صدر مشرف نے جسٹس افتخار کی بحالی کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے،اعتزاز احسن

اسلام آباد:صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور ایوان صدر اس حوالے سے مسلسل سازشوں میں مصروف ہے یہ بات بیرسٹر اعتزاز احسن نے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے پی سی او کے تحت معزول کیے گئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اعتزاز احسن نے کہا کہ جس دن ججز بحال ہوں گے اسی دن وکلاء تحریک ایک اختتامی جشن کے ساتھ ختم کر دی جائے گی لیکن اگر وکلا ء کی بحالی تیس دن میں ممکن نہ ہو سکی تو وکلاء کے پا س تحریک چلانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس افتخار چودھری وکلاء رہنماؤں کے ہمراہ بیس منٹ کے لیے آصف علی زرداری سے ملے ہیں جس میں صرف محترمہ کے لیے فاتحہ خوانی اور انکی زندگی کی یا دوں کے حوالے سے بات کے بعد ہم واپس آگئے تھے بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ججز کالونی کے داخلی راستے پر آ کر جسٹس افتخار سے ملا قات کے لیے خار دار تار کاٹنے کی کو شش کی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ جسٹس افتخار ہی ہمارے چیف جسٹس ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں سے جسٹس افتخار چودھری کے گھر پر جھنڈا لہرائیں گی اسلیے چیف جسٹس افتخار چودھری کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ فاتحہ خوانی کے لیے وہاں جاتے اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے مکان پر قیضے کی کو شش کرنے والوں کو سو چنا چاہیے کہ کسی اور جج کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے ۔بعد ازاں جسٹس افتخار چودھری اپنی رہائش گاہ سے اسلام باد ایئر پورٹ روانہ ہو گئے انکے ہمراہ کئی درجن وکلاء بھی کوئٹہ روانہ ہوئے ہیں وکلاء اور سول سو سائٹی کے علاوہ سابق وفاقی وزیر جے سالک کے ہمراہ آنے والے سکولوں کے بچوں نے بھی جسٹس افتخار چودھری کی رہائش گاہ پر آ کر انہیں کو ئٹہ جانے کے لیے الوداع کہااور انھیں بھول پیش کیے ۔

Shortlink: