![]() |
ہر انسان کی انفرادی طور پر چند فطری عادات ہوتی ہیں جن سے وہی انسان واقف ہوتا ہے جس کا کسی نہ کسی طرح دوسرے انسان سے میل ملاپ ہو یہ انفرادی عادات اس وقت ایک معاشرتی عادات بن جاتی ہیں جب کوئی انسان ایک مخصوص معاشرتی کلچر میں رہنا شروع کر دیتا ہے اور جب ایک فرد واحد معاشرے یا سو سائٹی کے اجتماعی افراد سے ملتا ہے تو یہی عادات معاشرتی عادات کا روپ دھار لیتی ہیں یوں ایسے معاشرے میں رہنے والے ہمہ وقتی میل ملاپ کے باعث ایک قوم کہلانا شروع کر دیتے ہیں اوریہی میل ملاپ اس قوم کی قدرے مشترک فطری عادات بن جایا کرتی ہیں جو ایک معاشرتی موروثیت بھی کہلا سکتی ہیں آئیے آج کے کالم میں میرے سمیت اپنی قوم کی چند فطری عادات کا جائزہ لیں کے ہماری فطری عادات کتنی مثبت یا منفی ہیں ہماری قوم کے افراد میں سب سے پہلے ہمارے قومی رہنماآتے ہیں اوران کے بعد دیگر طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں بچے ، بوڑھے ،جوان ، علماء دین ، اساتذہ ، طلباء ، قومی دانشور ، خواتین ، صحافی ، ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل گویا ایک ادنیٰ سے متوسط اور اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد وزن سب ہی شامل ہیں قوموں کی حقیقی پہچان جہاں اُ ن کا کلچر ہوتا ہے وہاں قومی رہنما بھی اپنی اپنی قوموں کی اندرونی اور بیرونی دنیا میں شناخت کا باعث ہوتے ہیں جو ان اقوام کے قومی ہیرو کہلاتے ہیں ۔ ہماری قوم کے رہنما حضرت قائد اعظم محمد علی جناح تھے جنہوں نے ہمارے لیئے الگ آزاد و خود مختار ملک بنایا مگر بدقسمتی سے ہمارے ان سے بعد میں آنے والے کسی سیاسی رہنما ؤں نے قومی رہنما بننے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکا گویا ملکی تاریخ پر نظر دوڑانے سے کوئی ایک بھی ماضی حال میں ایسا سیاسی رہنما دکھائی نہیںدیتا جس نے قومی رہنما ہونے کا کوئی ادنیٰ سا ثبوت دیا ہو ہماری قوم کی رہنمائی کرنے والوں نے ملک یا قوم کا دنیا میں نام پیدا کرنے سے کہیں زیادہ اپنی ذاتیات کو دنیا بھر میں متعارف کروایا اور ہر ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما نے دوسرے سیاسی رہنما سے ذاتیات کی بنیاد پر ہر دور میں نئے سے نیا ء جھگڑا کھڑا کیا ایک دوسرے پر سیاسی الزام تراشیوں کے سواء کچھ نہیں کر سکا اور آہستہ آہستہ یہ ہمارے قومی رہنماؤں کی فطری عادت بنتا گیا ملکی نظام کو چلانے کے حوالہ سے دیکھا جائے تو بھی آج سیاسی رہنماؤں کی ذاتیات ہی آڑے آرہی ہے ۔ماضی کی بے شمار سیاسی اور عسکری غلطیوں کے نتیجہ میں ملکی قانون سازوں اور حکمرانوں کی فطری عادات نے آج تک کوئی مثبت قانون سازی ملکی اور عوامی مفاد میں مشترکہ طور پر نہیں کر سکی اور اسی موروثی عادت کے بل پر این آر او سیاسی شخصیات اور ذاتیات کو بچانے کے ضمن میں بنایا گیا تھا جسے بالآخر عدالت العالیہ نے کالعدم قرار دیکر قوم کے مفاد کو سیاسی شخصیات و ذاتیات سے باہر نکال دیا ہے یوں ضرورت اس امر کی دکھائی دے رہی ہے ملکی قوانین کو بنانے یا ان میں ترامیم لانے سے پہلے ملک کا نظام چلانے والے حکمرانوں اور قانون سازوں کی فطری عادات کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اس انتہائی اہمیت کے حامل کام کو کرنے کیلئے ملک کے ایک عام فرد کی فطری سوچ وفکر کو دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نااہل عوامی نمائندے کو منتخب کرنے میں ایک عام ملکی فرد کی ایسی تربیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیاسی جماعتوں یا عوامی نمائندے کو قوم برادری یا علاقیت کی فطری عادت کے بل پر ووٹ دینے کے بجائے متعلقہ نمائندے کی اہلیت وقابلیت کو بنیاد بنا کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرے ہمارے ملک کے ایک عام فرد کی یہ فطری عادت بن چکی ہے کہ وہ نااہل سیاستدانوںکی لگی لپٹی باتوں میں آ جاتے ہیں اور انہیں برادری ازم یا علاقائی ازم کے نام پر اپنا قیمتی ووٹ دیکر قانون سازی جیسے انتہائی اہم کام کیلئے اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں جس کا نتیجہ ملک کی موجودہ صورتحال کے نتیجہ میں سب کے سامنے موجود ہے اور ہماری قوم کی ایک فطری عادت یہ بھی ہے کہ وہ حقیقت تک رسائی نہیں رکھتے جس کا فائدہ آج تک کرپٹ سیاستدان اٹھارہے ہیں یہ ہمارے ملک کی عوام کی معصومیت نہیں بلکہ ایک فطری عادت ہے کہ وہ بار بار اس طرح کے چکر میں پھنس جاتے ہیں اگر فطری عادت کی بیمار عوام ان سیاستدانوں کے اندازگفتگوکا اندازہ لگا ئے تو جھوٹ اور سچ ایک پل میں ان کے سامنے آ سکتا ہے مگر مکار اور چکر باز سیاستدان عوام کو اتنا سوچنے کا موقع نہیں دیتے ہمارے ملک کا ہر سیاستدان اس طرح کی فطری عادات کا ایسا عادی دکھائی دیتا ہے جیسا ایک انتہائی خطرے ناک نشے میں مبتلا فرد اس کی لاکھوں مثالیں ہیں اسمبلیوں کے اجلاسوں میں دیکھیں کبھی قانون بنانے والے بھی ایوان کے اندر لڑائی جھگڑا کرتے ہیں یا اپنی قومی ذمہ داری نبھانے والے احتجاج کرتے ہیں دراصل یہ ہمارے قانون سازوں کی فطری عادات کا حصہ ہے موضوع سے ہٹ کر بے مقصد گفتگو کرنا اسمبلی کے ایوان میں کسی مخصوص قانون یا بل پر بامقصد گفتگو کرتے وقت اپنی ذات یا سیاسی جماعت کا ذکر کر کے متعلقہ سیاسی جماعت یا قائد ایوان کی خوشامد کرنا ہمارے سیاستدانوں کی فطری عادت بن چکا ہے قوم سے خطاب میں موضوع سے ہٹ کر ذاتیات کی تشہیر کرنا بھی ہمارے سیاستدانوں کی منفی فطری عادات ایک قومی بیماری کا موروثی مرض ہے ۔ اوراب اسطرح کے سیاستدانوں کے خوشامدی کارکنان کی فطری عادت کا اندازہ لگائیں کے اگر ان سیاستدانوں کے کارکنان کو دیکھیں تو وہ خواہ مخواہ اس طرح کے سیاستدانوں کو ہوا دے رہے ہوتے ہیں کے بس جناب وا ہ واہ آپ کے کیا کہنے آپ جیسا تو شعلہ بیان مقرر ہے ہی کوئی نہیں اس طرح کے کارکنان کو فطری خوشامدی کارکنان کہا جا سکتا ہے جو رات دن وزیروں، مشیروں کے گھروں اور دفاتر میںصرف انہیں ہوا دینے کا کام کرتے ہیں ایسے خوشامدی کارکنان وہی ہوتے ہیں جو ان وزیروں ، مشیروں کے جلسے جلوس یا عوامی اجتماعات میں سٹیج کے بہت قریب ہوتے ہیں تاکہ ان کا لیڈر انہیں بغور دیکھ سکے وہ جیوے جیوے کے نعرے لگا رہے ہیں یہ ہمارے سیاسی کارکنان کا خوشامدی ٹولہ کہلاتا ہے اسی طرح کے کارکنان تقریب کے اختتام پر اپنی فطری عادت سے مجبور اپنے لیڈر کی تعریف کررہے ہوتے ہیں واہ جناب واہ آج آپ نے کیا خوب موضوع کے عین مطابق دھواں دھار تقریر فرمائی ہے حالانکہ اُسے بیچارے نے تقریب کے موضوع کے مطابق ذرا برابر بھی درحقیقت بات سرے سے کی ہی نہیں ہوتی اور جب ہمارے حکمرانوں کا تختہ اقتدار ان کی فطری غلطیوں کے باعث الٹ رہا ہوتا ہے اس دوران خوشامدی کارکنان کی ایک کثیر تعداد اپنے ہر دل عزیز لیڈر کو تنہا چھوڑ کر آنے والے لیڈر کے قریب جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں یہ بھی اس طرح کے کارکنان کی فطری مورثیت کہلاتی ہے ان حالات میں اسطرح کے لیڈران کے قریب خوشامدی کارکنان کی دوری کے باعث چند انتہائی قریب عزیز واقارب یا چنداںدیگر کارکنان رہ جاتے ہیں جو اپنے اس ہر دل عزیز رہنما کو طفل تسلی دے رہے ہوتے ہیں یہ بھی ہمارے معاشرے کی ایک فطری بیماری ہے ۔ جبکہ ملک کے دیگر مختلف طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی فطری عادات کا جائزہ لیں نوجوان نسل میں سکولوں اور کالجز کے طلباء وطالبات کو طلباء یونین کے نام پر سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیںبسا اوقات کالجوں میں ہنگامے توڑ پھوڑ طلبائء یونین کے نظریاتی اختلافات کے بعد واقعہ ہوتے ہیں ملک کی عوامی ٹرانسپورٹ میں ایک عام آدمی کو نشست بھی پسند وناپسند کی بنیاد پر دی جاتی ہے ملک میں ریڑھی لگانے والے کی فطری عادت کا اندازہ لگائیں کے اس کا انداز کلام وبیان کیسا ہے ۔ ملکی ائیر لائن میں سفر کر و تو ہوائی جہاز کی ائیر ہوسٹس اپنی فطری من مرضی کی عادات واطوار دکھا رہے ہوتے ہیں وکلاء کے دفاتر میں چلے جاؤ یا ملک کے ایک عام پٹواری کے پاس ہر ایک کی مخصوص فطری عادت ایک بیماری کی صورت میں دکھائی دیتی ہے عوامی ہسپتالوں میں سفارش کے بغیر مریضوں کا اعلاج کروانا بھی ہمارے معاشرے میں ایک فطری عادت بن چکی ہے ملک کے علماء دین کے حالات پر نظر دوڑاؤ تو ان میں کئی فطری عادات کی بیماریاں نمایاں نظر آئیں گی ملک سے باہر مقیم ہم وطنوں کو دیکھوں تو ان میں کئی موروثی فطری عادات بیرون ممالک مقیم ہونے کے باوجود قدرے منفرد دکھائی دیں گی گویا ہماری قوم کی فطری عادات میں منفی نوعیت کا اثر زائد جبکہ مثبت کا انتہائی کم دکھائی دیتا ہے ۔ بنا بریں ضرورت اس امر کی ہے ہمارے قومی رہنماؤں سے لے کر ایک عام فرد تک فطری عادات کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی قومی پالیسی بنانی پڑے گی ورنہ بحیثیت قوم ہمیں یکسانیت پیدا کرنے میں مزید کئی برس درکار ہوں گے لہذا مارچ کے بعد برسر اقتدار آنے والی کسی بھی طرح کی حکومت کو پاکستانی قوم کی فطری عادات کو مشترکہ قومی عادات میں تبدیل کرنے کیلئے ایک نئے چیلنج کا فطری طور پر سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستانی آئین کا تحفظ کرنا اور پاکستان میں آئین کی حکمرانی کو بحال رکھنا ریاست کے اعلیٰ تر مفاد میں اُسی وقت ممکن ہوگا جب قوم کا ایک عام فرد فطری عادات کے بجائے قومی عادات واطوار اپنانے کی انفرادی طور پر از خود کوشش کریگا اور یہی کوشش پاکستانی قوم کی حقیقی بین الاقوامی شناخت بن سکتی ہے ۔
Shortlink: