بمبئی میں دھماکوں میں پاکستان کی قیادت میں مشاورت اور فیصلہ کن اقدام کا فقدان نظر آ رہا ہے،حافظ حسین احمد

جہلم:جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر سابق رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت ،افغانستان اور امریکہ کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیاہے جبکہ بمبئی میں دھماکوں میں پاکستان کی قیادت میں مشاورت اور فیصلہ کن اقدام کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی کا بھارت جا کر تفتیش کرنا اور یہ کام بغیر مشاورت کے حامی بھر کر معاملہ کو الجھا دیا جس کے باعث بھارت نے ڈی جی کو،،سمن،، کیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ جب ہم نے بار بار کہا کہ فوج کو قبائلی علاقوں سے ہٹا کر ملکی دفاع پر لگانا چاہئے لیکن آج خود حکومت بعد از وقت خود کہہ رہی ہے کہ فوج کو قبائل سے نکالنے کیلئے بھارت کی دھمکی کا انتظار تھا کیونکہ ہمارے وزیر خارجہ کا دھماکے کے بعد بھارت میں قیام و طعام اور میڈیا سے گفتگو ناقابل فہم ہے انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان سے قبائلی علاقوں سے فوج نکال کر معاملات سدھارنے کیلئے اس کی ذمہ داری اپنی اتحادی جماعتوں جے یو آئی اور اے این پی کو دے دیں تبھی معاملات سدھر سکتے ہیں کیونکہ آج حکومت آل پارٹیز بلانے کا اہتمام کررہی ہے جبکہ گزشتہ دس ماہ سے حکومت کی اتحادی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس نہ ہوا ہے بلکہ ہر جماعت کے قائدین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے عدم اعتماد کی فضا کو پروان چڑھایا گیا اگر ابتداء سے ہی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر باہمی مشاورت سے متفقہ فیصلے کئے جاتے تو نہ مسلم لیگ ن اقتدار سے الگ ہوتی اور نہ ہی کراچی میں ایم کیو ایم اور اے این پی دست وگریباں ہوتے انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پٹھانوں کو ان کے کاروبار سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ اے این پی بذام خود سرحد کے پٹھانوں کی علمبردار جماعت ہے۔

Shortlink: