بھارت سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے، پاکستان

نئی دہلی: سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ کشمیر ہی پاکستان اور بھارت میں بنیادی تنازعہ ہے۔ جامع مذاکرات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی ہم منصب نر پما راوٴ سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر کہا کہ بھارتی ہم منصب کو پانی، سیاچن اور سر کریک پر پاکستانی موقف سے آگاہ کیا۔ سلمان بشیر نے کہا کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ جموں اور کشمیر ہی پاک بھارت تعلقات کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان ماضی کے تمام معاہدوں پر یقین رکھتا ہے۔پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ جامع مذاکرات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان بھارت سے ڈکٹیشن نہیں لے سکتا۔سلمان بشیر کے مطابق دہشتگردی پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستانی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان نے ممبئی حملوں جیسی کئی سو وارداتیں دیکھی ہیں۔ ممبئی واقعات کو بنیاد بناکر جامع مذاکرات کا سلسلہ روک دینا عقل مندی نہیں۔ دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی کامیابی پوری دنیا کی کامیابی ہے۔پاکستانی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا کہ بھارت نے حافظ سعید کے بارے میں دستاویز نہیں بلکہ لٹریچر دیا ہے۔ حافظ سعید یا کوئی اور شخص پاکستان یا پاکستانی عوام کا نمائندہ نہیں ہے۔ بھارت نے پہلی مرتبہ ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر ماینڈ ڈیوڈ ہیڈلے کا نام لیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں۔اس سے قبل پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر اور بھارتی ہم منصب نرپما راوٴ میں ملاقات ہوئی۔ ون آن ون ملاقات کے بعد پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے وفود کی ملاقات بھی ہوئی۔ پاکستان نے بھارت سے جامع مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کو اہم ترین قرار دیا۔ پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور پانی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ بھارت نے دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا اور پاکستان سے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بھارت نے چوبیس مبینہ دہشت گردوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کی۔ دونوں خارجہ سکرٹریز نے آئندہ ماہ اسلام آباد میں دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کرلیا۔

Shortlink: