بلوچستان میں قیامت صغریٰ ،600افراد جاں بحق ، سینکڑوں زخمی

کوئٹہ[L:4 R:228]زیارت:صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں600افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے جاں بحق ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے،سرکاری ٹی وی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا رات 4بجکر 3 منٹ پر محسوس کیا گیا۔ زلزلے کے جھٹکے 40 سیکنڈ تک جاری رہے جس نے کوئٹہ وگردو نواح میں تبادہی مچا دی جس کے نتیجے میں بچوں اورعورتوں سمیت 600افراد جاں بحق ہوگئے زلزلے سے بڑی تعداد میں پہاڑی تودے گھروں پر آ گرے جس سے گھروں میں موجود لوگ ملبے تلے دب گئے ہیں جب کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاررائیوں میں مصروف ہیں ۔ زلزلے کا مرکز پشاور سے 500کلو میٹر دور جنوب مشرق تھا اور زلزلہ پیما مرکز کوئٹہ کے مطابق زلزلے کی شدت 6.5ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے تین جھٹکے محسوس کیے گئے جب کہ تیسرا جھٹکا اس قدر شدید تھا کہ سبی ، بولان، چمن ، قلات ، مستونگ و دیگر مقامات پر کئی کچے مکانات منہدم ہو گئے ۔زلزلے کے بعد مساجد سے لوگوں کو اعلانات کر کے گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایات کی گئیں اورعلاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے کھلے مقامات پر نکل آئے ۔زلزلے کے بعد بجلی بھی بند کر دی گئی ہے اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ۔زلزلے کے بعد وزیر اعلی بلوچستان اسلم رائیسانی نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کانفاذ کر دیا اورتمام اسٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا ۔ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی کہ شہروں میں گشت بڑھا دیں۔زلزلے کے جھٹکوں کے بعد شہریوں میں خوف ہراس پھیل گیا اورلوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے نکل کر باہر آگئے،خوف و ہراس کے باعث لوگوں کو جگانے کے لئے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی ۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ضلع ناظم زیارت نے بتایاکہ صرف زیارت کے علاقے میں ہی85سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور درجنوں لاپتا ہیں زخمی افرادکوطبی امداد دینے میں مشکلات کا سامناہے۔تودے گرنے سے کئی مکانات منہدم اور راستے بند ہوگئے اورکئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ۔حکومت نے صوبے کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق زیارت میں 85افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔وزیراعظم نے واقعہ پر شدیدافسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور نقصان کے تخمینے کی ہدایت کردی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع پشین کی تحصیل خوشاب اور چمن کے علاقے توبہ اچکزئی میں بھی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔مرنے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ۔متاثرہ علاقوں میں کئی مقامات پر پہاڑی تودے گرنے سے متعدد مکانات منہدم ہوگئے اور لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ضلع زیارت وام کے گاؤں ملک میر عالم میں پہاڑی چوٹی پر واقع دومکانات پر بھی پہاڑی تودہ گرا جس کے ملبے میں درجنوں افراد دبے ہیں ۔ زیارت میں کوان ، ورچوم ، کلی شادی خان ، کلی کانڑ اورکلیری کے علاقوں میں 50افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے،جبکہ ان علاقوں کابجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے ۔متاثرہ علاقوں میں مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔راستے بند ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فرنٹیئر کور کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے کوئٹہ سے دو فوجی ہیلی کاپٹروں پر امدادی دستے زیارت کے گاؤں ورچون اور کواس میں بھیج دیئے ہیں ۔ پاک فوج کے امدادی دستوں کے ساتھ میڈیکل ٹیم بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی کے ڈی آئی جی زیارت پہنچ گئے ہیں اور وہاں امدادی کارروائیوں کے لئے درکار ضرورت کا جائزہ لے رہے ہیں ۔فرنٹیئرکور کے آئی جی میجر جنرل سلیم نواز نے ایک نجی ٹی وی کو بتایاکہ ایف سی کی ٹیمیں پشین اور توبہ اچکزئی پہنچ گئی ہیں ۔ان علاقوں میں ایف سی کے کمانڈنٹس مقامی انتظامیہ اور لوگوں سے رابطے میں ہیں اور امدادی کارروائیاں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے لئے تین سے چار ہیلی کاپٹر کافی ہوں گے ۔دریں اثناء وزیرصحت حاجی عین اللہ نے بتایا کہ یونین کونسل کواس میں 85لاشیں لائی گئی ہیں۔زلز لے سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے اے آئی جی مجاہد اویس کی زیرنگرانی آپریشن روم قائم کردیاگیاہے۔زلزلے کے فوری بعد انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرکے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ ڈی جی محکمہ موسمیات قمرالزمان چوہدری نے میڈیا کو بتایاکہ زلزلہ آنے سے پہلے بتانا ممکن نہیں ہے کہ زلزلہ آئے گا جبکہ اب یہ بتایا جاسکتاہے کہ مزید زلزلوں کا خدشہ ہے۔

Shortlink: