ن لیگ ٹریپ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گیم کامیاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

ن لیگ ٹریپ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گیم کامیاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید #1

پنجاب اسمبلی نے آمرانہ ا دوار کی یادیں میڈیا اور صحافیوں کے خلاف شرمناک قرار داد متفقہ طورپر پاس کر کے تازہ کر دی ہیں۔کئی لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ جعلی ڈگری ہولڈرز کا ردِ عمل تھا ۔جس کو بھر پور انداز میں سامنے لانے کی بھونڈے اور مذموم طریقے پرکوشش کی گئی ہے۔ق لیگ اور پیپلز پارٹی نے بڑے سلیقے کے ساتھ اپنے پتے کھیلے ہیں۔ثناء اﷲمستی خیل جو ماضی میں ق لیگ کے سر گرم رکن اورآمر جنرل مشرف کے مداح خواہ رہے ۔آج تین جیز کی مخالفت کس منہ سے کر رہے ہیں؟ان کی انگریزی کا یہ عالم ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جنرل جے سے نہیں بلکہ جی سے لکھا جاتا ہے۔پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہوکر اور مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے عدلیہ اور صحافیوں کی مخالفت کرنا اس بات کی غما ضی ہے کہ مسلم لیگ کی ساکھ کو بگاڑنے کیلئے اورمیڈیا اور عدلیہ سے مخاصمت پیدا کرانے کی بھی یہ ایک خطر ناک کوشش کہی جاسکتی ہے ۔ اس میں زیادہ بڑا کردار جعلی ڈگر حاصل کرنیوالوں کا بھی کہا جاسکتا ہے۔ن لیگ ٹریپ ہوگئی جعلی ڈگریوں پر پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گیم کامیاب !مگر بڑی عجیب بات یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر بیٹھ پیپلز پارٹی جو پہلے ہی عدلیہ اور جوڈیشری کی شدید مخالف ہے اور ق لیگ جو شریف برادران اور ان کی پنجاب حکومت کی شدید مخالف ہے نے قرار دا کے حق میں دھواں دار تقاریر بھی کیںمیڈیا اور صحافیوں پردشنام طرازی بھی کی۔باہر آ کر دونوں پارٹیاں بھولی بن گےئں اور اپنی ہی متفقہ قرار داد کی مخالفت میں دھواں دار تقریریں شروع کر دیں۔یہ عوامی مسائل پر تو کبھی بھی متحد نہ ہوے تھے مگر تعجب کی بات غلط کام یعنی جعلی ڈگریوں کے معاملات پر سب متحد ہوگئے۔ پنجاب اسمبلی نے جو قرار داد مذمت میڈیا کے خلاف منظور کی اس میں ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں کی طرف سے سیاسی رہنماؤں کے متعلق غیر ذمہ دارانہ پرو پیگنڈے کا الزام عائد کرتے ہوے میڈا کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔یہی وجہ تھی کہ تمام صحافی قرار داد کی منظوری پر سخت احتجاج کر تے ہوے پریس گیلری سے اسمبلی کی کاروائی کا بائیکاٹ کرکے نعرے لگاتے ہوے باہر آگئے اور قرار داد کی کاپیوںکو نذرِ آتش کر دیا۔ جس کی تفصیلات اس طرح ہیں کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم ن کے صوبائی رکن اسمبلی ثناء اﷲمستی خیل نے ایک قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر پنجاب اسمبلی میں بیٹھے تمام ارکان بمعہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے منظور کر لیا گیا۔اس دوران ق لیگ اورپیپلز پاٹی کے ارکانِ اسمبلی نے ایوان میں میڈیا کے خلاف جی بھر کے شدید تنقید کی اورمیڈیا کو ملک میں خانہ جنگی کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ اجلاس گذشتہ کافی عرصہ سے ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں جمہو ری اداروں، سیاسی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کے بارے میںکئے جانے والے غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈے کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور اس را ئے کا حامل ہے کہ یہ پروپیگنڈہ پاکستان میں جمہویت کے مستقبل اور آئین و قانون کے کی بالادستی کے حوالے سے منفی اثرات کا حامل ہو سکتاہے۔اس ایوان کے تمام اراکین متفقہ طو رپرجمہوری اور عوامی نمائندوںکے خلاف شروع کی جانیوالی اس غیرضروری پروپیگنڈہ مہم کی مذمت کرتے ہیں۔اور میڈیا کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ ملک وقوم کے وسیع تر مفادمیںجمہوری اداروںاور سیاسی رہنماؤں کے بارے میں بے بنیااور بلا تحقیق توہین آمیز غیر ذمہ دارانہ خبریں پیش کرنے سے احترز کرے۔یہ ایوان پوری دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ بعض چینلزنے اس ایوان کی معزز خواتین کی فٹیج پر منفی اور بیہودہ بھارتی گانوںکے ساتھ پرو گرام پیش کر کے غیر ذمہ دارانہ روایات کی بد ترین مثال پیش کی ہے۔ میڈیا پرلگائے گئے الزامات نہایت ہی بھونڈے ہیں۔جن کو سول سوسائٹی کے ہر طبقے نے شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ جس سے حکومت کے سیاسی کھلاڑیوں کی نیتوں کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں رہا اور جب صحافی پریس گیلری سے باہر نکل رہے تھے تو ارکان پارلیمنٹ نے تو اخلاقیات کا جنازہ ہی مغلضا ت بک کر نکالدیاتھا۔بے ہودگی کا مظاہرہ توخود معزز کہلانے والے ارکان پارلیمنٹ نے ناصر ف اپنی تقاریر میںبلکہ پالیمنٹ سے باہر بھی گالیوں،رپو رٹر وں کو تھپڑوں اور مکے بازی سے کیا اس کو پارلی منٹیرین کیا کہیں گے؟؟؟ جب یہ سب کچھ نہایت منظم انداز میںکر دیا گیا تواب ہر جانب سے اس کی مخالفت میں بیان بازی کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا گیاہے۔ ہر سیاسی کھلاڑی نے اپنی پاکیزگی کی قسمیں کھانا شروع کردیں۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ میڈیا پر کسی قسم کی قدغن لگانے کے حق میںنہیں۔پاکستان کے تمام ادار ے تعمیر نو کے عمل سے گذرر ہے ہیں۔اس لئے ہر ادارہ دوسرے ادارے کو خطرہ سمجھ رہا ہے۔ دوسری جانب سیاسی رہنماؤں نے اس قرار داد کو آزادیِ صحا فت پر شرمناک حملہ قرار دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے قرار دا کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سیکر یٹر ی اطلاعات فوزیہ وہاب نے بھی پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف منظور کی جانے والی قرار داد کو قابل مذمت کہا ہے۔پی پی پی کے وہ لوگ جو ایوان میںبیٹھ کر میڈیا کے خلاف بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ۔باہر آکر ایسے معصوم بن گئے کہ جیسے ان سے بڑا معصو م تو کوئی ہے ہی نہیں ۔یہی حال ق لیگ کے لوگوں کا ہے کہ گویا اب ان سے بڑا کوئی معصوم ہے ہی نہیں۔ اب تو گونر پنجاب سلمان تاثیر بھی گلا پھاڑ پھاڑ کر میڈیا کے فیور میں بول رہے ہیں ۔ کل تک سب کو میڈیا سے پِیڑ تھی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سربراہ نے پانی سر سے گذرتا دیکھ لندن میں اپنی ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں میڈیا پر کئے جانے والے حملے کی شد ید الفاظ میں مذمت کرتے ہوے اپنی پارٹی کو حکم دیا ہے کہ مستی کی بدمستیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور اس کو فوری طور پر پارٹی سے باہر کر دیا جائے۔اور میڈیا سے معافی مانگی جائے۔کیونکہ میڈیا کے خلا ف قرار داد بد نیتی پر مبنی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدلیہ کی بحالی میں میڈیا نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔میڈیا پر پابندی قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،جعلی ڈگری والے ناقابلِ معافی ہیں۔ اس حوالے سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا بھی کہنا ہے کہ صحافیوں کا غصہ جائز ہے۔مل بیٹھ کر بات کریں گے۔میڈیا کے خلاف پاس ہونے والی قراردا پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ در اصل یہ سب جا دو جعلی ڈگریوں کا ہے ۔جو اسمبلی میںبھی سب ہی کے سر چڑھ کے بول رہا ہے۔چودہ ارکان تو اب تک اس حوا لے سے اپنی بلی بھی چڑھا چکے مگر ان میں سے دو نے تو نرواں بھی حاصل کر لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق (150) ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکانِ اسمبلی کی ڈگریاں جعلی ہیں!!!اور تو اور ہمارے پوتر وزیر قانوں جو عدلیہ سے کہتے ہیں کہ تم تاریخیں دیتے رہو ہم تاریخ بناتے رہیں گے؟ ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی جعلی ثابت ہوچکی ہے !!! ہائرایجوکیش کمیشن نے بھی ان ڈگری جالی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔واہ کیا خوب تاریخ ہمارے وزیر قانون بنا رہے ہیں …!!! جعلی ڈگریوں کی بھی بڑی عجیب کہانی ہے کہ صرف ایک ڈسٹرک بار کی 44 ڈگریاںجعلی ثابت ہو چکی ہیںجبکہ پنڈی بار کے ہی 300 جعل ساز فرار ہیں۔جب انصاف دلانے والوں کی بے ایمانی کا یہ حال ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عوام کو کیسا انصاف دلاتے ہوںگے ۔ہر جانب کاروبار کا بازا ر گرم ہے…کیا ایسے لوگ جعلی ڈگریوں کی چھان بین ہونے دیں گے!! اور یہ ہی قانوں کے رکھوالے آج لاہور میں ججزکو ذلیل کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔کیونکہ شائد انہیں ان کی من مرضی کاانصاف نہیں مل پا رہا ہے۔جس کی وجہ سے وکیل گیری کا بلیک بازار گرم ہے۔ یہ وہ ہی لوگ ہیں جو چا ر ٹرڈ طیاروں کے ذریعے لائی گئی رقوم سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ان کے علاوہ میڈیکل کی ڈگریاںبھی پی ایم ڈی سی نے بڑی تعداد میں جعلی پکڑ کر ایف آئی اے کے حوالے کی ہیں۔ اُف خدایا یہ اس ملک میں کیسا غضبناک جعل سازی کا بازار گرم ہے!!!میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر پورے ملک میں تمام ڈگری ہولڈرس کی یونیورسٹیوں سے تصدیق کرائی گئی توسرکا ر ی اور نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والو ں میں سے 25 فیصد کے قریب جعلی ڈگری ہولڈر نکلیںگے۔ جس کے نتیجے میں بڑے خوبصو رت چہروں پر بھی کالک ملی نظر آئے گی۔ صوبہ سندھ کا حال اس میںسب سے بُرا ملے گااور خاص طورپر سندھ کے گورنمنٹ ملازمین میں دہی اور سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد جعلی ڈگری ہولڈرس کی مل جائے گی۔ مگر سندھ کھپے کے نعرہ زن کبھی بھی اس کی تحقیق نہ ہونے دیں گے اور یہ یوں ہی آمروں کے بڑھائے ہوے کوٹہ سسٹم پر شہریوں کا استحصال بھی جاری رکھیں گے۔ ۔اس ملک میں ظلم کا عفریت طاقتور ترین ہے اور مظلوم کی کوئی آواز بھی سننے والا ہی نہیںہے۔جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدیناحمد کا تو کہنا یہ ہے کہ ان بے ایمانوں کے خلاف تو دفعہ 420 کے تحت کرایا جانا چاہئے۔کیونکہ جعل سازی سے یہ لوگ ایوانوں میں پہنچے ہیں۔ اس ملک کے قانون سازوں اور حکمرانی کے خواب دیکھنے والوں میں ایک بہت بڑی تعداد جعل سازی کو اپنا شعار بنائے ہوے ہے تو پھر کوئی ہمیں بتائے سسٹم کیسے صحیح ہوگا؟ اور جو لوگ ملک کے سسٹم میں تھوڑی ہی صحیح مگر بہتری لانا چاہتے ہیںاُن کو بھی بے ایمان ٹولہ ایماندا ر ی کے ٹریک سے کسی نہ کسی طرح ہٹانا چاہتا ہے۔ اگر فرض کر لیں ایسا نہیں بھی ہے تو کم از کم میڈیا سے ضرور بھڑوانا چاہتا ہے۔ کیونکہ ان بے ایمانوں سے جوڈیشری اور میڈیا ہضم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔ یہ کرپٹ ٹولہ پاکستان کو مسلسل تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تو ایک اینکر پرسن کے خلاف کھل کر کہا تھا کہ یہ ایکٹر ان کی حکومت کے بد خواہ ہیں جو اسکو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔وہ ان ایکٹروں سے نہیں ڈرتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی حکمرانوں سے تو بڑی مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔کیونکہ جہاں کہیں بھی حکومتی بے ایمانی ہورہی ہوتی ہے۔ میڈیا اسکو عوام کی عدالت میں لے آتا ہے۔ جس سے حکمرانوں کو سُبکی کا منہ دیکھنا پڑ جاتا ہے۔ یہاں اس بات کی داد دینی پڑے گی کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ نے اتحاد کا جھانسہ دے کر مسلم لیگ ن کو بڑے طریقے کے ساتھ ٹریپ کر کے میڈیا کے سامنے ایک مرتبہ تو اچھی طرح سے رسوا کر کے رکھ دیا ۔اور پورے پاکستان میںمسلم لیگ ن کے خلاف میڈیا کے ہر چھوٹے بڑے فرد کو لاکھڑا کیا ہے۔ن لیگ کو یہ داغ دھونے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ اب تو پیپلز پارٹی نے بعض لوگوں کو ہائر کرکے اس حوالے سے باقاعدہ مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔جس کے سُرخیل وزیر قانون لگتے ہیں جیسے جیسے انتخابات کا وقت نزدیک آتا جائے گا نواز لیگ کے خلاف ان لوگوں کا پر پیگنڈہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ کیونکہ یہ لوگ ملک میں ایمانداری کو رواج پکڑنے نہیں دیںگے۔شائد ملک کی بد خواہی ہی ان لوگوں کا ایجنڈا ہے۔ جو نہایت ہی افسوس ناک امر ہے۔ 

Shortlink: