وادی کی پکار

تحریر:عظمی عروج عباسی
آزادی” حالیه دنوں میں ایک مرتبه پهر پاکستان ماضی کے ادھ کھولے باب کو کھولنے کیلے پرجوش اور سرگرم نظر آتا هے جسکی اشد ضرورت ماهی بے آب کی طرح تژپتے نۂتے کشمریوں نے۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو محسوس کی.فلک بوس پۂاژوں سے گھری ۂوی وادی لاله و گل جنت نظیر جموں کشمیر کی جغرآفیائ حدود جۂموریه چین روس کی جنوبی سر حدوں اور کوهستان همالیه کی کی مغربی قراقرم کی مشرقی شاخوں بلند و بالا برف پوش چوٹیوں پنجاب کے شمال مغربی میدانوں تک پھیلی ۂوی شداب وادیوں سر سبز کوهساروں شفاف چشموں مترنم آبشاروں شوخ رنگ ندی نالوں شوریده دریاوں سرسبز لهلاتے کهیتوں پھلوں اور میوه جات سے لدے درختوں کی سرزمین کو وادی کشمیر کۂا جاتا هے۱۹۴۷کے بعد ریاست جموں کشمیر دو حصوں میں تقسیم هو گی تھی ایک حصے میں بھارت قابض هو گیا تھا جو کے ۳۹۱0۷ مربع میل پر مشتمل هے اسکا دارلحکومت سری نگر هے بقیه علاقه آزاد کشمیر کهلاتا هے جسکا دارلحکومت مظفر آباد هے ریاست کی کل آبادی 1کروژ هے جسمیں 25 لاکھ آ زاد کشمیر میں هے هندوو راجاوں نے تقریبا ۴ هزار سال تک اس علاقے پر حکومت کی ۱۹۴۶ میں انگریزوں نے ریاست جموں کشمیر کو ۷۵ لاکھ نانک شاهی روپوں ڈوگره راجه گلاب سنگھ کے هاتھوں فروخت کر دیا تھا کشمیر کی ۸۵ فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل هے هندو راجه هری سنگھ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف وادی کو بھارت کے ساتھ الحاق کردیا اسکے بعد پاک بهارت حالات جنگ کی صورت اختیار کرگے سلامتی کونسل کی مداخلعت پر۱۹۴۹ جنگ بند هوگی دونوں ممالک کو کشمیر سے آفواج نکالنے اور وادی میں راے شماری کروانے کیلے زور دیاگیا جس پر بهارت نے تمام عالمی ماهدوں سے انحراف کیا اور آرٹیکل ۳۷0 کے تحت کشمیر کو بهارت کا “آٹوٹ آنگ” قرار دیتے هوےآقوام متحده میں درخواست داهر کر دی جس پر پاکستان نے مداخلعت کی اور آقوام متحده نے ۱۷ جنوری ۱۹۴۸ کو روس کی حمایت پر ایک قرارداد منظور کی ۸۴ هزار ۴۷۱ مربع پر پهیلی هوی اس ریاست کو متنازع قرار دیا گیا ۹ سال تک روس کی حمایت پر اقوام متحده میں تنازع کشمیر زیر بحث رها بعدازاں عالمی حمایت کے باعث بهارت نے کشمریوں کے راے حق کو دبانے کی کوشش کی اور مسلۂ کشمیر عالمی سیاست کی نظر هو گیا تنازع کشمیر کو تاریخ کا قدیم ترین تنازع بهی کۂا جاتا هے انصاف کے عالمی دعویداروں نے همیشه انصاف کے نام پر کشمریوں کی نسل کشی کی تباهی کے منصوبوں کا ساتھ دیا کشمریوں نے آزادی کیلے کۂی لاکھ جانبازوں کی قربانیاں دی مگر عالمی قوتوں کی منافقت کےباعث یۂ جنگ ظلم وجبر اور تشدد کا نۂ صرف سبب بنی بلکی جنت نظیر وادی خوف دهشت مایوسی اور تاریکی کی تصویر بنی هوی هے ﺫهن میں خیال آتے هی عورتوں کی عصمت دری ظلم وستم کرفیو غلامی بچوں کا تاریک مستقبل تقسیم در تقسیم” ایل او سی” بهارتی تسلط کا بهیانک روپ ایسے ناروه ظلم کی داستاں پیش کر ره هے جسکی مثال تاریخ میں بۂت کم ملتی هے پونچھ کے قریب برگد کے درخت میں لٹکی هوی آۂنی زنجیریں آج بهی شقاوت قلبی اور انسانیت سوز تشدد اور بھارتی غاصبیت کا منه بولتا ثبوت هیں پربا همت دلیر کشمریوں نے آج بهی صبر اور کوشش کا دامن نۂیں چھوژا بلکے انکے دل همیشه پاکستانی عوام کے ساتھ دھژکتے هیں کشمریوں نے مجلس احرار تحریک آزادی کیلے جو جۂدو جۂد شروع کی وه آج بھی جاری هے پاکستانی عوام اور مجاهدین اسلام نے همیشه یکجهتی کا مظاهره کرتے هوے کشمیر کو پاکستان کی شۂ رگ قرار دیا پاکستان نے ۱۹۴۸،۱۹۴۹،۱۹۶۵ تنازع کشمیر کو لے کر بھارت سے جنگیں بهی کی جسمیں کارگل جنگ بهی شامل هے اگرچۂ اسکا تعلق براراست نهیں تھا حالیه دنوں کشیدگی برقرار هے اگر یه مسله عالمی قوتوں سمیت مودی سرکار نے حل نه هونے دیا اور مزاکرات کو عملی شکل نۂ دی گی اور بهارت یوں هی نۂتے کشمریوں کے خون کی هولی کهیلتا رها کشمیر کو نظر انداز کرنے کیلےسرجیکل سٹراۂیک کا ڈهونگ رچاتا رها توکهبی بهی یه بڈهتی هویکشیدگی ایٹمی جنگ کی شکل اختیار کرسکتی هے اور کشمریوں کو غاصبی طور پر آٹوٹ انگ کا نعره لگانے والی قوت همیشه تاریخ کیلے بند باب بن کر ره جاۂیگی اور برهان وانی سمیت کۂی نۂتے کشمیریوں کا لهو دنیا کے آسمان پر طلوع آفتاب کی طرع “آزادی” بن کر چمکے گا” بلبل جو هے آزاد تو آفتاب هے گلو گیر..
اے دوستو اس شهر کو زندان سے چهڈالو کشمیر بچا لو کشمیر بچالو..!!

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.