چائنا امریکہ کولڈ وار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:روف عامر پپا بریار

چائنا امریکہ کولڈ وار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:روف عامر پپا بریار #1

چین اپنی برق رفتار صنعتی مالیاتی دفاعی ترقی کے کارن اپنی منزل کی طرف خراماں خراماں محو پرواز ہے اور اس منزل کا نام ہے اقوام عالم کی سپر طاقت۔ موجودہ سپرپاور امریکہ کی عالمی قیادت کے لاشے کا عنقریب جنازہ پڑھایا جائے گا چین امامت کرے گا۔امریکہ اور مغربی حواری چین کی راہ میں انواع قسم کے کانٹے بکھیر نے میں جتے ہوئے ہیں۔ تاکہ سپرپاور کا تاج وائٹ ہاوس سے بیجنگ منتقل نہ ہو۔ امریکہ کے صہیونی بنارسی ٹھگوں کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ چائنا مستقل مزاجی عزم پیہم اور جوہری جنون کے بل پر منزل کے قریب تر پہنچ چکا ہے۔امریکہ کی سامراجیت و ظلمت کو جلد از جلد قبرستان میں دفن ہوجانے کے حمائتی دانشور ہوں یا سیاسی لیڈر، کالے ہوں یا گورے رائے دیتے ہیں کہ امریکہ بدعنوان ملک ہے جو چین کا بھلا سوچ ہی نہیں سکتا اسی لئے چینی لیڈر شپ امریکہ کی ہیرا پھیریوں پر کڑی نظر رکھے۔ چین امریکہ تاریخ پردسترس رکھنے والے مقبول عالم دانشور زکارے کار ابیل نے ٹائم میگزین میں شائع ہونے والے تحقیقاتی فیچر بعنوان امریکہ چین تنازعہ میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر بیجنگ وائٹ ہاوس سے کنارہ کشی نہیں کرتا تو پھر امریکہ اپنے ساتھ چائنا کو دریا برد کردے گا ۔ امریکہ کا مالیاتی بحران روز بروز سونامی کی شکل اختیار کررہا ہے۔امریکہ کے سینکڑوں نجی و سرکاری مالیاتی ادارے و بینک دیوالیہ ہوچکے۔نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ میں بے روزگاری کا گراف لاکھوں سے کروڑوں کو چھو رہا ہے۔امریکہ دنیا میں دنگوں ،فسادوں دہشت گردیوں اور کشت و قتال کو ہوا دیتا ہے تاکہ امریکی اسلحے کی فروخت سے معاشی ایندھن تلاش کیا جائے۔پچھلے سال بیجنگ میں امریکہ چائنا دوستی کے بینرز لہرا رہے تھے ۔ نیا سال طلوع ہوا تو ایک طرف امریکن سافٹ وئیر کمپنی گوگل نے چین سے بوریا بستر لپیٹ لیا۔چین کے سخت سنسر شپ قوانین اور گوگل کے دفاتر پر ہونے والے حملوں کو زمہ دار ٹھرایا جارہا ہے دوسری جانب امریکہ نے تائیوان کو اسلحے کی خریداری کے لئے چھ ارب ڈالر ریلیز کردئیے۔اوبامہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ صدر امریکہ اور دلائی لامہ کی منسوخ کی جانیوالے ملاقات اب دوبارہ ہوگی۔تبت اور تائیوان تاریخی تہذیبی و ثقافتی نقطہ نظر سے چین کا حصہ ہیں۔چینی قائدین ہزار ہا مر تبہ عالمی دنیا کو باور کر واچکا ہے کہ وہ تائیوان و تبت پر کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں۔اگر امریکہ سمیت کسی ہواری ریاست نے تائیوان کے معاملات میں دخل دینے کی کوشش کی تو وہ جنگ کرنے پر مجبور ہونگے۔zakary kar aable بتاتے ہیں کہ چینی حکمرانوں کے لب و لہجے ترش ہوچکے اور پہلے والا ساوفور مفقود ہوچکا ہے طرفین کے لہجوں میں تلخی و رنجش کا عنصر شامل ہوگیا۔امریکہ کے گلے میں چینی قرضے کا شکنجہ کسا ہوا ہے جسکی مالیت کھربوں ڈالر ہے۔عالمی معاشی جادوگر کہتے ہیں کہ امریکی ڈالر کا بھرم چائنا کے قرضوں نے بچا رکھا ہے۔کیمونسٹ پارٹی کے تجربہ کار لیڈر کم سنگ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اوبامہ نے دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات کی تو چین و امریکہ کے سیاسی اور دوستانہ تعلقات کو زک پہنچے گی اور رد عمل میں چین جارہانہ اقدام سے گریز نہ کرے گا۔ کیمونسٹ پارٹی کے راہنماوں کی دھمکیوں کا یہ مطلب نکالا جارہا ہے کہ چین کو خام مال بھیجنے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی جائے۔دلائی لامہ کو چین کا باغی کہا جاتا ہے اسی لئے چین نے اوبامہ کو اس ملاقات سے روکنے کے لئے دھمکیاں دیں۔امریکہ کی بڑی کمپنی اوٹس اور بوئنگ جہاز بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کا مشورہ کیا جارہا ہے۔امریکی کا معاشی بحران برپا ہوا تو اسکے منفی اثرات جاپان یورپی یونین کے پیروکار ملکوں پر مرتب ہوئے مگر چین اپنے کھربوں ڈالر کے زخائر کی وجہ سے محفوظ و مامون رہا۔ کہا جاتا ہے کہ چین کی وجہ سے عالمی اقتصادی سمندر میں طغیانی انے والی ہے۔چینی قوم امریکہ سے نفرت کرتی ہے۔چائنا کے شہری اپنی حکومت کو مخاطب کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ یارانہ ختم کردو کہیں وہ اپنی بربادی کے ساتھ چین کی تباہی کا سامان پیدا نہ کردے۔امریکی وزیرتجارت کیری لاگ نے بیچنگ کے رویوں پر تنقید کے زہریلے تیر چلائے کہ چین امریکی کمپنیوں کے ساتھ نہ صرف ناروا سلوک اپناتا ہے بلکہ چینی اداروں کو امریکی کمپنیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ کم ال سنگ رہنما کیمونسٹ پارٹی نے کیری لوگر کی طومار کا جواب دیا کہ امریکہ مختلف اقتصادی مالیاتی اور معاشی کینسر میں مبتلا ہوچکا۔یوں امریکی بدہواسی و ہیجان انگیزی کے عالم میں کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔مغربی میڈیا میں چین کے خلاف میڈیا وار شروع ہے اور متعصب قسم کے دانشور من گھڑت تجزئیے کررہے ہیں تاکہ عوام کو فریب دکھایا جائے۔ تلسی داس کہتے ہیں کہ اپ کسی کو دوچار دنوں کے لئے بیوقوف بناسکتے ہیں عمر بھر کے لئے نہیں۔ گوئبلز کی یاد تازہ کرنے والے دنیا کو تھوڑے عرصے کے لئے فول بناسکتے ہیں تادیر کے لئے نہیں کیونکہ بھوکا پیٹ غربت و لاچاری کا عذاب اب دنیا کو فروعی مسائل اور لغویات کی یورش کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ ٹائمز نے اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ لازوال اقتصادی کامرانیوں نے چین کی خود اعتمادی کو تکبر و غرور میں ڈھال دیا۔چین کے داخلی قوم پرست کھلے عام حکومت کو ہدف تنقید بنانے کی ہمت تو نہیں کرتے تاہم وہ بھی واشنگٹن کی عیاریوں و مکاریوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔دوسری طرف چین کے زرمبادلہ زخائر کی تعداد ٹریلین ڈالرز سے بڑھ گئی اور یہ زخائر امریکی بنکوں میں جمع ہیں۔چین اگر اپنے ڈالرز کے پہاڑ کو فروخت کرنا چاہیے تو امریکہ سمیت کوئی ملک انہیں خریدنے کی جرات نہیں رکھتا۔زکارے کار ایبل لکھتے ہیں کہ اس ضمن میں دونوں ملک بے بس ہیں اور اگے کا منظر نامہ ابھی تک واضح نہیں مگر سچ یہ ہے کہ خبر دیتی ہیں بادہ و برق مجھ کو طوفانوں کی کے مصداق چین طوفان بنکر دنیا کی اقتصادیت پر چھا رہا ہے۔امریکہ اور مغربی کارندے بیچنگ پر کوئی انہونا الزام عائد کرتے رہیں۔نئی نئی سازشوں کو لاگو کرتے رہیں مگر اب چین کی عالمی عظمت و سپرپاوری کو کوئی خطرہ نہیں۔ویل ڈن چین

Shortlink: