اعترافی بیان پر زبردستی دستخط کروائے گئے،عافیہ

اعترافی بیان پر زبردستی دستخط کروائے گئے،عافیہ #1

نیویارک: ڈاکٹرعافیہ صدیقی نے کہا ہے کہ انہیں افغانستان میں ایک خفیہ جیل میں رکھا گیا۔ تفتیش کرنے والوں میں بھارتی باشندے بھی شامل تھے۔ استغاثہ نے عدالت میں مزید گواہ پیش کرنے کی درخواست کردی۔جمعرات کومقدمے کی سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور وکلا کے سوالوں کے تفصیل سے جواب دئیے۔ ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ افغانستان میں دوران قید انہیں بچوں کے قتل کی دھمکیاں دے کراعترافی بیان پردستخط کروائے گئے۔ وہ اپنے بچوں کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹرعافیہ نے وضاحت کی کہ انہیں رائفل چلانا آتی ہے نہ انہوں نے امریکیوں پر گولی چلائی بلکہ بستر سے اٹھتے ہی انہیں بلا اشتعال گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکا کے خلاف لکھنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز جعلی ہیں۔ ایسی ہی دستاویز کی بنیاد پر امریکا کو جنگ میں دھکیلا گیا۔ڈاکٹرعافیہ خاندان کی ترجمان ٹینا فوسٹرنے  بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ نے بہت مظالم سہنے کے بعد بالآخرخود کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں، یہ خوشی کی بات ہے کہ بالآخرڈاکٹرعافیہ کو خود کو حق بجانب ثابت کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں سمجھتی ہوں ڈاکٹرعافیہ نے بہت تکلیف اٹھائی ہے اور اب اس بات کی ضرورت ہے کہ ڈاکٹرعافیہ رہا ہوکر جلد از جلد پاکستان لوٹ جائیں۔ درحقیقت ڈاکٹر عافیہ نے دوران سماعت بہترین انداز میں اپنا دفاع کیا ہے۔ ایک عورت اوربالخصوص ایک مسلمان عورت ہوتے ہوئے تمام نا انصافیوں کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے۔ٹینا فوسٹر نے کہا کہ مقدمہ کی کارروائی ڈاکٹرعافیہ کے حق میں جارہی ہے۔ مقدمے کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں ڈاکٹر عافیہ کے بیٹے احمد نے جائے اغوا کی نشاندہی کردی۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن نیاز کھوسو کی سربراہی میں قائم ڈاکٹر عافیہ اغوا کیس کی تفتیشی ٹیم ڈاکٹر عافیہ کے گھر پہنچی اور احمد کو ساتھ لے گئی۔ احمد نے گلشن اقبال کے ایک پارک کے قریب کھڑے ہوکر بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اسے اس کی ماں کے ہمراہ اغواکر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔

Shortlink: