اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تیل و گیس کی قیمتوں کی تحقیقات کے لئے جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنچ نے پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے حکومت کو ہدایت کی کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا رلیف عوام کو منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلاحی ریاست کو پیٹرولیم پر ٹیکس حاصل کرنے کا اختیار تو ہے لیکن منافع کے حصول کا نہیں۔سپریم کورٹ نے وزارت پیٹرولیم ، اوگرا اور وزارت خزانہ سے تیل و گیس کلے نرخوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے جسٹس (ریٹائرڈ) رانا بھگوان داس کی سربراہی میں خصوصی کمیشن قائم کرنے حکم دیا۔ کمیشن میں ایئل کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے اور یہ تیس دن کے اندر تیل و گیس کی قیمتوں میں عوام کو رلیف دینے کے طریقہ کار پر اپنی رپورٹ دے گا۔ کمیشن کے اخراجات آئل کمپنیاں برداشت کریں گی اور یہ کمیشن معاونت کے لئے چارٹرڈ اکاونٹنٹ بھی ہائر کر سکتا ہے۔ عدالت عظمٰی میں یہ درخواستیں سینٹر اقبال ظفر جھگڑا، رخسانہ زبیری اور دیگر کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل جبکہ آئل کمنیوں کی جانب سے مجیب پیرزادہ اور خالد انور عدالت میں پیش ہوئے۔
Shortlink: