سیاسی نظام اور جمہوریت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سردار عرفان طا ہر

“Worst type of Democracy is better than the best type of Dictatorship” 

جمہوریت کے نظام کو فر وغ دینے کے لیے سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے ۔بلا شبہ جمہوریت ہی ملکی ترقی کا ضامن ہے اور صرف سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ہی نہیں بلکہ ملت کا ہر فرد قابل عزت ہے ۔ہمیں ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھنا ہو گا ۔جمہوری اقدا ر کو سمجھنا ہو گا ۔صرف آمریت کے خلاف ہی نہیں بلکہ آمرانہ سوچ کے خلاف بھی بر سر پیکار ہوناہو گا ۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات و واقعات سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے آنے والے سیٹ اپ میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کر نا اوراسے ضمیر کی آواز قرار دینا ہی کافی نہیں بلکہ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذات سے ہی محاسبہ کا آغاز کریں ۔اور جس طرح جسٹس افتخار چوہدری کو آمریت کے خلاف تحریک کا Symbolقرار دیا گیا ۔اسی طرح ملک میں موجود دیگراہم ذمہ دار افرادکے اندر بھی حق اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی سوچ کو پیدا کرنا ہو گا ۔اسی صورت میں معاشرے کی مثبت بنیادوں پر نئے سرے سے تعمیر کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے ۔اس قول میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ بہتر سے بہتر ین آمر یت سے بھی لو لی لنگڑ ی جمہو ریت زیا دہ کامیاب ہے۔لیکن جمہوریت کے نام پر جمہور کے استحصال کا جو وطیرہ ہمارے معاشر ے میں رائج ہو چکا ہے اس کے خلاف بھی آواز بلند کرنا ہو گی ۔اور اصل جمہوری اقدار کی ترویج کو ممکن بنانا ہو گا ۔جمہوریت کی روح کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔جمہوریت کا آغاز تو ہمیں اپنے گھروں اور خاندانوں کی سطح سے شروع کر نا ہو گا اور آمرانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کر نی ہو گی ۔ملک کے اندر جب تک سیاسی جماعتوں میں صحیح معنوں میں جمہوریت فروغ نہیں پاتی اس وقت تک ملک کے دیگر اداروں چاہے فوج ،خفیہ ایجنسیا ں کوئی اور مخصوص ادارہ ہو ان کی حکومت اور سیاسی حکومتوں میں کچھ خاص فرق نہیںہے۔ اگر فرق ہے تو اتنا کہ ملکی اداروں کے کارکن تنخواہ دار ہوتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کی اکثریت بھتہ خورہے جو محض اپنے ذاتی مفادات کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو جماعتوں کے سربراہوںکے سیاہ و سفید کی تائید کرتے اور ہر ایک فیصلے پر لبیک کہتے ہیں چاہے وہ فیصلے ملک و قوم کے حق میں ہوں یا خلاف، انہیںقطعاًاس کی پرواہ ہوتی ہے نہ ہی کوئی دلچسپی۔فرق صرف اتناہے کہ اداروں کے کارکنوں پر اداروں کے سربراہ اپنی سوچ اور اپنے مفادات مسلط کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی طرف سے نسل در نسل آمرانہ سوچ کو تقویت حاصل ہوتی نظر آتی ہے ۔ایسے معاشر ے میں جہاں عوام کو آزادانہ سوچ رکھنے کی پابندی ہوآزادانہ سوچ کا فقدان پایا جاتا ہو ،وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہو ،تعلیمی نظام اور قوانین کا نفاذ غیر مساویا نہ ہو ، اقرباء پروری عروج پر ہو ،میرٹ کی سر عام پامالی ہورہی ہو ،ایسے حالات میں عوام بالخصوص غریبوں کو اس سے کیا غرض کہ جمہوریت رائج ہے ،آمریت یا پھر بادشاہت۔ہاں ان باتوں کا احساس اگر ہوتا ہے تو مخصوص طبقات کو جن کے مفادات کو ایک دوسرے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔یا پھر با شعور طبقے کے ذہنوں میں رائج الوقت ملکی نظام میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوا کرتی ہے جس کا وطن عزیز میں فقدان پایا جاتا ہے ۔اس قسم کی تبدیلی کا احساس پیدا ہوناچاہیے اصولوں کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، حق و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہی کیوں نہ ہو اگر یہ سیاسی جماعتوں یا پھر مخصوص گر وہوں کی حد تک صرف عارضی بنیادوں پر ہو گا ۔صرف وصرف ذاتی مفادات کی خاطر ہو گا تو ایسی صورت میں سارے کا سارا نزلہ غریب عوام پر گرتا ہے اور مشہور مقولے کے مطابق “گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتے ہیں “۔غریب عوام کا جینا دو بھر ہو جاتا ہے۔حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آمریت کے خلاف بر سر پیکار ہونے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ جو در حقیقت آمرانہ فیصلوں اور سوچ کے خلاف پاکستانی عوام کا شدید ردعمل ہے ۔اسے جمہوریت کی طرف ملکی تاریخ کا پہلا قدم قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔کیونکہ قبل ازیں آمریت کی گود میں بیٹھ کر منظر عام پر آنے والے رہنما اور سیاسی جماعتوں کو آمروں کی موجودگی میں شکست سے دو چار نہیں کیا جا سکا ۔اگرچہ یہی سیاسی رہنما بعد ازاں آمریت کے خلاف بر سر پیکار بھی رہے اور پھر ان کی حکومتوں کو معزول بھی کیا گیا ۔یہ ایک لمبی بحث ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاستدانوں کو اپنی اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو رائج کرتے ہوئے آمرانہ سوچ کو ختم کرنا ہو گا ۔محاذ آرائی کی سیاست کو ترک کر کے نظریات کی سیاست جو وطن عزیز میں نا پید ہو چکی ہے کو فروغ دینا ہو گا ۔تنقید برائے تنقید کا وطیرہ ترک کر کے تنقید برائے اصلاح کا کلچر اپنانا ہو گا ۔اپنے اندربرداشت کا مادہ پیدا کرنا ہو گا ۔مفادات کی بنیادوں پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر اختلافات کو اپنا شعار بنانا ہو گا ۔ اداروں کو سیاست سے پاک کر نا ہو گا ۔غلطیوں کا نہ صرف اعتراف بلکہ ازالہ کرنا ہو گا ۔ما ضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کر کے نئی سوچ و فکر کے مطابق آئندہ کا ایسا لائحہ عمل ترتیب دیناہو گا جو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کا باعث ہو ۔وطن عزیز کے سیاستدانوں ،جرنیلوں ،خصوصی اداروں کے سربراہوں ،دانشوروں اور ماہرین کے لئے یہ ایک چیلنج ہے ۔یہی وقت ہے کہ آپس کی تلخیوں کو بھلاتے ہوئے درست سمت کا تعین کرتے ہوئے صحیح راہ پر گامزن ہو کر منزل مقصود کی طرف بڑھنے کی ضرورت کو محسوس کیا جائے کہ اسی میں ملک و قوم کی بقا ء ہے اور ترقی کی ضمانت بھی۔اگر کسی معا شرے میں حکمران طبقے کی نیت میں فتور آ جائے تو سا رے کا سارا ما حول اس کی زد میں آ جاتا ہے نہ خیر و بر کت رہتی ہے اور نہ ہی ایمان کی روشنیاں ایک اچھا اور کا میاب سیا ستدان جو کہ اپنے آ پ کو جمہو ریت کا علمبردار کہلا نے کا صیح حقدار ہے وہی ہو سکتا ہے جس کے پیدا کر دہ کارکنا ن اخلا ص اور نظریات کی جنگ لڑتے رہیں اسی میں حکو مت ،سیاست اور جمہو ریت سب کی کا میابی مضمر ہے ۔

ہو ائے دور مئے خوشگوار، راہ میں ہے 

خزا ں چمن سے ہے جا تی بہا ر، راہ میں ہے 

Shortlink: