عالمی دباؤ پربھارت مذاکرات پر مجبور ہوا، گیلانی

February 6, 2010  

عالمی دباؤ پربھارت مذاکرات پر مجبور ہوا، گیلانی #1

اسلام آباد: وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کے دباوٴ نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا، عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کی حقیقت سے آشنا ہو چکی ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اسلام ایباد میں آزاد کشمیر کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو اس حقیقت کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل حل طلب مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے ہی مسئلہ کشمیر کے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کا خواہش مند رہا ہے اور چاہتا ہے کہ مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانیوں کا موقف تبدیل نہیں ہوا، حکومت پاکستان کشمیر کی آزادی تک کشمیریوں کی جدوجہد کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، خطے میں امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ بعد ازاں پی این سی اے اسلام ایباد میں قومی کشمیر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پہلے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم ابھی تک کشمیر اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے حالیہ مذاکرات کی بھارتی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام ایشوز مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔