![]() |
اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے ملک کی معیشت کو مجموعی طور پر تینتالیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔متاثرین سیلاب میں امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز رواں ہفتے شروع کر دیا جائے گا۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیلاب سے نقصانات کا جائزہ لیا گیا، اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس تین ستمبر کو طلب کیا گیاہے ،جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے اور امدادی معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے مطابق گھروں ،فصلوں اور زمینوں کو مجموعی طور پر چار سے چھ بلین ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے جبکہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی پر آٹھ سے نو بلین ڈالرز لاگت آئے گی۔جبکہ واپڈا اور پیپکو کو تیرہ بلین ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہناتھا کہ جی ڈی پی کا ہدف چار اعشاریہ پانچ سے کم کر کے دو اعشاریہ پانچ کر دیا گیاہے جبکہ افراط زر نو اعشاریہ پانچ سے بڑھ کر بارہ فیصد ہو سکتی ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھے گی۔قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے ملک بھر میں سترہ سو ساٹھ افراد جاں بحق اور دو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی تک ریلیف کا کام جاری رہے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے ڈو کروڑ افراد متاثر، پچہتر لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ ساڑھے تیرہ لاکھ افراد کو ریسکیو کیا گیا۔انھوں نے کہاکہ ملک میں چار ہزار ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ، جہاں متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس وقت گدو پر پانی کا اخراج چار لاکھ، سکھر بیراج پر پانچ لاکھ جبکہ کوٹری بیراج پر سات لاکھ کیوسک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملک میں مون سون کا نیا سلسلہ داخل ہو چکا ہے، جس سے مزید بارش کا امکان ہے۔
Shortlink: