رینٹل پاور پروجیکٹس میں نیپر ا کی خلاف ورزی کی گئی،اے ڈی پی
January 30, 2010
![]() |
اسلام آباد: حکومت نے رینٹل پاور منصوبوں کے بارے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے رینٹل پاور کمپنیوں کو چودہ فیصد ایڈوانس دے کر بڑی غلطی کی جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ پیشگی ادائیگی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں رینٹل پاور کمپنیوں سے معاہدے قانونی طور پر کمزور اور غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پیشگی ادائیگی سے پاکستان کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں پر منفی اثر پڑے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینٹل پاور کمپنیوں کے ساتھ کئی معاہدوں میں نیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اس سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ملک میں نو سو ستانوے میگاواٹ کے سات پلانٹ بند ہیں،انہیں چلانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت کو ان معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنی چاہیے تھی۔ چودہ فیصد پیشگی ادائیگی نہ کی جاتی تو کمپنیاں جلدی بجلی فراہم کر سکتی تھیں۔ اے ڈی بی کی رپورٹ پر حکومت نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ملک کو دو سو انیس ارب روپے سالانہ کا نقصان اور روزگار کے چار لاکھ موقع ضائع ہو رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے رینٹل پاور کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں میں کئی چیزوں کو نظر انداز کیا ہے۔



