![]() |
کراچی:ملک بھر میں آج وکلا نے یوم آزادی عدلیہ منایا،تین سال پہلے آج ہی کے دن سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے چیف جسٹس کو افتخار محمد چودھری کومعطل کردیا تھا جس کے خلاف وکلا نے کامیاب تحریک چلائی تھی ۔ اس دن کی مناسبت سے وکلا نے مختلف شہروں میں یوم آزادی عدلیہ منایا۔وکلا کے یوم آزادی عدلیہ کے حوالے سے لاہور بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلا آج عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ لاہور بارایسوسی ایشن کا کہنا تھاکہ وکلانے ثابت کردیاکہ عدلیہ کی آزادی پرآنچ نہیں آنے دیں گے، بعدازں وکلانے ایوان عدل سے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی۔اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا،جس سے سینئر وکلا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نو مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں وکلا نے یوم آزادی عدلیہ منایا ،اس موقع پر وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ وکلا رہنماوں کا کہنا تھا کہ وکلا اور سول سوسائٹی نے عدلیہ کی آزادی کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی۔کراچی بار ایسوسی ایشن کے تحت9مارچ کی یاد میں خصوصی اجلاس ہوا۔وکلا کا کہنا تھاکہ9مارچ کو آمر کے سامنے سر نہ جھکا کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نئی تاریخ رقم کی۔ راول پنڈی کی ضلعی کچہری سے بھی وکیلوں نے ریلی نکالی جو اسلام آباد میں سپریم کورٹ عمارت پر ختم ہوئی۔
Shortlink: