اسلام آباد: قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے سفارشات تیارکرلیں۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں عبوری رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ قراردار کی روشنی میں قائم کمیٹی نے قومی سلامتی سے متعلق پالیسی کی تشکیل کے لئے کئی ماہ تک اجلاس منعقد کئے اور آخر کار کمیٹی کے تمام ارکان نے ایک دوسرے کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سفارشات تیار کیں۔ ان سفارشات پر مبنی رپورٹ قومی اسمبلی اور سینٹ کے آئندہ اجلاسوں میں پیش کی جائے گی۔کمیٹی کے ارکان نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان سفارشات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائے گی۔کمیٹی نے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کو یقینی بنانے کے لئے متفقہ رائے اور قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے ارکان سفارشات کو پارلیمانی اور سیاسی تاریخ کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔ قرارداد میں ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نکلنے اور امن وامان کے حوالے سے متعدد تجاویز دی گئی ہیں۔سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی نے سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کے سردار مہتاب عباسی، پروفیسر خورشید اور حیدر عباس بھی موجود تھے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ تمام ارکان کے اتفاق رائے سے قومی سلامتی کی سفارشات مرتب کیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سفارشات کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کیا جائیگا۔رضا ربانی کاکہنا تھا کہ قومی مفادات کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے گی۔اس موقع مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متفقہ طور پر سفارشات مرتب کرلی گئی ہیں۔ ملک میں ہر شخص امن کا طلبگار ہے۔ سفارشات کا متفقہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ سب امن چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی سفارشات قیام امن کے لئے مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے سفارشات پر مثبت رد عمل متوقع ہے۔ جبکہ سردار مہتاب عباسی نے سفارشات کا اتفاق رائے سے مرتب کرنے کو خوش آئندقراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرارداد مشکلات سے نکلنے میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے گی۔میڈیا سے گفتگو کے دوران پروفیسر خورشید نے کہا کہ سفارشات میں متوازن پالیسی پیش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ پالیسی پر جرات سے عمل کرے گی۔ حیدرعباس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی بار متفقہ سفارشات مرتب کی گئیں۔ تمام ارکان سے خلوص نیت سے سفارشات مرتب کیں۔
Shortlink: