اسلام آباد:مزاح سے بھر پور ڈرامہ پیش

March 30, 2009  

اسلام آباد:مزاح سے بھر پور ڈرامہ پیش #1

اسلام آباد: قہقہے کو ہر تریاق سے بہتر گردانا جاتا ہے۔ لوگوں کو دل کھول کر ہنسنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے اسلام آباد میں مزاحیہ اردو ڈرامہ پیش کیا جا رہا ہے۔نیشنل لائبریری کے ایڈیٹوریم میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ ڈنر ود این ایڈیٹ کا آغاز میوزک پروڈیوسر اسد اور اس کی گلوکارہ بیوی صبا کے درمیان تکرار سے ہوتا ہے۔اسی تکرار کے دوران اسد لڑھکڑا کر گر جاتا ہے اور اس کی کمر میں تکلیف ہو جاتی ہے۔صبا ڈاکٹر کو فون کر کے گھر بلاتی ہے، بھولنے کی بیماری کا شکار ڈاکٹر اس انداز سے ڈرامے میں داخل ہوتا ہے کہ ہر چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور یہ مسکراہٹ پھیلتے پھیلتے قہقہوں کا روپ دھار لیتی ہے۔پروڈیوسر نے ایک تازہ دم گلوکار اشرف حسین راجپوت کو اپنے گھر کھانے پر بلایا ہوتا ہے۔ مگر اس کی جگہ ایک ایڈیٹ وہاں آ جاتا اور اپنی حرکتوں اور برجستہ مزاحیہ جملوں سے ڈرامے کو اس بلندی پر پہنچا دیتا ہے جو کسی بھی اچھے ڈرامے کا خاصا ہوتا ہے۔تکرار کے بعد پروڈیوسر کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے،جس کے بعد پروڈیوسر کی معشوق کرن اور ٹیکس انسپکٹر جنجوعہ کا ڈرامے میں نزول ہوتا ہے اور آخر میں تازہ دم گلوکار اشرف حسین راجپوت لکھنوی انداز میں ڈرامے میں در آتے ہیں اور پھر قہقہوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے،جو ڈرامے کے ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ڈرامے میں ٹیکس انسپکٹر کا کردار کرنے والے شفقت محمود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا ہر کردار پوری لگن اور جذبے کے ساتھ ادا کرتے ہیں،ڈرامے کے ہدایت کار فہیم اعظم نے بتایا کہ ڈرامے کا واحد مقصد شدید ذہنی دباوٴ کے شکار عوام کو کھل کر ہنسنے کا موقع فراہم کرنا تھا،شائقین کی ایک بڑی تعداد ڈرامے سے محظوظ ہوئی اور ہر دلچسپ جملے پر دل کھول کر قہقہہ لگایا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ڈراموں سے لوگوں کا تھیٹر کی طرف رجحان بڑھے گا،ملک میں جہاں تھیٹر اب صرف فحش رقص اور ذومعنی جملوں کی آماجگاہ بن گئے ہیں وہاں اس طرح کا ہر قسم کے لچر پن سے پاک تفریحی ڈرامہ کسی نعمت سے کم نہیں اور یہ مرتے ہوئے فن کیلئے نئی زندگی کی نوید ہے۔