![]() |
لاہور: لاہور کی سیشن کورٹ میں وکلاء نے حبس بے جا کی درخواست پر پولیس افسروں کے پیش نہ ہونے پر احتجاجاً کمرہ عدالت پر قبضہ کرکے پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔سیشن عدالت میں دائر حبس بے جا کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تھانہ سمن آباد تھانہ کے ایس ایچ او نے خاتون وکیل محسنہ اختر کے گھر میں گھس کر انہیں اہل خانہ سمیت مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایااور تھانے لے جاکر چھوڑ دیا جبکہ اس کے دو بھائی تاحال غیر قانونی حراست میں ہیں۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ محسنہ اختر ایک مقدمہ میں ضمانت پر تھیں لیکن عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے کر تشدد کیا گیا۔ فاضل سیشن جج نے وکلاء کی درخواست پر ایس ایچ او سمن آباد اور متعلقہ ایس پی کو طلب کیا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے جس پر مشتعل وکلاء نے کمرہ عدالت پر قبضہ کرلیا اور وہاں آنے والے اسلام پورہ پولیس کے اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔لاہور ڈسٹرکٹ بار کے صدر ساجد بشیر کا کہنا ہے کہ وکلاء نے کمرہ عدالت پر قبضہ نہیں کیا، پولیس کے رویے کے خلاف وکلاء چھبیس فروری کو ہڑتال کریں گے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زوار احمد شیخ کے حکم پر بیلف نے تھانہ سمن آباد میں چھاپہ مار کر دونوں بھائیوں کو ساجد اور نثار کو پولیس کی غیرقانونی حراست سے بازیاب کرالیا۔
Shortlink: