موجودہ دور میں کوئی سیاسی ادارہ یا جماعت ایسی نہیں جہاں نظریاتی اور دل و جان سے وفادار کارکنوں کے ساتھ مفاد پرست اور خود غرض افراد نہ ہوں اور وہ مفاد پرستی اور خود غرضی کا موقع ہاتھ سے جانے دیتے ہوں یہ موقع شناس بڑے ہوشیار اور چالاک اور پرلے درجے کے منافق ہوتے ہیں ان کے خون میں دوغلے پن کے مرض کے خطرناک اور موذی جراثیم پوری طرح رچ بس چکے ہوتے ہیںاور ان میں وفاداری نام کی کوئی ایک چیز بھی باقی نہیں رہ جاتی ان کا دین مذہب،رشتہ ،ناطہ پیسہ اور بس پیسہ رہ جاتا ہے ۔علاوہ ازیں ان کے پاس کسی بھی سیاسی لیڈر کے دل کو موہ لینے کا آرٹ ہوتا ہے یہ لوگ جس کسی سیاسی لیڈر یا شخصیت کے ڈیرے پر جاتے ہیں چاپلوسی کے چند تنکوں سے وہیں اپنا گھونسلہ بنا لیتے ہیںاور ڈیرہ دار کے دل و دماغ پر اپنی چھاپ اتنی پکی طرح چڑھا دیتے ہیں کہ کھرچنے سے بھی اترنے کا نام نہیں لیتی یہ لوگ جس سیاسی لیڈر کے گرد گھیرہ تنگ کرنا چاہیں اس قدر مضبوط کرتے ہیں کہ اس بے چارے کا اس گھیرے سے نکل جانے کا چانس زیرو فیصد رہ جاتا ہے۔لیڈر اقتدار تو چھوڑ سکتا ہے لیکن اپنے ان محبوب ساتھیوں سے محروم ہو جانا گناہ تصور کرنے لگتا ہے۔ بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے ہی منافق اور مکار کارکنوں کا پارٹی لیڈروں کے اعضائے رئیسہ پر غلبہ ہے اور نظریاتی کارکن بے چارے کام بس کام کے گھن چکر میں پڑے اپنی قیمتی زندگی برباد کر لیتے ہیں ۔پارٹی کسی بحران کا شکار ہو تو نظریاتی کارکن کام آئیں۔پارٹی لیڈر کسی اضطراب سے دوچار ہو تو نظریاتی کارکن بھاگ دوڑکریں ۔ٓھتجاجی جلسے جلوسوں کا معاملہ ہو تو بے چارے نظریاتی کارکن قربان ہوتے نظر آئیںیہ طبقہ خوامخواہ خلوص و محبت کا شکار ہو کر اپنا مستقبل تبا ہ و برباد کر یتا ہے حا لانکہ انہیں دولت اور نہ شہرت کی غرض ہوتی ہے۔بلکہ انہیں صرف اور صرف پارٹی مفاد عزیز ہوتا ہے۔اور اپنے لیڈر کا وقار بلند کرنا ان کا اصل مطمع نظر ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ نظریاتی کارکن خسارے اور خوامخواہ کے کے عذاب خریدتا ہے پارٹی کے منشور پر جان نثار کرنا فرض سمجھتا ہے اور خود غرض ومنافق شخص سب کچھ لے اڑتا ہے ۔لیکن یہ افسوس ناک امر ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈر ایسا ہی فعل سر انجام دینے پر مجبور و لاچار ہیں۔حکومت پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگ کی ،ان مفاد پرستوں کی عید ہوتی ہے کیونکہ ان کی کوئی پارٹی نہیں ہوتی یہ ہر پارٹی کی حکومت کے ساتھ ساتھ دام بھی کماتے ہیں ۔کل جو سردار محمد طفیل سابق ایم ۔این ۔اے کے ڈیرے پر سارا سارا دن کاسہ لیسی میں گزارتے اور دام کما کر اس کی سیاسی ساکھ کو تباہ و برباد کرتے تھے وہی آج علاقہ ایم ۔پی۔ اے اور ایم۔این۔اے کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے اور انہیں یقین دلاتے ہیںکہ وہ سدا بہار رکن اسمبلی ہیں ۔میں ایسے لوگوں کی حرکا ت وسکنات کو ایک طویل عرصہ سے نوٹ کر رہا ہوں۔ان لوگوں نے مقامی سیاست میں سیاسی اتار چڑھاؤ کا لائسنس حاصل کر رکھا ہے ۔میری نظر میں سردار محمد طفیل ایک کہنہ مشق اور جہاندیدہ سیاستدان ہیںاور ان کے دور میں ورکروں کو ہر قسم کاانتظامی اور سیاسی تحفظ حاصل رہا ہے ۔آج جو ان کی مخالفت میں اسٹیج پر کھڑے ہو کر ان کی سیاست پر کاری ضرب لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں عوام ان سے قطعی ہوشیار رہیں کیونکہ یہ موقع شناسی اور مفاد پرستی کی دلدل میں گلے تک دھنسے ہوئے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب یہی لوگ آپکو کسی اور سیاسی ڈیرے پر نعرے لگاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ جمہوریت ہو یا آمریت یہی مفاد پرست اعلیٰ شخصیات اور افسران کی گود میں سکون مارتے ہیں اور مال کماتے ہیں
Shortlink: