![]() |
لاہور : برصغیر کی منفرد گائیکہ ملکہ پکھراج کی چھٹی برسی جمعرات کو منائی گئی۔ تقسیم ہند سے کئی سال پہلے کشمیر کی بے نظیر وادی میں بہنے والے دریائے اکھنور کے کنارے کھلنے والی اس ننھی کلی کے لئے ملکہ کا نام تجویز کیا گیا اور قدرت نے بھی اس نام کی لاج رکھی اور وہ ملکہ پکھراج بن کر اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کرتی رہی۔ انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں استاد بڑے غلام علی خاں کے والد استاد اللہ بخش سے فنی تربیت حاصل کی۔ نو برس کی عمر میں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انہیں درباری گلوکارہ بنا لیا۔ جہاں انہوں نے ٹھمری،غزل، بھجن اور ڈوگری لوک گیتوں پر عبور حاصل کر کے خطے کی مقبول ترین گلوکارہ کا درجہ حاصل کیا۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی گلوکاری کے تسلسل کو جاری رکھا۔ملکہ پکھراج کی فنی شہرت اس وقت انتہاؤں کو چھونے لگی، جب انہوں نے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا گیت ابھی تو میں جوان ہوں گایا۔ انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی طاہرہ سید کو اپنا فن منتقل کیا جبکہ ان کی نواسی روشانِ ظفر بھی ان کی ڈگر پر گامزن ہیں۔ ملکہ کی ہنگامہ خیز فنی زندگی کا اختتام بانوے برس کی عمر میں ہوا۔برصغیر کی نامور مغنیہ ملکہ پکھراج نے ایک زمانے کو اپنی گائیکی کا گرویدہ کیا ، ان کے اچھوتے فنی اسلوب نے انہیں دوسرے گائیکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
Shortlink: