اسلام آباد : وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ابھی تک بھارت نے جو معلومات مہیا کی ہیں اس میں جماعت الدعو کے سربراہ حافظ سعید کا ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور بھارت کو تھوڑا انتظار کرنا چاہیے،پاکستان اگر ماسٹر مائینڈ لکھوی کو گرفتار کر سکتا ہے تو حافظ سعید کو گرفتار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے،قبائلی علاقوں میں بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت ہیںاور جلد ہی بھارتی قیادت کے حوالے کروں گا،ٹھوس ثبوت کی بنیاد پرممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں جلد مقدمہ چلایا جائے گا۔بر طانوی نشریاتی ادارے کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ان کو حکومت پاکستان نے واچ لسٹ میں ڈالا اور ساتھ ہی ان کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن عدالت نے ان کو ضمانت ہر رہا کر دیا۔اگر بھارت کے پاس حافظ سعید کے ملوث ہونے کا کوئی بھی ثبوت ہے تو فراہم کرے اور وہ ان کے خلاف ضرور کارروائی کریں گے۔وفاقی وزیر برائے داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور بھارت کو تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔،ہم تحقیقات سے کافی آگے جا چکے ہیں۔ ہم نے تحقیقات کر کے سات ملزمان کو گرفتار کیا، عدالت میں پیش کیا اور سبھی کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی ہے۔ بھارت کو پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان بھی بھارت کے عدالتی نظام پر اعتماد کرتا ہے۔،وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستانی قیادت نے بھارت کے ساتھ بغیر شرط کے تعاون کا جو وعدہ کیا اسے پورا کیا اور انہوں نے سات ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جس میں حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور بھارت کو تھوڑا انتظار کرنا چاہیئے۔دیکھیں بات یہ ہے کہ اگر عدالت بھی ہم ہوں اور فریادی بھی ہم ہوں پھر تو میں بات کر سکتا ہوں۔ سرکاری وکیل ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر بہتر کام کر رہے ہیں جو ہمیں تحقیقات سے ملے تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس جو ثبوت ہیں وہ کافی ٹھوس ہیں لیکن عدالتی کارروائی میں وقت تو لگے گا۔رحمان ملک کے مطابق بھارت نے حال ہی میں ایک اور دستاویز دی ہے جس کا جائزہ لے کر ہی پاکستان اپنا بیان دے گا۔ ،جو بھی معلومات ہم نے مانگی کافی حد تک بھارت نے فراہم کی ہیں۔ امید ہے کہ جب میں نیا دستاویز دیکھوں گا تو اس میں اگر کوئی کمی پیشی ہوئی تو میں ضرور بھارت کو بتاؤں گا۔،پاکستان میں ممبئی حملوں کا مقدمہ عدالت میں کب تک چلے گا، اس سوال پر وزیر داخلہ نے کہا ،سرکاری وکیل ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر بہتر کام کر رہے ہیں جو ہمیں تحقیقات سے ملے تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس جو ثبوت ہیں وہ کافی ٹھوس ہیں لیکن عدالتی کارروائی میں وقت تو لگے گا۔،انہوں نے کہا کہ مقدمہ جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی دیر نہ ہو۔ ان کا اندازہ ہے کہ تین چار ماہ میں یہ مقدمہ پورا ہو جانا چاہیے۔ رحمان ملک نے کہا کہ بھارت کو انتظار کرنا چاہیئے، ہم اس کی عدالتوں کی عزت کرتے ہیں اور ان کو بھی ہماری عدالتوں کی عزت کرنی چاہیئے۔ دونوں طرف سے عدلیہ کی عزت ہونی چاہیئے اور بھارت کو پاکستان کی عدلیہ پر اعتماد کرنا چاہیئے۔،یاد رہے کہ ذکی الرحمان لکھوی، حامد امین صادق اور عبدالواحد سمیت سات ملزمان کے خلاف ممبئی حملوں کا مقدمہ راولپنڈی کی ایک عدالت میں چل رہا ہے اور تقریباً دو ہفتے پہلے جج باقر علی رانا نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست دی تھی کہ وہ اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس نے اس مقدمے کے لیے جج باقر علی رانا کی جگہ نئے جج اکرم اعوان کو نامزد کیا۔ بلوچستان اور جنوبی وزیرستان میں بھارتی مداخلت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں۔ جب میں بھارتی قیادت سے ملاقات میں ثبوت ان کے حوالے کروں گا۔رحمان ملک کا کہنا ہے ،میں اس سے متفق نہیں ہوں اور ان (بھارت) کے اپنے جج بھی سماعت کرنے سے معذرت کر لیتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی ملزمان یا ان کے وکیل یہ کہہ دیں کہ آپ (جج) جانبدار ہیں اور آپ کا کسی دوسرے فرقے سے تعلق ہے۔ اگر جج کوئی سزا بھی دے گا تو شاید ان کی اتنی غیرجانبداری نہیں مانی جائے گی۔،ان کے مطابق جج نے اپنے چیف جسٹس کو لکھا تھا کہ ملزمان کے وکیل ان پر بھروسہ نہیں کرتے اس لیے وہ یہ مقدمہ نہیں چلا سکتے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے دوسرے جج کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔جہادی پبلیکیشن پر بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ ان کے نوٹس میں یہ بات نہیں ہے کہ کالعدم جہادی تنظیمیں نئے ناموں سے اپنی پبلیکیشن چھپوا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی پبلیکیشن چھپ رہی ہے تو اس پر فوراً پابندی لگائی جائے گی۔
Shortlink: