![]() |
اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کے لئے چیلنج ہے لیکن اسے صرف فوجی کارروائی کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے کہا کہ افغانستان کی خود مختاری پاکستان کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ افغانستان میں یکجہتی اور دونوں ملکوں کے درمیان روابط کا فروغ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ مکمل کامیابی تک جاری رکھیں گے۔حامد کرزئی نے افغانستان میں بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ پاک افغان صدور کی ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود بھی مذاکرات میں شامل ہوگئے۔ صدر زرداری کی معاونت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اعظم سواتی، رحمان ملک اور قمر زمان کائرہ نے کی۔ کرزئی کے ساتھ وزیر خارجہ ڈاکٹر زلمے رسول اور قومی سلامتی کے مشیر امراللہ موجود تھے۔ اس سے پہلے حامد کرزئی دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو چیئر مین سینیٹ فاروق نائیک اور وفاقی وزرا نے ان کا استقبال کیا۔وہ کل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ حامد کرزئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے ارکان سے بھی ملیں گے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی صدر اور امریکی وزیر دفاع کے دورہ کابل کے بعد کرزئی افغانستان میں سیاسی عمل پر ایک فریم ورک پاکستان لائے ہیں۔
Shortlink: