کشمیرپھر سے جل رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :ممتاز حیدر

کشمیرپھر سے جل رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :ممتاز حیدر #1

جموں و کشمیر کی ریاست برصغیر کی اہم ترین ریاستوں میں سے ایک ہے قیام پاکستان کے اڑھائی ماہ بعد 29اکتوبر1947کو انڈیا نے کشمیر پر لشکر کشی کی اور ریاست ہائے جموں و کشمیر پر اپنا تسلط جما لیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا، کشمیر میں استصواب رائے کے وعدہ سے انڈیاجب صاف طور پر مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیابھارت کا ہٹ دھرمی والا رویہ اور ظلم و ستم دیکھ کر کشمیریوں نے 1989ء میںاپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کے لئے گن اٹھانے کا فیصلہ کیا جس پر چند برسوں میں ہی کشمیریوں مسلمانوں کی قربانیوں و شہادتوں کے نتیجہ میںمسئلہ کشمیر عالمی سطح پرواضح طور پر ابھر کر سامنے آیا کشمیری مجاہدین کی عسکری کارروائیوں کے باعث بھارت تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھا تھا، آزادی کشمیر کی منزل قریب دکھائی دے رہی تھی کہ معرکہ کارگل کے دوران پاکستانی حکمرانوں نے واشنگٹن کے دباؤ پر پسپائی اختیار کر لی یہ انتہائی مشکل دور تھا کشمیری مسلمانوں کے حوصلے پست ہوچکے تھے ہرطرف مایوسی پھیل رہی تھی کشمیری مسلمان پاکستانی ارباب حل و عقد سے اس بات پرسخت نالاں تھے کہ عین اس موقع پر جب انہیں منزل ملتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی حکومت پاکستان نے امریکی دباؤ پرکشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اورکشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے بھارت نے تریسٹھ برسوں میں ہر ممکن طریقہ سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد کرنے اور کچلنے کی کوشش کی ہے مگر اس میں کامیاب نہیں ہو سکا بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا ،ہزاروں کشمیری ماؤں بہنوںاور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی،بچوں و بوڑھوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہزاروں کشمیری نوجوان ابھی تک بھارتی جیلوں میں پڑ ے ہیں۔کشمیر کا کوئی ایسا گھر نہیں جس کا کوئی فرد شہید نہ ہوا ہو یا وہ کسی اور انداز میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا نشانہ نہ بنا ہو لیکن اس کے باوجود کشمیری مسلمانوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پرکشمیری مسلمانوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتا ہے تاریخ گواہ کے کشمیری قوم 63 برس سے عزم و استقلال کا پہاڑ بن کر بھارت کے ظلم و تشدد کو برداشت کر رہی ہے مگر ان کی بھارت سے نفرت کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے کوئی کمی نہیں آئی بھارت کوامریکہ کی سرپرستی میں اس خطہ کی سپر پاور بننے کے خواب بکھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں اس کی آٹھ لاکھ فوج خود بھارت کے لئے بہت بڑا بوجھ بنتی جا رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں انڈیا مقبوضہ کشمیرمیں سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، بھارت سرکار کے کشمیر میں مزید فوج بھجوانے کے اعلان سے ثابت ہو گیاکہ وہ کشمیر میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے آئے دنوں کشمیری مسلمانوں پر مظالم شدت اختیار کر گئے ہیں سرینگر،جنوبی کشمیر میں پلوامہ کے پورا علاقے، شمالی کشمیر کے کپوارہ ، ہندوارہ، بانڈی پورہ اور سو پور قصبوں میںسرینگر کے نزدیک گاندر بل، کنگن اور کرہامہ علاقے میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے گھر سے باہر نکلنے والوں کو فوری گولی مارنے کے حکم کے علاوہ میڈیا میڈیا سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی تھی کشمیری صحافی اور فوٹوگرافر گھروں تک محدود ہوکر رہے گئے ہیں۔ حالیہ پولیس کاروائیوں میں گیارہ فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے ہیںتریسٹھ سالوں میں غالبا کشمیر میں پہلی مرتبی کوئی اخبار شائع نہیں ہوا کشمیری مسلمان اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں سرینگر میں جنگ کے لیے مخصوص فوجی انڈین گاڑیاں (آرمرڑ وہیکلز) شہر کی شاہراہوں پرگشت کرتی نظر آتی ہیں ان گاڑیوں پر جدید ہتھیار نصب ہیں اور فوجی اہلکاروں نے سروں پر سیاہ نقاب اور آنکھوں پر خاص قسم کے کالے چشمے پہن رکھے ہیں جو کشمیری مسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ توڑتے نظر آتے ہیں کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں اور صحافیوں کے زخمی ہونے پرمظفر آباد آزاد کشمیر میں صحافیوں نے احتجاج کیا احتجاج کرنے والے صحافیوں نے انڈیا کے حکام کی طرف سے وادی کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادیِ صحافت پر حملہ ہے اور بھارت وادیِ کشمیر میں اپنی فوج کی مبینہ ظلم اور زیادتیوں کو چھپانے کے لیے صحافیوں کی آواز دبانا چاہتا ہے باقی پورے ملک پاکستان میں کسی بھی صحافتی تنظیم یا ادارے نے کشمیری صحافیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں کیا بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور اس کے نتیجے میں کرفیو کو کئی روز ہو چکے لیکن پاکستانی اخبارات نے موجودہ تحریک آزادی کشمیرکی صورتحال پر کوئی زیادہ توجہ نہیں دی صرف اور صرف کشمیری مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ممتاز صحافی مجید نظامی کاپاکستانی نظریات کی ترجمانی کرنے والا نوائے وقت وہ واحد اخبار ہے جس کا صفحہ اول سرینگر کی خبروں سے بھرا ہوتا ہے مجید نطامی ہمیشہ اپنی گفتگو کے ذریعہ بھی اور قلم کی طاقت کے ذریعہ بھی کشمیریوں کے ترجمان بنے ہیں وہ کشمیری مسلمانوں کی جانب سے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی لاج اور کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں دوسری ایک اور عظم شخصیت جس کے خلاف منموہن سنگھ اوباما کو بھی شکایتیں لگا چکا ہے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر،ڈیموں یا اور مسائل کی بجائے صرف اسی شخصیت پر بات کی جاتی ہے وہ شخصیت جماعۃ الدعوہ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید ہیں جو کشمیری مسلمانوں کی مدد و حمایت کے لئے ہر موقع پر آواز بلند کرتے ہیں حافظ سعید کشمیریوں کی مدد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے چند دن قبل بھی حافظ سعید اس بات پر پریشان تھے کہ بھارت کشمیر میں باوردی د ہشت گردی کر رہا ہے خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں ،سر عام حکومتی قاتل کشمیری مسلمانوں کا خون بہانے میں لگے ہیں مگر پاکستان سے اسلام آباد سے پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے یا سیاسی جماعتوں کی جانب سے کشمیریوں کی مددوحمایت کے لئے کوئی صدا بلند نہیں کی جا رہی ادھر کشمیری کشمیر بنے گا پاکستان ،گو انڈیا گو کے نعرے لگا کر پاکستانی پرچم بلند کئے ہوئے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں مگر پاکستانی حکمران خاموش ہیں ،اقوام متحدہ خاموش ہے ان کے اس خطاب میں ایک تڑپ تھی جو سامنے بیٹھے سامعین کو رلانے پر مجبور کر رہی تھی حافظ سعید اس بات کا اعلان بھی کر رہے تھے کہ ہم کشمیریوں کی مدد کے لئے آخری حد تک جائیں گے اور ملک بھر میں کشمیریوں کے حق میںبیداری مہم چلائیں گے اب وہ دن دور نہیں جب کشمیر جلد پاکستان کا حصہ ہو گا یہ باتیں کرتے ہوئے حافظ سعید کی آنکھوں میں ایک پر امید چمک تھی گویا وہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنتے دیکھ رہے تھے اور انشا ء اللہ یہ جلد ہونے والا ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کرفیو،ظلم و ستم ،میڈیا پر پابندیوں ،شہادتوں پر اقوام متحدہ کی خاموشی سے اس کا دوہرا کردار ایک بار پھر کھل کر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے حقوق انسانی کے وہ عالمی ادارے جنھوں نے جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی بھی تنظیمیں بنا رکھی ہیں مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی پر ان کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے انہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لینا چا ہیے تھا مگر کسی نے نہیں لیا پاکستانی حکمران ہی کشمیریوں کے نعروں اور پاکستان کے ساتھ ملنے کی آرزو لئے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے خون کی لاج رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات کریں جب تک بھارت کشمیر پر سے قبضہ ختم نہیں کرتا حکومت پاکستان کو کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھنی چاہیے کشمیر پاکستان کی شئہ رگ ہے اور اس شئہ رگ کو دشمن کے قبضہ سے چھڑانا انتہائی ضروری ہے پانچ فروری کو تو یکجہتی کشمیر والے دن صدر، وزیر اعظم سمیت سبھی حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور ان کی اخلاقی مدد جاری رکھنے کے بیانات داغے جاتے ہیں اگرحکمران ان کشمیریوں کی اخلاقی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں توپھر یہ کوئی اخلاق نہیں ہے کہ آپ کشمیری مسلمانوں کے حق میں دو چار بیانات دے کر خاموش ہو جائیں اور انہیں بھارت کے چنگل میں پھنسا ہو چھوڑ دیں ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لئے ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا آج بھٹو کی وارث جماعت کی حکومت ہے موجودہ حکمرانوں کو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میںبھارت کے ظلم و ستم اور اس کے اصل چہرے کو پوری دنیا پر بے نقاب کرنا چاہئے،عالمی اداروں سے مسئلہ حل کروانے کی توقع رکھنافضول ہے لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانا کرتے ہندو بنیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے اس کو اسی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے کشمیریوں کی محرومیاں دور کرنے اور انہیں ہندو کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کشمیری مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون نے آزادی کی منزل کو بہت زیادہ قریب کر دیا ہے کشمیری مسلمان محض ایک زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں آزادی کشمیر سے ہی پاکستان کے پانی ، بجلی و دیگر مسائل حل ہوں گے حکمرانوں کو بانی پاکستان کا یہ فرمان کہ کشمیر پاکستان کی شئہ رگ ہے یاد رکھنا چاہئے اور دل و دماغ میں یہ بات بٹھا لینی چاہئے کہ اپنی شئہ رگ کو ازلی دشمن ہندو سے چھڑائے بغیر پاکستان کا دفاع ممکن نہیں ہے۔

Shortlink: