![]() |
مغرب کی سامراجی اور استعماری قوتوں نے مسلمانوں کے درمیان پہلے تو نفاق کے بیج بو یئے۔ پھران ممالک کوجو سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھے انہیں آزادی کا جھانسہ دے کر ورغلایا۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت عثمانیہ جس کا قیام 1299 میں ہواتھا اور جو 1923تک قریباًسوا چھ سو سال تک اپنے پورے وقار کے ساتھ قائم رہی۔ جویورپ کے جنوب سے لے کر مغربی ایشیااور شمالی افریقہ تک 29 صوبوںکی شکل میںپوری آب وتاب کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی ۔ مسلمانوں کے اتحاد کی اس علامت کو مغرب کی سازشوں کے ذریعے توڑا گیا،اور عربوں کو ورغلا کر ان کے علاقوں کو چھوٹی بڑی کئی باد شاہتوں میں بانٹ کر مسلمانوں کے درمیان بڑا نفاق پیدا کیاگیا۔ جس سے دنیامیں مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ گئی سلطنت عثمانیہ کے پارہ پارہ ہوجانے کے بعدمسلمانوں کا اتحاد بھی ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔ 29 جولائی 1923 کومغرب کی سازشوںکے نتیجے میں ترکی کوجمہوریہ ترکی بنا دیاگیا۔ 1945 میںجنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر استعماری قوتو ں نے مسلم علاقوں کی مزیدبندر بانٹ شروع کردی ۔ 2 نومبر1917وزیر خارجہ برطانیہ کے اعلان بیلفور نے فلسطینیوں کو ہمیشہ کے لئے صہیونیو کی غلامی میں دیدیا۔ایک سازش کے تحت ساری دنیا سے یہودیوں کو لاکر فلسطین کی مقدس سر زمین پر آباد کیا گیاتاکہ یہاں پر یہودی بڑی تعداد میں بس جائیں تواسرائیل کی ریاست کی بنیاد رکھی جاسکے ۔ فلسطینیوں کی مفلسی سے فائد اٹھا کریہو دیوں نے ان کی زمینیںزبرد ستی اونے پونے خرید کر اس پر غاصبوںنے قبضہ جمانا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فلسطین کا بہت بڑا علاقہ یہودیو ں نے اپنے تصرف میں لے لیا۔ اس طرح 14مئی 1948کو اعلان بیل فور کے مطابق یہودیوں کی ناجائز اور سفاک ریاست فلسطین کی سر زمین پراسرائیل کا مکروہ نقشہ عربوں کے سینے پر بنا دیا گیا۔ اسرائیل اپنی پیدائش سے آج تک اپنے اُن محسن عربوں پر ظلم کے پہاڑ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر توڑتا رہاہے۔جو مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ سے خائف ہیں۔اسرائیل کے مظالم کی داستان عربوں کے خلاف اتنی طویل ہے کہ تاروں کی گنتی ختم ہو جائے گی۔مگر پھر بھی یہو دیوں کے مظالم کی داستان ادھوری ہی رہے گی۔گذشتہ سال ہی اس نے ہزاروں نہتے فلسطینی بچوں بوڑھوں اورخواتین کوایف 16 طیاروں کے ذر یعے فاسفورس بموں اور راکٹوں ۔ جلا کر خاک کر دیا تھا۔ان کے اسکول مساجد اور ہسپتال بلڈوز کر دیئے تھے۔غزہ کی پٹی کو محصور کر کے ان مجبوروں سے زندگی کا حق بھی چھین رہا ہے۔ ہولو کاسٹ پر واویلا کرنے والوں کو اسرائیل کا روزانہ کا ہولو کاسٹ کیوں نظر نہیںآرہا ہے۔جو روزانہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی شکل میں نمودار ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں 6 لاکھ محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لے جانے والے ترکی کے چھ بحری جہازوںاور کشتیوپر مشتمل قافلے پر۔جس میں تین چھوٹے بحری جہاز اور تین ہی مال بردار کشتیاں شامل تھیں۔اسرائیلی کمانڈوزنے سمندری بر بریت اور دہشت گردی کی بد ترین مثال قائم کرتے ہوے غزہ کی پٹی سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر بین الاقومی پانیوں میںتل ابیب کے وقت کے مطابق صبح پانچ بجے حملہ کر کے 20 کے قریب افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور تقریباً 60 افراد کو زخمی کر دیا جن میں زیادہ تعداد میں ترک شامل ہیں۔یہ لوگ کسی فوجی مشن پر نہ تھے۔ بلکہ یہ پریشان حال اور بے سروسامان محصور لوگوںکیلئے امدادی سامان لے کرجا رہے تھے۔جن میں حقوق انسانی کے کارندے، ترکی ، سوئڈن، ملائشیا، آئر لینڈاور فلسطین سمیت کئی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ بعض سفارت کاربھی شامل تھے۔ ان میں کئی میڈیا اینکر ز اور صحافی بھی شامل تھے جن میں تین پاکستانی بھی شامل تھے۔ ان لوگوں میں ایک نوبل انعام یافتہ شخص بھی شامل تھا۔امدادی سامان بین الاقوامی تنظیموں اور ممتاز شخصیات کے تعاون سے ترکی کی ایک تنظیم نے ان فلسطینیوں کیلئے اکٹھا کیا تھا۔ جنہیں اسرائیل نے گذشتہ چار سالوں سے محاصرے میں لیا ہواہے۔بڑی عجیب صورت حال ہے کہ اسرائیل کے اس غیر انسانی اور بہمانہ سلوک پر یورپی ممالک اور ان کا سردار امریکہ گذشتہ چار سالوںسے اغماض برتتے چلے آئے ہیں اور فلسطینی ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اسرائیل کے اس امدادی بیڑے پر حملے کی ساری دنیا نے تو مذمت کی ہے مگر امریکہ کا رویہ اس معاملے پر خاصہ محتاط نظر آتا ہے۔اس واقعے کے بعد ڈنمارک ،ترکی، سوئڈن، یونان، اسپین اور ناروے کی حکومتوں نے احتجاج کرتے ہوے اپنے سفیروںکو اسرا ئیل سے واپس بلا لیا ہے ۔ امریکہ نے اس واقعے پر صرف اتنا کہا ہے کہ حملہ افسوس ناک ہے۔جبکہ ترکی نے اس واقعے پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے سے قبل بھی ساری مہذب دنیا کے سامنے ہی اسرائیل نے درندگی کا وہ مظاہراکیا تھا جس سے ساری انسانیت لہولہان ہوگئی تھی۔ جس میں اسنے غزہ پٹی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ پوری پٹی پر اس قدر راکٹ برسائے گئے کہ کوئی جگہ ان راکٹ حملوں سے محفوظ نہ رہی۔ اس بر بریت میں اسرائیل نے 437 معصو م بچے،110خواتین، 225 معمر افرد اور1300جوانوںمتعدد مساجد ، بہت بڑی تعداد میں اسکول کئی کالجز حتیٰ یونیورسٹی کو بھی ان درندوں نے ڈھا دیا تھا ۔مگر بڑی عجیب بات اس دوران یہ دیکھنے میں آئی تھی کہ بھارت سے اپنے دیرینہ تعلقات کی بنا پر غزہ میں نہرو کے نام پر بنائی گئی یونیورسٹی کو اسرائیلیوں نے نہ ڈھایابلکہ اسکی کسی دیوار تک پر کراش تک نہ آئی تھی۔غرض یہ کہ پوری غزا کی پٹی کو یہودی درندوں نے بے تحاشہ بمباری کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔ اور انسانی حقوق کے چیمپین اس درندہ ریاست کو خاموشی کے ساتھ مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اسرائیلی درند گی کیخلاف اقوام متحدہ ابتک قریباً69 قرار دادیںمنظور کر چکی ہے مگر اسرا ئیل کو ان قرار دادوں کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ اس مرتبہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی اس بر بریت کے خلاف قرار داد مذمت منظور کی تو اسرائیلی وزیر خارجہ ایوا گد رائر مین نے اس کو بھی مسترد کرتے ہوے کہا کہ امدادی فوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈو ایکشن وقت کی اہم ضرورت تھی یہ کاروائی امن پسند لوگوں کے خلا ف نہیں تھی۔بلکہ ان لوگوں کے خلاف تھی جن کے پاس چاقو لوہے کے راڈ اور دوسرے خطر ناک ہتھیار موجود تھے۔ آج بھی اسرائیلی جیلوں میں2100 سے بھی زیادہ فلسطینی بچے خواتین اور مرد سخت اذیتیں جھیل رہے ہیں کہا جاتاہے کہ ان پر اسرا ئیلی مختلف خطر ناک ادیات بھی آزمائی رہے ہیں۔ جنکی وجہ سے کئی لوگوںکو خطر ناک عارضوں میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ ان مظلوم لوگوں کا کوئی پرسانِ حال ہی نہیں ہے۔ او آئی سی اور عرب دنیا کا وہ ردِ عمل اسرائیل حرکات پر نظر نہیں آتا ہے جس کیتوقع ساریمسلمامہ رکھتی ہے۔ ایک اور امدادی سامان کا جہاز غزا کے لوگوں کی امداد کی غرض سے آئر لینڈ سے روانہ ہوچکا ہے۔ جو غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑتے ہوے غزہ کی جانب بڑی تیزی سے رواں دواں ہے۔اس امدادی جہاز پر گیارہ ا مدادی کاکن جنبھی سوار ہیںجن میں اقوام متحدہ کا ایک سابق اہلکار وینس ہیل ڈے بھی شامل ہے۔ وینس ہیلی ڈے کا کہنا ہے کہ یہ امدادی جہاز اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک اسرائیلی اسے زبر دستی نہ روک لیں۔ دنیا کے اکثرلوگ فلسطینیوں کی اسی طرح مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اسرئیل کے ظالمانہ اقدامات ساری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ رہے ہیں۔مگر اسرائیل اپنی سفاکی اور ظالمانہ حرکتوں سے رک نہیں رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔جس کی وجہ بھی ساری دنیا جانتی ہے۔مغرب اور خاص طور پر امریکہ کا رویہ فلسطینیوںکو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ جس سے انصاف پسند دنیا میں ایک قسم کی بے چینی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔اس بے چینی کا خاتمہ کیا جانا دنیا کے امن کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔
Shortlink: