں کیا جارہا جہاں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے، اگر غور کیا جائے تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان تصادم کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے پھر وہ کون لوگ ہیں جو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے بقول انہیں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ جب تک سندھ میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوجاتے اورصوبے کے دوبڑی جماعتوں میں پاورشیئرنگ کا معاملہ طے نہیں ہوجاتا ہر گزرتے دن کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے لہجوں میں تلخی بڑھتی جائے گی، قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے لوگ بیٹھے تو حکومتی بنچوں پر لیکن ان کے لاتعلقی پر مبنی رویئے سے ظاہر تھاکہ وہ اتحادی جماعت سے سخت ناخوش ہیں، قومی اسمبلی سے پیپلز پارٹی کے دو ارکان اسمبلی کا واک آؤٹ کس کے خلاف تھا؟ ظاہر ہے اپنی ہی حکومت کے خلاف جو کراچی میں جاری فساد کو روکنے میں بری طرح سے ناکام ہوئی ہے،صدر، وزیراعظم سے کراچی کے امن پسند حلقے ملتمس ہیں کہ وہ صرف حقائق قوم کے سامنے نہ لائیں بلکہ کراچی کو بدامنی سے پاک کرنے کے لئے عملی اقدامات بھی کریںدہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں ،عملی طورپر اس پیمانے کے اقدامات نہیں کیے جاتے کہ دہشت گردی کے خلاف حکومتی رٹ برقراررہے، دہشت گردوں کا کام دہشت گردی پھیلانا ہے لیکن پولیس اور انتظامیہ کاکام دہشت گردوں کے ارادوں کو ناکام بنانا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ دہشت گرد ہمارے سکیورٹی کے اداروں کی کوششوں کوناکام بنا کر کوئی نہ کوئی بڑا سانحہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخر کس طرح کراچی میں بم اور دہشت گرد حملوں کے لئے سازوسامان پہنچ جاتاہے؟ دہشت گرد حرکت میںہیں اور ایک شہر سے دوسرے شہر اسلحہ پہنچا رہے ہیں،یہ اسلحہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نظر کیوں نہیں آتا؟ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی درست نہیں ہے جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
Shortlink: