اسلام ا ٓباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کو جاری رکھنے کیلئے اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں سے متعلق ضمنی مفاہمت طے پا گئی جس کے تحت جون کے آخر تک بجلی کی قیمتوں میں مجموعی طور پر مزید چار فیصد اضافہ کیا جائے گا۔آئی ایم ایف کے ایم ڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا آغاز اچھا ہے تاہم عالمی اقتصادی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان کو آئی ایم ایف کی مشاورت سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔پاکستان ن ضمنی مفاہمت کے تحت آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رواں سال جی ڈی پی کی شرح دواعشاریہ پانچ فیصد اور آئندہ سال چار فیصد رہے گی۔ ٹیکس ریونیو کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے کاربن ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کیلئے پی ڈی ایل اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن اقدامات کے ذریعے مدد لی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال مہنگائی کی شرح بیس فیصد اور کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ چھ فیصد رہے گا۔اسٹیٹ بینک ایف پاکستان کی ایپریشنل خودمختاری کیلئے نئے قانون کا مسودہ رواں ماہ کے آخر تک تیار ہو جائے گا جو اسی سال پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ نیا دیوالیہ پن کا قانون جولائی کے آخر تک مسودہ تیار ہو جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پروگرام کیلئے ساڑھے تین ارب ڈالر کی بیرونی امداد ملنے کی توقع ہے۔
Shortlink: