قومی سلامتی و ملکی بقا سالمیت کیلئے حکومتی پالیسی کا ساتھ دیں گے ،لیاقت بلوچ
November 30, 2008
رسالپور:جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ایم این اے لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعہ کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں لیکن افسوس کے بھارت نے بغیر کسی سوچے سمجھے الزام پاکستان پر لگادیا ہے لیکن وہ صرف اتنا سوچیں کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے قومی سلامتی و ملکی بقا سالمیت کیلئے حکومتی پالیسی کا ساتھ دیں گے لیکن حکومت بھی اپنی پالیسی وضع کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب اور اخبارنویسوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ضلعی امیر جماعت اسلامی آصف لقمان بھی موجود تھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت عالمی استعمار امریکہ کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان افغانستان اور بھارت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور امریکہ دو نیوکلیئر طاقتوں کا تصادم چاہتا ہے تاکہ امریکہ اس خطے میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے اس لیے مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہئے تاکہ کسی استعمار کو موقع نہ ملے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت اے پی سی بلا کر اپنا شوق پورا کر لے لیکن ملکی حالات اے پی سی کے بلانے سے نہیں بلکہ تب بہتر ہوں گے جب حکومت پارلیمنٹ کو بااختیار کر دے اور اداروں کو مستحکم۔ کیونکہ جنرل مشرف چلا گیا ہے لیکن ملک میں اب بھی وہی پالیسیوں کا تسلسل جاری و ساری ہے آئے رو امریکی گن شپ طیارے ہمارے قبائلی علاقوں میں بمباریاں کر کے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا لیتے ہیں مشرف دور حکومت کی پالیسیاں تبدیلی کرنا ہوں گی ورنہ حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن پاکستانی عوام نے موجودہ حکومت کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ یہی لوگ جا کر ملک میں عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی کیلئے اقدامات کریں گے لیکن اس حکومت نے تو عوامی مینڈیٹ کی توہین کر کے نہ تو افتخار محمد چوہدری کو بحالی کیا اور نہ73ء کے آئین کو اپنی اصل شکل میں بحال کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں حکومت نے پارلیمنٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے لیکن اگر حکومت پندرہ ارب ڈالر جو کہ ملک سے چوری کر کے باہر ممالک مشتعل کئے گئے ہیں واپس اپنے ملک منتقل کریں تو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہیں انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملکی لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس نہیں لاسکتے ان کو حکمرانی کا حق ہی نہیں۔


