![]() |
موت سے ایک قدم اورچندقدم دورکی کہاوت تو سنی ہے مگرپانچ فروری کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جناح اسپتال بم دھماکے میں جس قسم کے ناگہانی حادثے کا سامنا کیا مجھ سمیت کئی ہم منصب دوستوں کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا ، ہیڈ انجری کے بعد سامنے آنے والے میڈیکل نتائج سیپتہ چلاکہ موت مجھ سے چند قدم نہیں صرف ایک انچ دورتھی۔شہر قائد میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو یہ اسلام آباد لاہور اور پشاور میں ہونے والی دہشت گردی سے مختلف نظر آتی ہے، لاہور پشاور اور اسلام آباد مین زیادہ تر خودکش حملے کئے جاتے ہیں جبکہ کراچی میں یوم عاشور اورچہلم پر کیے جانے والے دھماکے کسی بھی طور خودکش نہ تھے ، چہلم کے دن ہونے والے دھماکوں کے بارے میں تو وزیر داخلہ تسلیم کر ہی چکے ہیں کہ یہ خودکش نہ تھے، گویا جن مقامات پر خودکش حملہ آور تیار کئے جاتے ہیں، ان مقامات سے خودکش بمبار تیار کرکے کراچی جیسے دور دراز شہر میں بھیجنا مشکل امر ہے لہٰذا عروس البلاد کو ریموٹ کنٹرول دھماکے کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتاہے۔ خودکش حملہ آوروں کو تیار کرنے کا مقام کیا ہے؟ اب تک کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ مقام صوبہ سرحد میں پشاور سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے کیونکہ خودکش حملوں کے ماسٹر مائینڈز نے جب چاہا پشاور میں دھماکہ کیا، صرف یہی نہیں جس مقام پر چاہا دھماکہ کیا، اسلام آباد اور لاہور چونکہ پشاور سے قریب نہیں اور ان شہروں میں میڈیا کا شوروغوغا زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان شہروں کو بھی خصوصیت سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کراچی میں سیکورٹی بہت سخت ہے لیکن جب ہزاروں لوگ سڑکوں پر آجائیں تو کہیں نہ کہیں سیکورٹی کا خلا رہ جاتا ہے اور دہشت گردوں نے ہمیشہ اسی خلا کا فائدہ اٹھایا ،ایک ہی روز کربلا (عراق) اور کراچی میں اہل تشیع کے جلوسوں پر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان واقعات میں کوئی ایسا گروہ ملوث ہے جو اہل تشیع کے ساتھ عداوت رکھتی ہے اور اس کے کارندے دنیا بھر میں موجود ہیں، کراچی میں درجنوں مقامات ایسے ہیں جہاں روزانہ عوام کا جم غفیرہوتا ہے’ اگر مقصد صرف دہشت پھیلانا ہی ہو تو ان میں سے کسی بھی مقام پر کسی بھی وقت دھماکہ کیا جاسکتا ہے،حالیہ دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی میں اہل تشیع کو خصوصیت سے نشانہ بنایا جارہا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل تشیع بہت کھل کر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور اس فکر و فلسفے سے شدید نفرت کرتے ہیں جس کے تحت لوگوں کو خودکش حملہ آور بنایا جاتا ہے۔ ماضی کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے عراق میں صدام حسین کی سنی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار شیعہ مسلمانوں کے حوالے کیا ، بعض عالمی سنی تنظیموں کو یہ شکوہ بھی ہے کہ عراق کے شیعہ مسلمان امریکہ کے خلاف ایک خاص سطح سے آگے نہیں بڑھے،یہی وجہ ہے کہ ہر سال جب بھی عراق کے شیعہ مسلمان اپنی مذہبی رسومات اور روایات کو پورا کرنے کے لئے باہر نکلتے ہیں تو ان پر حملہ ہو جاتا ہے۔ طے شدہ امر ہے کہ کراچی میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے کوئی مقامی شیعہ سنی تنازعہ ہرگز نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ کسی سنی پاکستانی تنظیم کا ان دھماکوں میں ہاتھ ہو، ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ماضی میں جو سنی مسلمان شیعہ مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں’ انہیں ان بم دھماکوں میں استعمال کیا گیا ہو، پاکستانی عوام کی اکثریت بے گناہ لوگوں کا خون بہانا پسند نہیں کرتی بلکہ اس طرح کی سوچ سے بھی نفرت کرتی ہے ،یہ بات بھی اہم ہے کہ معصوم لوگوں کا خون بہانا چھوٹی موٹی تنظیموں کے بس کی بات نہیں ہے، اس طرح کی درندگی کا مظاہرہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو انتقام لینے پر آمادہ ہوں، بم فکس کرنے اور ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کرنے والے تو کیرئیر ہوتے ہیں، کسی روبوٹ کی مانند کام کرتے ہیں، اصل لوگ وہ ہوتے ہیں جو بے گناہ لوگوں کو مارنے کا منصوبہ بناتے’ اس کے لئے وسائل اکٹھے کرتے اور پھر اپنے تابعدار لوگوں کو حکم جاری کرتے ہیں کہ فلاں جگہ پر دھماکہ کردو۔ حکومت کراچی سمیت ملک بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعات سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی ،اہم سوال یہ بھی ہے کہ نومحرم تک دو بم دھماکے ہونے اوریوم عاشورپربم دھماکے کے باوجود وزارت داخلہ بہتر منصوبہ بندی کیوں نہیں کرسکی؟ اس مسئلے پر وزارت داخلہ کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے، یوم عاشور بم دھماکے کی اب تک کی تحقیقات ماضی کی انکوائریوں سے مختلف نہیں ہے ،اس سے قل بھی اکثر اسی طرح ہوتا رہاہے کہ جائے وقوعہ سے انسانی سر مل جانے پر اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے اور دھماکے کو خود کش قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر کسی نامعلوم تنظیم پر ذمہ داری ڈال کر تحقیقات کے عمل کو بندگلی میں کھڑا کر دیا جاتا ہے،سانحہ کراچی میں جہاں متعلقہ حکومتی اداروں کی غفلت و لاپرواہی ہدف تنقید ہے وہیں حکومت کی جانب سے نرسری اورجناح اسپتال بم دھماکہ متاثرین کو فوری علاج معالجے کے لیے اعلی ترین اسپتالوںمیں منتقل کرنے کا فوری فیصلہ ایک مثبت پیش رفت تھی ،زندگی دینے والی ہستی تو بہرحال خالق کائنات ہے لیکن جناح اسپتال بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد کشت وخون کے ہجوم سے صحت یابی تک ، خود پربیتنے والے آزمائشی مراحل کی سختیوں کو یاد کیا جائے تو دل بے ساختہ پکاراٹھتاہے کہ، بروقت بہترین طبی امداد کی فراہمی کا حکومت سندھ کا دانشمندانہ فیصلہ مجھ سمیت کئی انسانوں کے لیے نئی زندگی کا سبب بنا ہے، طویل وقفے کے بعد میری پہلی تحریر اسکا بین ثبوت ہے۔
Shortlink: