واشنگٹن:امریکا میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی جبکہ جمعہ کو ہونے والی سماعت میں مزید دو گواہوں پر جرح مکمل کرلی گئی۔نیویارک میں ہونے والے ٹرائل کے دوران ایک گواہ نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے 19سال قبل بوسٹن میں پستول چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔وکیل صفائی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر گواہ کا کہنا تھا کہ اس تربیت کا نہ توکوئی ریکارڈ ہے نہ ہی اس کے لیے کی گئی ادائیگی کا ثبوت تاہم دو ہفتے قبل جب ایف بی آئی کے اہلکار اس کے پاس آئے اور انھوں نے ڈاکٹر عافیہ کی تصویر دکھائی تو اسے سب کچھ یاد آگیا۔عدالت میں ایک افغان عینی شاہد کی ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں گواہ کا دعویٰ تھا کہ ایم فور رائفل کی گولیوں کے دوخالی کیس ملے تھے ۔اس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی آواز اس وقت آئی جب امریکی فوجی پردے کے پیچھے گیا تھاتاہم اس نے ڈاکٹر عافیہ کے ہاتھ میں ایم فور رائفل نہیں دیکھی۔عدالت میں ایف بی آئی ایجنٹ کے گواہ کے بیان میں تضاد کی نشاندہی کی گئی۔اس نے اپنے تحریری بیان میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بندوق بھاگنے کے لیے اٹھائی تھی جبکہ ویڈیو بیان میں اس سے انکار کردیا اور کہا کہ اس نے ڈاکٹر عافیہ کے ہاتھ میں رائفل نہیں دیکھی۔
Shortlink: