سپریم کورٹ نے گریڈ 22میں ترقیوں کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا

January 29, 2010  

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اعلیٰ ترین بیوروکریسی میں ترقیوں کے مقدمہ کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ، عدالت نے کہا ہے اگرترقی پانے والے افسران کچھ کہنا چاہیں توعدالت کو تحریری طور پر آگاہ کرسکتے ہیں ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے گریڈ22 میں ترقیوں کے مقدمہ کی سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل نے افسروں کی اہلیت پر دلائل جاری رکھے۔ایک موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو حکومتی مفاد کا نہیں عوامی مفاد کا خیال رکھنا چاہیے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کو کسی بھی انتظامی فیصلے پر نظرثانی کا اختیار ہے ، اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کی گریڈ21 کے تمام افسر ترقی کیلئے برابر کے اہل تھے ایک متاثرہ افسر کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل میں کہا کہ جہاں جمہوریت اور قانون نا ہو وہاں کنگ لا اور جہاں جمہوریت ہو وہاں لا کنگ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے افسروں کی ترقی میں جو اختیار استعمال کیا وہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں بادشاہ کا قانون ہے۔ عدالت نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیااورکہا کہ ترقی پانے والے افسر چاہیں تواسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی وساطت سے7 دن میں اپنا موٴقف پیش کرسکتے ہیں۔