پینٹنگز سے بنائی جانے والی دنیا کی پہلی فیچر فلم

کیا آپ جانتے ہیں کہ چند دہائی قبل تک شوق سے دیکھے جانے والے کارٹونز جنہیں 2 ڈی اینی میشن کہا جاتا ہے، کیسے بنائے جاتے تھے؟
آج کل تو 3 ڈی اینی میٹڈ کارٹونز کا زمانہ ہے جو کمپیوٹر سے تخلیق کرنا بے حد آسان ہے۔ لیکن چند دہائی پہلے تک بنائے جانے والے کارٹونز کو پہلے کاغذ پر بنایا جاتا تھا، اس کے بعد کاغذوں پر بنائی گئی مختلف تصاویر کو اکٹھا کر کے انہیں فلم کی شکل دی جاتی تھی۔
مثال کے طور پر مشہور زمانہ ٹام اینڈ جیری کارٹون میں جب ٹام جیری کا پیچھا کرتا ہے تو اس بھاگ دوڑ کے لیے تخلیق کاروں کو ٹام کی مختلف حرکات پر مبنی سینکڑوں تصاویر بنانی پڑتی تھیں تب کہیں جا کر ایک منظر مکمل ہوتا تھا۔
اب اسی تکنیک کو آزماتے ہوئے ایک اور منفرد فلم بنائی گئی ہے جو پینسل سے تیار شدہ تصاویر پر مبنی نہیں، بلکہ انیسویں صدی کے مشہور مصور وان گوگ کی شاہکار پینٹنگز کو دوبارہ تخلیق کر کے بنائی جارہی ہے۔
اور پینٹنگز میں موجود کرداروں کو حرکت کرتا دکھانے کے لیے، کیا آپ جانتے ہیں کتنے فن پارے تخلیق کیے گئے؟ 65 ہزار فن پارے، جی ہاں جنہیں دنیا بھر کے 100 مختلف مصوروں نے تخلیق کیا۔
فلم کا نام لونگ ونسنٹ ہے جو دراصل انیسویں صدی کے مصور وان گوگ کا اصل نام تھا۔
اس آئیڈیے کی خالق اور فلم کی پروڈیوسر ڈوروٹا کوبیلیا کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام اکیلی سرانجام نہیں دے سکتی تھیں ورنہ اس میں انہیں 80 سال لگ جاتے۔

ابتدا میں 7 منٹ کی شارٹ فلم کے آئیڈیے پر مبنی یہ فلم فیچر فلم میں تبدیل ہوگئی ہے جس میں مصور وان گوگ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا جائے گا۔
پروجیکٹ پر کام کرنے والے مصوروں کے مطابق فلم کا ایک ایک شاٹ اور ایک ایک فریم، آئل پینٹ سے تخلیق کی گئی پینٹنگ پر مشتمل ہے اور ان کا انداز ہو بہو وان گوگ کی پینٹنگز جیسا ہے۔
مرینہ جوپک بھی پروجیکٹ میں شامل مصوروں میں سے ایک ہیں۔وہ ایک گھر کا منظر دکھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ مجھے یہاں ایک عورت کو حرکت کرتے ہوئے دکھانا تھا۔ ’اس عورت کی حرکت کے لیے مجھے 12 مختلف مراحل میں لاتعداد پینٹنگز اس طرح بنانی پڑیں کہ آہستہ آہستہ عورت کا ایک کندھا غائب ہوتا اور دوسرا دکھائی دیتا نظر آئے‘۔
فلم کی باقاعدہ تخلیق سے قبل اصل اداکاروں کو بھی لیا گیا اور ان سے اداکاری کروائی گئی، بعد ازاں ان کے ریکارڈڈ مناظر کو پینٹنگز کی شکل میں ڈھالا گیا۔
فلم میں مرکزی کردار وان گوگ کا کردار ادا کرنے والے اداکار رابرٹ گل زک کا کہنا ہے کہ جب وہ ان مصوروں سے ملے تو انہوں نے کہا، ’اوہ! ہم تمہیں گزشتہ 6 ماہ سے پینٹ کر رہے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منفرد ترین فلم کا حصہ بننا ان کی زندگی کا شاندار اور یادگار ترین تجربہ ہے۔
پینٹنگز پر مشتمل دنیا کی پہلی فیچر فلم اگلے ماہ ریلیز کردی جائے گی۔
فلم کا ٹریلر دیکھیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.