![]() |
کوئٹہ:بلوچستان میں زلزلے سے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور230 ہلاکتوں کی تصدیق کردی گئی ہے اوران میں اضافہ کاخدشہ ظاہر کیاجارہا ہے اب تک تین سو سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کئے جاچکے ہیں ۔ متاثرہ افراد کے لئے امدادی کام جاری ہے لیکن کئی مقامات پر لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دو روز میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔گزشتہ روز آنے والے زلزلے سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں زیارت، لورالائی، پشین ، خانوزئی اور دیگر علاقوں میں ابتدائی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں اور بعد میں فوج فرنٹیرکانسٹیبلری اورانتظامیہ ان میں شامل ہوگئیں ۔امریکی جیالوجیکل سروے اور زلزلہ پیما مرکزپشاور کے مطابق زلزلے کا مرکزکو ئٹہ سے ساٹھ کلو میٹر دور کوہ چلتن میں تھا ۔زلزلے سے مختلف علاقوں میں سیکڑوں مکانات اور عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ سب سے زیادہ نقصان ضلع زیارت اور پشین میں ہوا ۔ زلزلے کے بعد زیارت ،پشین ، کوئٹہ ، سبی اور خانوں زئی سمیت کئی علاقوں میں آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔جن کی تعداداب تک تین سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔ ڈائریکٹرجنرل محکمہ موسمیات چوہدری قمرالزمان نے جیوز نیوز کو بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موسم ابرآلود رہے گا،تاہم بارش کا امکان نہیں،آئندہ چنددنوں میں سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگا،انہوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح زلزلے کے بعدسے اب تک اہم نوعیت کے 44آفٹرشاکس ریکارڈ کئے گئے ہیں جن کی شدت تین سے پانچ کے درمیان تھی۔ دوسری جانب فرنٹئر کانسٹبلری نے متاثرہ علاقے میں ٹینٹ ویلج قائم کیا گیا ہے جس میں تین سو متاثرین کو رکھا گیا ہے۔صرف باسٹھ افراد کو ضروری طبی امداد کیلئے کوئٹہ منتقل کیا گیا ،باقی زخمیوں کا علاج متاثرہ علاقوں کے اسپتالوں میں ہی کیا جارہا ہے۔زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداددو سو تیس ہوگئی ہے جبکہ اس میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ سو سے زائد افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔کو ئٹہ ، لورالائی، پشین اور دیگر علاقوں میں امدادی دستے ، ضروری ساز و سامان اور اشیا خوردونوش لے کر پہنچ گئے ہیں اس کے علاوہ ہیلی کاپٹرزبھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔جیو نیوز کی ٹیم مختلف متاثرہ کے دورے پر ہے ۔ہمارے نماندوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو فوری ریلیف اور سردی کی شدت سے بچنے کے لئے خیموں، کمبل اور غذائی اشیا کی فوری فراہمی ضروری ہے۔
Shortlink: