مقصدمیلادِمصطفےٰ ﷺ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:شاہد اقبال شامی
February 25, 2010
![]() |
کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی
نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی پسینے پسینے ہوا جاتا ہو کہاں یہ زباں اورکہاں نام نامی ربیع الاوّل کا مبارک مہینہ آتے ہی ہر طرف فضائے درودوسلام کی آوازوں سے مہکنے لگتی ہیں اور مہکے بھی کیوں نہ کیوں کہ اس ہی مہینے میںایک ایسی شخصّیت کی ولادت ہوئی جس کے آنے سے دنیا معّطرہوگئی ،بے کسوںوبے اختیاروں کو اختیار مل گئے،یتیموں کو سہارہ ملا،عورتوں کو ان کے حقوق ملے،بگڑے ہوئے انسان جو اس سے پہلے انسانیت کو بھول چکے تھے جن کے کاموں سے حیوانیت بھی شرماتی تھی ان کو انسانیت کی معراج ملی۔ مجھ سے پہلے لاکھوں علماء،سلحاء،اکابر،ادیب ،لکھاری اورشاعر آپ ﷺکی تعریف و منقبت کوکرتے کرتے ان کی سانسیں اکھڑ گئی ،قلمیں ٹوٹ گئی اور وہ خود قبروں کے پٹا رمیں اتر گئے پھر بھی آپﷺ کی زندگی کا احاطہ کرنا تو دور کی بات ایک پہلو کو بھی مکمل نہ کر سکے۔اتنے بڑے بڑے لوگوں نے آپﷺ کی تعریف کی لیکن پھر بھی آپ کی تعریف کا حق ادانہ کرسکے، تو میں کیا اور میری اوقات کیا،اس لئے ابوالکلام آزاد کے الفاظ پرہی اکتفا کرتا ہو،وہ آپﷺ کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ،،رات لیلتہ القدر بنی سنوری ہوئی نکلی اور خیرمن الف شھر کی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل گئی۔موکلان شب قدر نے من کل امر سلام کی سیجیں بچھا دیں۔ملائیکان ملاء اعلیٰ نے تنزل الملٰئکۃ والروح فیھا کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کردیں۔ حوریں باذن ربھم کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں اور ھی حتیٰ مطلع الفجر کی میعادی اجازت نے فرشتگان مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصّت دے دی۔تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے پہلے عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے۔چاند نکلا اور اس نے فضائے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا۔آسمان کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں۔بروج نے سیاروںکے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں۔ہوا جنبش سے،افلاک گردش سے، زمیں چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے۔ کارخانئہ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا۔انتظام واہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کو جھپکا دیا، نسیم سحری کی آنکھیں جوش خواب سے بند ہونے لگیں۔ پھولوں میں نکہت،کلیوں میں خوشبو،کونپلوں میں مہک محو خواب ہو گئی۔درختوں کے مشام خوشبوئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہو کر سر بسجود ہو گیا۔ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سر جھکانے کے بہانے آنکھ جھپکائی۔ برہمن سجدے کے حیلے سر بہ زمین ہو گیا۔غرضیکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کے لئے غیر متحرک ہو گیا۔اس کے بعد وہ لمحہ آگیا،جس کے لئے یہ سب انتظامات تھے۔فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمیں پر اترنے لگے اور دنیا کے جمود میں ایک بیدار انقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتاہوا نظر آنے لگا۔ملہم غیب نے منادی کی کہ افضل البشّر،خاتم الانبیاء،ساپردئہ لاہوت سے عالم ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں۔رات نے کہا:میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے کہ گوہر رسالت کو میرے دامن میں ڈال دیا جائے۔دن نے کہا:میرا رتبہ رات سے بلند ہے، مجھے کیوں محروم رکھا جائے۔دونوں کی حسرتیں قابل نوازش نظر آئیں۔کچھ حصّہ دن کا لیا،کچھ رات کا۔نور کے تڑکے نور علیٰ نور کی نورانی آوازوں کے ساتھ دست قدرت نے دامن کائنات پر وہ لعل با بہا رکھ دیا، جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر کے ظلمت کدے منور اور روشن ہو گئے۔سرزمیں حجاز جلوئہ حقیقت سے لبریز ہو گئی۔دنیا جو سرورو جمود کی کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی۔ پھولوں نے پہلو کھول دیے،کلیوں نے آنکھیں وا کیں،دریا بہنے لگے،ہوائیں چلنے لگی،آتش کدوں کی آگ سرد ہو گئی،صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی،لات ومنّات،حبل وعزّا کی توقیر پامال ہونے لگی،قیصر وکسریٰ کے فلک بوس بروج گر کر پاش پاش ہو گئے،درختوں نے سجدئہ شکر سے سر اٹھایا،رات کچھ روٹھی سی،چاند کچھ شرمایا ہوا سا،تارے نادم ومحجوب ہو کر رخصّت ہوئے اور آفتاب شان وفخرکے ساتھ مسرت ومباہات کے اجالے لیے ہوئے کرنوں کے ہار ہاتھ میں،قندیل نور تھال میں،ہزاروں نازوادا کے ساتھ افق مشرق سے نمایاں ہوا۔حضرت عبداللہ کے گھر میں، آمنہ کی گود میں، عبدالمطلب کے گھرانے میں،ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس مکان میں خلاصّہ کائنات ،فخر موجودات،محبوب خدا،امامالانبیاء،خاتم النبین،رحمتہ اللعلمین یعنی حضرت محمّد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرمائے بصد عزوجلال ہوئے۔سبحّان اللہ ربیع الاوّل کی بارویں تاریخ کتنی مقدس جس نے ایسی سعادت پائی اور پیر کا دن کتنا مبارک تھا جس میں حضور ﷺ نے نزول اجلال فرمایا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین ،، آج ہم نبی ﷺ کا دنیا میں آنے کا مقصد بھول چکے ہیں ،کہ ان کو دنیا میں کیوں بھیجا گیا؟دنیا میں ان کا تکالیف اٹھانے کا مقصد کیا تھا؟انہوں نے ہمیں کیا سبق دیاکہ زندگی کس طرح گزارنی ہیں؟اپنوں اور دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملات رکھنے ہیں؟ آج ہم ان کے آنے کا مقصد بھول چکے ہیں،ہم آپﷺ سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن آپﷺ کی سیرت کو اپنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ،ہم صرف میلاد والے دن جھنڈے لگاکر،نعتیں پڑھ کر،چاول پکااور کھاکر تمام فرائض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اوریہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک دن نبی کا منا کر تمام احسانات کا بدلہ چکا دیااوراب ہمیں اور کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں،لیکن ایسا نہیں ہے ،یہ دن تجدید عہد کا دن ہے ،کہ آج ہم اپنے دل سے عہد کریں کہ ہم آپﷺ کی دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھ کر اپنانے کی کوشش کر یںگے اور اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں گے۔ انشاء اللہ



