![]() |
ڈبلن:آئرش حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ کیتھولک چرچ سے منسلک پادری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث رہے ہیں اور چرچ سربراہان نے تقریباً تین دہائیوں تک ان جرائم کی پردہ پوشی کی۔46پادریوں کے خلاف الزامات کی تحقیق کرنے والے حکومتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے رومن کیتھولک چرچ کے چار سربراہان1975 سے 2004 کے دوران پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات سے واقف تھے لیکن انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے بجائے چرچ کی ساکھ بچانے کو ترجیح دی۔کمیشن کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ سرکاری حکام نے بھی ان جرائم کی پردہ پوشی کرنے میں چرچ سربراہان کا ساتھ دیا۔حکومت نے اس صورتِ حال پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والے ان پادریوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ رپورٹ کے مطابق،جرائم میں ملوث پادریوں میں سے ایک نے 100سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی کا اعتراف کیا جبکہ ایک اور کا کہنا تھا کہ وہ پچیس برس تک یہ شرمناک فعل سرانجام دیتا رہا۔
Shortlink: