![]() |
اسلام آباد: سیالکوٹ میں گزشتہ ماہ پندرہ اگست کو دو بھائیوں کے وحشیانہ قتل کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی۔ رپورٹ میں دو نوں بھائیوں کو ڈاکو کے الزام سے بری الزمہ قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر اور میڈیکل افسر کی طرف سے بنائی گئی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی بظاہر ناحق قتل ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو جسٹس کاظم ملک ریٹائرڈ کی طرف سے تیار کی گئی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔چیف جسٹس نے رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے حوالے کرنے اور اسے منظر عام پر لانے کا حکم دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیالکوٹ پولیس واقعہ میں برابر کی ملوث ہے جس نے واقعے کو الگ رنگ دیا ہے ، دونوں بھائیوں سے برآمد ہونے والا مبینہ اسلحہ بھی پولیس کی جعلسازی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے قتل کے وقت دونوں بھائیوں کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا، دونوں بھائیوں کی مجرمانہ سرگومیوں کی کی رپورٹ نہیں ملی، جبکہ ڈاکٹروں نے قتل کے شواہد مسخ کئے۔تین رکنی بنچ نے ایڈیشنل آئی جی مشتاق سکھیرا کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مقتول بلال کے قتل کے حوالے سے ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا۔ ایس پی سیالکوٹ عدالت میں ضمنی ایف آئی آر پیش نہیں کر سکے، عدالت نے واقعے میں ملوث ایس ایچ او رانا محمد الیاس سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو فوری گرفتار کرکے بدھ کے روز عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
Shortlink: