گیلانی کی فراست چیف کی بصارت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:روف عامر پپا بریار

گیلانی کی فراست چیف کی بصارت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:روف عامر پپا بریار #1

پچھلے دنوں سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان ججز کی تقرری پر جنم لینے والے ائینی بحراان کی وجہ سے خیبر سے کراچی تک بے یقینی کی فضائیں چھا گئیں۔ اہل پاکستان مشرف کے دس سالہ سیاہ دور ظلمت کے بعد بحال ہونے والی لنگڑی لولی جمہوریت کا مستقبل مخدوش نظر انے لگا۔ایوان صدر اور سپریم کورٹ کے درمیان تصادم اور ٹکراو کے امکانات روز روشن کی طرح جگمگانے لگے۔ دل جلوں اور فتنہ پروری کے رسیا صحافی اور غیر جمہوری عناصر میدان میں کود پڑے تاکہ ٹکراو کو یقینی بنایا جاسکے۔تاہم مرکزی حکومت کے خاتمے کی خواہش پالنے والے یار لوگوں کو اس وقت جھٹکا لگا جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس کے عشائیے میں اچانک شرکت کرکے تلخیوں کو نہ صرف کم کرنے کی مسا عی جلیلہ انجام دے بلکہ دوسرے دن وزیراعظم اور چیف کے مابین پرائم منسٹر ہاوس میں ہونے والی ملاقات میں تمام متنازعہ امور خوش اسلوبی سے طے پا گئے اور یوں طرفین کی دانشمندی فراخ دلی اور محب وطنی کے خوشبودار پانی نے ائینی بحران کے اتش فشاں کو گل و گلزار میں بدل دیا۔وزیراعظم نے جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو ایک سال کے لئے سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو عدالت عظمی میں تعینات کرنے کا اعلان کیا۔سپریم کورٹ کی سمری کے مطابق وزیراعظم نے خواجہ شریف کو بدستور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فروکش رہنے کی توثیق کردی۔ وزیراعظم نے میڈیا کو بتایا کہ تمام فیصلے ملکی مفاد اور عدلیہ کے احترام میں کئے گئے۔نظریہ ضروت تو جمہوریت ہے۔وزیراعظم نے غلطی کا اقرار کرکے تاریخ رقم کردی کیونکہ پچھلے ساٹھ سالوں کی روایت الم نشرح ہے ہے کہ اج تک کسی حکمران نے قوم کے سامنے اپنی غلطی کا اقرار نہیں کیا۔ یہ ائینی بحران اس وقت منظر عام پر ایا جب صدر مملکت نے چیف جسٹس کی سفارش کے برعکس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ اور ثاقب نثار کو ہائیکورٹ کاچیف مقرر کیا مگر چوہدری افتخار حسین نے سویوموٹو ایکشن کی قینچی سے صدارتی حکمنامے کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ صدر مملکت پر قانونی ماہرین برسنے لگے کہ انہوں نے چیف سے مشاورت نہ کرکے ائین شکنی کی ہے۔ائین کے ارٹیکل177 میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے متعلق درج ہےpresident shall appoint chief justice of pakistan but each of other judges shall be appointed by president aftar consultation with chief justice. ۔صدر چیف جسٹس کو تعینات کریں گے مگر عدلیہ کے دوسرے ججز کی تقرری صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے۔ائین کی دفعہ193 کی رو سے عدالت عالیہ کے چیف اور دیگر ججز کا تقرر صدر چیف جسٹس متعلقہ گورنر اور عدالت عالیہ کے چیف جج کے مشورے سے کرتا ہے۔ قانونی ماہرین کی تشریح کے مطابق صدر مملکت نے13 فروری کو نوٹیفیکیشن جاری کرکے ائین کی دونوں دفعات177 اور 193 کی خلاف ورزی کی ہے۔ صدر مملکت نے چیف کی بھیجی ہوئی سمری کے برعکس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ جبکہ ہائیکورٹ کے جسٹس ثاقب نثار کو چیف جسٹس ہائیکورٹ تعینات کردیا جبکہ دوسری جانب چوہدری افتخار کی طرف سے صدر کو روانہ کی جانیوالی سمری میں نثار ثاقب کو سپریم کورٹ میں بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے طرف داروں نے ائین کے ارٹیکل6 کے حوالے دئیے جس میں ائین شکنی کی سزا سزائے موت ہے۔کہا گیا کہ صدر زرداری نے ارٹیکل6 کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں اسکا جواب ارٹیکلز177 اور193 میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ صدر نے ائین شکنی کی یا نہیں اسکی مدلل تشریح تو عدالت عالیہ ہی کرسکتی ہے تاہم صدر کے خلاف ارٹیکل چھ کا مطالبہ کرنے والے سیاست دانوں، دانشوروں اور محترم جسٹس صاحبان سے ہم ایسے کم فہم پاکستانی یہ پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کا شریک چیرمین اور تین چوتھائی اکثریت سے منتخب ہونے والا صدر ہی ارٹیکل چھ کا مستحق ہے ؟ایوب خان سے لیکر ملک توڑنے والے شرابی جرنیل اور ضیاالحق ایسے جابر و بدیانت ہٹلر سے لیکر مشرف ایسے ڈریکولائی ڈکٹیٹر تک کس کس نے ائین کی حرمت پامال نہیں کی؟ ضیاالحق اور مشرف نے ایک طرف جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کیا تو دوسری طرف دونوں ادم خوروں نے دو منتخب وزرائے اعظموں بھٹو اور نواز شریف کو بالترتیب پھانسی اور جلاوطنی کی وحشیانہ سزائیں دیں؟ کیا انکا جرم یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ارٹیکل چھ کا شکنجہ دونوں یعنی ضیا و مشرف کی گردنوں میں ڈالا جاتا؟ ضیاالحق تو عدم راہی ہوچکا مگر اپنے ہی ملک کے شہریوں کو پایہ زنجیر کرکے پانچ سو ڈالر فی ادمی کے ریٹ سے فروخت کرنے والا درند اور انسانی سمگلر تو پوری دنیا میں سیرسپاٹے کررہا ہے؟ عدلیہ اور انتظامیہ سانحہ لال مسجد کے مرکزی قاتل کو عدالتی کٹہرے میں کیوں نہیں لاتیں؟ مشرف اور ہرکاروں پر ائین کی شقوں کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟ ازاد و خود مختیار عدلیہ کے اوازے کسنے والے مشرف کی گرفتاری کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کرنے کا کریڈٹ کیوں نہیں لیتے؟ نظریہ ضرورت، پی سی او اور ایل ایف او ایسے جمہوریت کش فارمولوں کو ایجاد کرنے اور امروں کے غاصبانہ اقدامات کو قانونی لباس پہنا کر امریت کی شب دیجور سجانے والے سابق جسٹس صاحبان کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا؟ کیا ارٹیکل کی شقیں اور قانون کا کلہاڑا منتخب صدر تک محدود ہے؟ صدر زرداری سے کوتاہی ہوسکتی ہے تاہم ان پر عدلیہ کو تقسیم کرنے کی طومار باندھنے اور جمہوریت کے لئے انکی زات کو خطرات کا نام دینے والے تاریخ سے نابلد ہیں۔مشرف نے ججز کو زلیل و خوار کیا۔انصاف دینے والوں کو نظر بندی کے تحائف دئیے۔پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والوں کو منٹوں میں مقدس عہدوں سے نکال دیا گیا۔ چوہدری افتخار حسین کو سڑکوں پر رگیدا گیا ۔دوسری طرف ججز کی اسیری کس نے ختم کی؟ کس نے معزول ججز کو عزت و احترام کے ساتھ دوبارہ بحال کیا؟ کیا یہ اقدامات عدلیہ کے احترام کی غمازی کرتے ہیں یا ارٹیکل چھ کا قصہ سناتے ہیں؟ کیا1997 میںعدالت عظمی پر زرداری نے حملہ کروایا تھا؟ اگر نہیں تو پھر عدالت پر چڑھ دوڑنے والوں کے لئے ارٹیکل چھ کا تذکرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ انصاف کے تقاضے محمود و ایاز کے لئے یکساں ہونا چاہیں۔ چیف ایگزیکٹو اور چیف جسٹس کی ملاقات پر حرف زنی کرنے والے فتنہ پرور ہیں کیونکہ اگر یہ میٹنگ نہ ہوتی تو ہوسکتا ہے کہ تصادم کے تلاطم میںجمہوریت بھی ڈگمگا جاتی۔دونوں بڑوں کی ملاقات نے حالات کا دھارا ہی بدل ڈالا۔ اس مفاہمت میں نہ تو کسی کی ہار ہوئی ہے اور نہ ہی جیت۔پوری قوم کو دونوں چیفس کو مبارکباد دینی چاہیے کہ انکی فراست و بصارت نے ملک کو ایک ناسور صدمے اور بلاوں سے بچا لیا۔ منتخب صدر زرداری کو بھی اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے چھٹکارہ پانا چاہیے اور ان احمق مشیروں کی چھٹی کردینی چاہیے جنہوں نے صدر کو مشاورت کئے بغیر نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی صلاح دی۔ایسے مشیر کوئے یار کی بجائے کوئے دار کی صلیب پر لٹکانے کا بندوبست کرتے ہیں۔ بحرف اخر قانون کی بالادستی ائین کی پاسداری عدلیہ کی کارفرمائی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے یوسف رضا گیلانی صدر زرداری اور چوہدری افتخار کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ کئی خونی بحرانوں کی زد میں ائی ہوئی ملکی کشتی مستقبل میں ائینی بحران کے بھنور میں ڈوبنے سے بچ سکے۔

Shortlink: