![]() |
ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان القاعدہ کی قیادت کو پکڑنے اور پاکستان میں ان کے ٹھکانے ختم کے لیے راضی نہیں ہوتا یا ایسا عمل نہیں کرتا تو امریکہ کو خود ایسا کرنا چاہیے۔ دونوں رہنماو¿ں نے واضح کیا کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ پاکستان کے بارے میں کیا پالیسی رکھیں گے۔مباحثے سے قبل امریکی فوج کی جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کا مسئلہ زیادہ خطرناک نہیں ہے تاہم اسے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا: ،پاکستان میں صورتِ حال بہت کشیدہ اور انتہائی خطرناک ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان ٹوٹنے والا ہے اور ہمیں ضرورت سے زیادہ ردِ عمل کا اظہار کرنا چاہیے۔ایڈمرل مائیکل مولن نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ہفتے مذاکرات کے دوران پاکستان کی فوجی قیادت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی پاک افغان سرحد پر امریکی فوج کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔مباحثے کے دوران سینیٹر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پالیسی یہ رہی کہ اس نے (جنرل ریٹائرڈ مشرف سے تعلق رکھا لیکن) پاکستانی عوام کو تنہا کر دیا۔ ،اگر میں امریکہ کا صدر بنا تو یہ صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی۔اس کے جواب میں سینیٹر مکین کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف صدر بنے اس وقت پاکستان ایک ناکام ریاست تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستانی عوام کی حمایت کی ضرورت ہے جس کی ان کے صدر بننے کی صورت میں کوشش جاری رکھی جائے گی اور پاکستان کی امداد ختم نہیں کی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میریئٹ پر گزشتہ سینچر کو ہونے والے حملے کا مقصد یہ تھا کہ ،وہ (شدت پسند) نہیں چاہتے کہ پاکستان حکومت امریکہ کے ساتھ تعاون کرے۔باراک اوباما کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کو دس بلین ڈالر کی امداد دی ہے لیکن پاکستان نے وہ نہیں کیا جو اسے (پاکستان کو) کرنا چاہیے تھا۔دونوں رہنماو¿ں نے افغانستان اور عراق کی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کی اور ایک دوسرے کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوو¿ں کی ،کمزوریاں، اجاگر کیں۔ جان مکین کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق میں جنگ جیت رہا ہے اور اگر سینیٹر اوباما کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی تھی۔
Shortlink: