مغربی میڈیا کی درندگی اسرائیل سے بڑھ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: ایاز محمود۔۔نئی دہلی

مغربی میڈیا کی درندگی اسرائیل سے بڑھ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: ایاز محمود۔۔نئی دہلی #1

دھشت گردی کے خلاف اشتہارات کے ذریعہ جو جنگ لڑی جارہی ہے۔ اس کا مفہوم واضع طور پر مسلمان سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں۔ کہ دھشت گردی سے مقابلہ آرائی کا طریقہ کار کیا ہو۔ احتجاج جلسے جلوس ، پتلوں کو نذر آتش کرنے کا بھی سلسلہ ہے۔ اردو اخبارات میں مستقل اس کو مٹانے کے سلسلہ وار اشتہارات بھی جاری ہورہے ہیں۔ اس سے مقابلہ کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔۔ پھر بھی دھشت گردی اپنے شباب پر ہے۔ اور دھشت گرد اپنا کام دیکھاہی دیتے ہیں۔ ڈرون حملوں سے دھشت گردلوگوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ جن کو ڈرون حملوں سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ ان کے ذریعہ مارے گئے لوگوں کو کچھ دن کے بعد مغربی میڈیا ان کی ویب سائڈ کا حوالہ دیکر ان کو زندہ دیکھا دیتا ہے۔وزندہ کردیتا ہے۔دراصل دھشت گردی ایک بین الاقوامی سیاسی مہرہ ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں مداخلت کا ۔ امریکہ اور برطانیہ کی ایک جہد ہے کہ وہ تخیلی کیسٹوں میں اسلامی حلیہ لوگوں کو اپنے خلاف حملہ آور دیکھا تے ہیں۔ ان کی دھمکی آمیز خبریں از خود بڑے ممالک تیار کرتے ہیں۔ اگر آپ امریکہ کے لیڈروں کے بیان کا تجزیہ کریںگے۔ تو تصویر واضع طور پر مذید صاف ہوجائے گی۔ گذشتہ دنوں امریکہ کی وزیر خارجہ مسز ہلیری کلنٹن نے بیان جاری کیا کہ القاعدہ و طالبان ۔ اٹیمی ہتھیاروں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ دو روز بعد امریکہ کے صدر مسٹر بارک اوبامہ کا بیان آیا کہ القاعدہ و طالبان تو ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کرسکے ہیں۔ دھشت گردی کی یہ تشہیر دیکھئے کس طرح کی جارہی ہے۔ القاعدہ و طالبان تو کیا جو لوگ یا تنظیمیں تخیلی ( خیالی طور پر تیار کردہ ) کیسٹوں سے امریکہ کے خلاف دھمکیاں چھوڑتی ہیں۔ وہ ایک تیار کردہ مہم ہے۔ جس کا واضع مقصد مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنا ہوتا ہے اور اس طرح اسلام و مسلمانوں کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو امریکہ دھشت گرد کے خطاب سے نواز تا ہے۔ ان کی طرف سے ابھی تک کوئی کیسٹس اٹیمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے ، ان کے ذریعہ سے حملہ کرنے کی نہیں آئی ۔ مگر ایسے خدشات کی تشہیر کی گئی۔ اور اس کا پروپیگنڈہ امریکی صدر اوبامہ اور ہلیری کلنٹن کی زبان سے کرایا گیا۔ اب القاعدہ و طالبان کا کوئی بیان اس تعلق سے ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ اگر وہ ایسا بیان دیتے ہیںتو یہ اوبامہ و کلنٹن کے بیا ن کی ترجمانی ہوگی۔ جس کو وہ دھشت گرد تخلیقی کیسٹوں سے انجام دیں گے۔جب فضائی ملکوں میں آباد یہ القاعدائی اور طالبانی لوگ دھمکی آمیز بیان تخلیقی کیسٹوں سے جاری کریں گے۔ تو اوبامہ اور ہلیری از خود اپنی پیٹھ تھپ تھپائیں گے۔ کہ ہم نے پہلے ہی کہ د یا تھا۔ کہ ایسا ہوگا۔ دھشت گردی پھیلانے کی ڈرامہ بازی اور پھر اس کو مٹانے کی ڈرامہ بازی کے ذریعہ دوسرے ملکوں میں مداخلت کیلئے راستہ ہموار کیا جاتا ہے۔ جو لوگ دھشت گردی کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ وہ دھشت گردی ختم کرنے کیلئے کام نہیں کررہے ۔ بلکہ اس کو پھیلانے کیلئے کام کر تے ہیں۔دھشت گردی کے پروپیگنڈہ سے پتہ چلتا ہے۔ کہ دھشت گردی کے وجود کو اس کی تشہیر کرکے روزانہ تروتازہ کیا جاتا ہے۔ فی الوقت امریکی انتظامیہ تخیلی کیسٹوں سے اپنے خلاف پُر فریب دھمکیاں لاتی ہے ۔ اور پھر ترقی پذیر ملکوں میں مداخلت کر ان پر قبضہ جما کر دھشت گردی کو سمیٹ دینے کی باتیں کرتی ہے۔ دھشت گردی کی پھیلاوٹ مغربی ممالک کا ایک سیاسی کھیل ہے۔امریکہ نے ٹائمز اسکوائر پر دھشت کا پروپیگنڈہ کرکے ایک امریکی نزاد پاکستانی کو گرفتا ر کرکے اس کے تار پاکستان سے جوڑ دئے۔چونکہ امریکہ نے ایران کو کمزور کرنے کیلئے اس پر قبضہ جما نا ہے۔ تو ایران پر قبضہ جمانے کیلئے اس کو پاکستان کا ساتھ چاہئے۔ اس کے ساتھ دینے کے پاکستانی حکمرانوں کے ٹال مٹول رویہ سے پریشان امریکہ نے اس کو اپنے ساتھ جُڑنے پراس طرح مجبور کردیا۔امریکی انتظامیہ نے پہلے بھی افغانستان میں مداخلت کیلئے پاکستان کی مددلی تھی۔ اب اس کو ایسی ہی مدد ایران میں مداخلت کیلئے چاہئے۔ ٹائمز اسکوائر پر دھشت کی تشہیر سے وہ اپنے مداخلت کے مشن کو پورا کرلینا چاہتا ہے۔ بہرحال القاعدہ و طالبان کے ذریعہ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کی جو کوشیش کی جارہی ہے۔۔ یہ ہی ایک خاص وجہ ہے ۔ جس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ ان سے ایسے بیان منسوب ہوتے ہیں۔ جو آئندہ تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ کے خلاف جاری ہوں گے۔ اگر امریکہ کے خلاف القاعدہ و طالبان کی دھمکیوں کا بازار لگنا بند ہوجائے ۔ تو یہ دھشت گردی کے خاتمہ میںبڑی کامیابی ہوگی۔ہندوستان و دیگر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ ہے۔ جو مغربی میڈیا کی تشہیر کی گئی خبر پر احتجاج پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جب وہ مذہب اسلام کو دھشت گرد میں تبدیل کرنے کیلئے القاعدہ و طالبان کی تحریک جو مغربی میڈیا کی پید ا کردہ ہے۔ اس کو آگے بڑھاتا ہے۔تو اس پر احتجا ج کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ۔حالانکہ یہ اسرائیلی درندگی سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے۔ کیونکہ اس سے وہ ناصرف مسلمانوں پر حملہ آور ہے۔ بلکہ مذہب اسلام کے وجود کو ہی خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔مذہب اسلام کو ماننے والے لوگوں کا حلیہ ۔ دھشت گردلوگوں کے طور پیش کیا جارہا ہے۔ مگر اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ابھی حال میں القاعدہ کے ایک لیڈر کو ڈرون حملوںمیں ہلاک کیا گیا ہے۔ جس کو اسامہ بن لادن اورالظواہری کا قریبی ساتھی بتا کر اس کی شہرت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کو مغربی میڈیا کے ذریعہ کسی اسلامی ویب سائد کا حوالہ دیکرپھر زندہ کردیا جائے گا۔اس لئے القاعدہ و طالبان تحریک ایک اسلام دشمن تحریک ہے ۔ جس کا وجود مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کی غرض سے ہوا ہے جو تحریکیں اسلامی حلیہ میں امریکہ کو دھمکیاں دیتی ہیں۔دھمکیاں حاصل کرنے والا ملک ہی ان کی سرپرستی کرتا۔ اس لئے کہ وہ ان ہی کی مہم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔لہذا ۔ اب مسلمانوںکو دھشت گردی کے پروپیگنڈہ سے بچنا چاہئے۔ القاعدہ و طالبان و دیگر دھشت گردوں کے دھمکی آمیز بیان جو امریکہ کے خلاف سلسلہ وار آرہے ہیں۔ اس پر روک لگانے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ کیا دھشت گردی کے خلاف اشتہارات اسلام دشمنوں کو تقویت پہنچانے کی مہم کا حصہ ہے؟ کیا دھشت گردی کا پروپیگنڈہ از خو د اسلام کے خلاف ایک سازش ہے؟۔ جب دھشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تو اس کو اسلام اور مسلمانوں سے کیوں منسوب کیاجاتا ہے۔ اور اس سے مقابلہ آرائی اور اس سے جنگ کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ بلکہ یہ موضو ع مسلمانوں کی بدنامگی کیلئے چھوڑا جاتا ہے۔ وہ تو اس کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم بھی اس پروپیگنڈہ میں شریک ہوجاتے ہیں۔تو پھر ہم میں اور اسلام دشمنوں میں کیا فرق رہ گیا۔ وہ دھشت گردی کا پروپیگنڈہ کرکے اپنے مفاد کو حاصل کرتے ہیں۔ اور ہم آخر کون سے مفاد کی طرف گامزن ہیں۔علاوہ اپنی توانائی اور پیسہ ضائع کرنے کے۔بہرکیف اشتہارات نکالے جائیں۔ بس اس کا طریقہ تبدیل ہونا چاہئے۔ کہ فضائی ملکوں میں آباد القاعدہ وطالبان کے تخلیقی و تخیلی کیسٹوں کی کسی بھی چینل سے اشاعت پر عالمی پابندی عاید ہونی چاہئے۔ اور دھشت گردو ں کے ارادوں کے پروپیگنڈہ کو پڑھ کرسنانے پر بھی لگام لگنی چاہئے۔ اوریہ اب بند ہونا چاہئے۔، عالم میں پھیلی دھشت گردی مٹانے کیلئے ۔۔۔ القاعدہ وطالبان کی کیسٹوں پر پابندی لگاؤ۔،، آتنک واد ی پرو پیگنڈہ بندہو، بند ہو۔،۔۔،میڈیا میں نا آئے کوئی مسلم نام۔ مسلمانوںکی ایک ہی پہچان۔دنیا کرے جنہیں سلام۔،، اسلام کا ایک ہی پیغام ۔دنیا میں رہے امن و امان۔۔! اب اشتہارات کے ذریعہ مسلمانوں کو مذکورہ یہ نعرہ لگانا چاہئے۔کیونکہ دھشت گردی میں اس کے پروپیگنڈہ کی وجہ سے اضافہ ہے۔اور امریکہ کو دھشت گرد صرف دوسرے ترقی پذیر ملکوں میں مداخلت کی خاطر ہی نظر آتے ہیں۔جس دن وہ مداخلت کی روش ترک کردے گا۔ پھر دنیا کہیں بھی دھشت گرد دیکھائی نہیں دیں گے۔اور پھر دنیا امن کی جانب رواں دواں ہوگی۔ہنوز ۔ مغربی میڈیا کی درندگی اسرائیل سے بڑھ کر ہے۔ اسرائیل تو انسانیت کا دشمن ہے ۔جبکہ امریکہ مذہب اسلام کا دشمن ہے۔ جوالقاعدہ و طالبان کے حوالہ سے ، تخیلی کیسٹوں سے، ڈروں حملوںسے سلسلہ وار دھشت گردی کے الزامات مسلمانوں پر تھوپ کر مذہب اسلام کو بدنام و غیر مسلم دنیا کے سامنے رسواکرر ہا ہے۔اس پر احتجاج ابھی تک کیوں نہیں۔کیا مذہب اسلام کا احترام کرنے والے کم لوگ رہ گئے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف شدت سے احتجاج اور مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب بنانے والوں کیلئے خاموشی کا راز کیا ہے؟اسرائیل درندگی کو عالمی برادری سنجیدگی سے لے ۔ مگر مغربی میڈیا کی مذہب اسلا م کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کی درندگی سے مقابلہ کون کرے۔اس سمت ابھی تک کسی کا کوئی اشتہار منظر عام پر نہیں آیا۔۔؟اسلام اور مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے اردو اخبارات میں ایسے اشتہار کی ضرورت درپیش ہے۔آخر اسلام سے عقید ت کا بھی تو اظہار ان لوگوں کو کرناچاہئے ۔ یا پھر اس موضوع پر سیاست ہی ہوتی رہے گی۔کہ اس انسانیت دشمنوں کی مخالفت ، اور اسلام دشمنوںکی حمایت یہ تضاد کیوں ہے ۔

Shortlink: