![]() |
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایف آئی کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ کی پانچ سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانے کی سزا بحال کر دی جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی لاجز بینچ نے این آر او فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران احمد ریاض شیخ کی سزا بحال کرتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ عدالت نے نیب کو لوٹی ہوئی رقم وصول کر کے تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔بعد میں احمد ریاض شیخ کمرہ عدالت سے پولیس نے گرفتار کر لیا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے احمد ریاض شیخ نے کہا کہ وہ آج کچھ نہیں کہنا چاہتے تاہم عدالتی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ احمد ریاض کا کہنا تھا کہ وہ جیل جا کر اپنے کیس کا دفاع کریں گے۔ گذشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے احمد ریاض شیخ اور ان کے اہل خانہ کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا تھا،یاد رہے کہ احمد ریاض شیخ بھی این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ انہیں سزا یافتہ ہونے کے باوجود گریڈ اکیس میں ترقی دے کر اکنامک کرائم ونگ کا ایڈیشنل ڈائریکٹر لگا دیا گیا تھا۔
Shortlink: