وفاقی حکومت کی طرف سے سالانہ بجٹ ایک سال بعد پیش کیا جاتا ہے اور پھر اس پر نہ صرف انگلیاں اٹھتی ہیں بلکہ آوازے بھی کسے جاتے ہیں۔ہماری یہ عادت ہے کہ ہم اس موقع پر واویلا ضرور کرتے ہیں لیکن اس کو بہتر بنانے کی بجائے ہم آہستہ آہستہ اس ظالم بجٹ کو مقدر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں ۔اس بار وفاقی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے مجھے اس میں گھٹن کچھ کم ہی محسوس ہو رہی ہے۔کیونکہ ملک عزیز گزشتہ چند سالوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے ان حالات میں بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے پاکستانی بینکوں سے سرمایہ باہر منتقل کر کے عرب اور یورپ میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے ۔اس صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو بجٹ 2010-11ء قابل قبول ہے ۔اب ہمیں چاہیے کہ اپنے ملک میں امن و سلامتی اور عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں کیونکہ جس ملک میں عدل و انصاف ہوتا ہے وہاں اامن فروغ پاتا ہے ۔جہاں امن ہو وہاں اقتصادی ،معاشی ،سماجی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار ترقی کرتی ہیں۔گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے بجٹ کا مجموعی حجم 32کھرب 59ارب روپے جبکہ بجٹ کا خسارہ 658ارب روپے ہے ۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد جبکہ پینشن میں 20تا 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا نفاذ یکم اکتوبر تک موخر کر دیا گیا ہے ۔خوردنی تیل ،صابن اور ڈیٹرجنٹ ،مریضوں کے لیے خام مال ادویات کی 6اقسام پر ڈیوٹی میں رعایت ایکسرے فلم پر درآمد کی ڈیوٹیختم کر دی گئی ہے ،اندرون ملک فضائی سفر پر 5فیصد ٹیکس عائد،کسٹم ڈیوٹی کی نئی شرحیں فوری نافذ ،آٹو پارٹس سکریپ پر 35فیصد ڈیوٹی کر دی گئی ہے ۔آٹے ،گھی اور دالوں پر سبسڈی ختم کر دی گئی ہے ۔مختلف اداروں اور اشیاء کے لیے زر اعانت میں102ارب کی کمی کی گئی ہے ۔663ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام جس میں پیپلز ورکس پروگرام کے لیے 31ارب مختص کیے گئے ہیں ۔پانی و بجلی کے لیے 146ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔دیامر اور بھاشا ڈیم پر 15ارب روپے خرچ ہوں گے ایٹمی توانائی کمیشن کے بجٹ میں 29فیصد کمی جبکہ پولیس کو 48ارب روپے ملیں گے ۔3 کروڑ کے انرجی سیور غریب عوام کو مفت فراہم کیے جائیں گے ۔دفاعی بجٹ میں33فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔وزیراعظم سکریٹریٹ کے اخراجات کے لیے 48کروڑ 48لاکھ مختص کیے گئے ہیں ۔کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں میں 10فیصد کٹوتی کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔بجلی کے بلوں میں صرف صنعتی و تجارتی صارفین کے لیے 5فیصد انکم ٹیکس کم کر دیا گیا ہے ۔C N G بسوں کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے ۔جی ۔ایس۔ٹی کا تعلیم ،صحت اور غذائی اشیاء پر اطلاق نہیں ہو گا ۔درآمدات پر ود ہولڈنگ ٹیکس پانچ فیصد کر دیا گیا ہے ۔پیپکو ،پی۔آئی۔اے اور پاکستان سٹیل مل کی انتظامیہ کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ اگر انہوں نے حالات کار بہتر نہ بنائے تو سبسڈی ختم کر دی جائے گی ۔اس بار بجٹ میں دیہی علاقوں کے غیر ہنر مند بے روزگاروں کے لیے ایک نئی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت غیر ہنر مند افراد کو 100دنوں کے لیے یقینی روز گار فراہم کیا جائے گا ۔وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ خوشگوار موڈ میں پیش کیا اور بجٹ پر لفاظی رنگ بھی چڑھاتے رہے ۔بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے،اپوزیشن بھنویں چڑھاتی اور منہ بسورتی رہی جبکہ جے۔یو۔ آئی کے وزراء سیخ پا ہوتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس پر وزیر اعظم نے طنزیہ فقرہ کسا کہ جانا ہے تو استعفیٰ دیتے جاؤ ۔جو ہو ہر گز نہیں دیں گے ۔کیونکہ یہ ان کی پرانی معصومانہ عادت ہے جو وہ ہر دور میں اپناتے چلے آرہے ہیں وہ ایسے موقعوں پر بلبلاتے ضرور ہیں لیکن انتہائی قدم نہیں اُٹھاتے یہ ان کی شرافت سمجھئے۔میری نکی جئی استداء ہے کہ جن کو یہ بجٹ پسند نہیں وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ یہاں ایسے ہی بجٹ آتے اور جاتے رہیں گے ۔درحقیقت بجٹ لفظوں اور ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے جسے ہر حکومت اوپر نیچے ،آگے پیچھے کر کے اپنا جادو دکھاتی ہے ۔موجودہ پیچیدہ اور گھمبیر صورتحا ل میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے بجٹ کو من و عن قبول فرما لیجیے ورنہ آنکھیں اور کان بند کر کے لمبی تان کر سو جائیے ۔جب تک آپ اپنی عادت نہیں بدلیں گے اور حکمران اپنی خو نہ بدلیں گے پرنالہ وہیںرہے گاجہاں 63سال پہلے تھا۔اگر ہم سب بطور پاکستانی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو قصور ہمیں اپن ا ہی نظر آئے گا ۔کیونکہ جب ہم ووٹ کا استعمال کرتے وقت اس کی قیمت وصول پا لیں گے تو ایسے ہی بجٹ ہمارا مقدر بنتے رہیں گے ۔ہم نے جو 63سالوں سے رویہ اپنا رکھا ہے وہ حقیقتاً ہمیں دوزخ کی آگ میں دھکیل رہا ہے ۔سچ پوچھیئے تو یہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے کہ غلطیاں ہم خود کرتے ہیں اور لعنت بے چارے شیطان پر بھیجتے رہتے ہیں ۔قارئین ناراض نہ ہوں تو میں آخر میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ،ہم سب چور ہیں ،۔محب وطن ہوتے تو دیانتداری کا وصف ہمارے خون میں رچا بسا ہوتا۔میرا عاجزانہ مشورہ ہے کہ عوام اس بجٹ کو قبول کر لیں ورنہ حکمرانوں کو اپنا پیش کردہ بجٹ منوانا آتا ہے ۔اسی میں ہماری بہتری اور فلاح ہے ۔یہ سچی حقیقت ہے کہ جہاں عوام چور ہوں گے وہاں حکمران راہزن اور لٹیرے کیوں نہ ہوں گے ۔گھبرائیے نہیں میرا علم قیاس کہتا ہے کہ نومبر 2010ء انقلابی سیاسی تبدیلیوں کا مہینہ ہے کیونکہ اس بجٹ کی ہولناکیاں ضرور کوئی نہ کوئی گل کھلائیں گی ۔یہ نظام الٰہی ہے کہ ہر دکھ کے بعد سکھ اور ہر عروج کے بعد زوال ہوتا ہے ۔ہمارے حکمران اس بجٹ میں عروج دیکھ رہے ہیں جبکہ اپوزیشن زوال دیکھ رہی ہے ۔دیکھئیے یکم نومبر 2010ء کو عوامی افق پر لہلہاتی ،گنگناتی اور مسکراتی انقلابی سیاسی تبدیلیاں جسے ملک کا ہر غریب امیر ،کسان ،تاجر، ملازم،افسر اور مزدور دیکھنے کا متمنی نظر آتا ہے ۔
Shortlink: