مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس جمعہ کو طلب

مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس جمعہ کو طلب #1

اسلام آباد: حکومت نے متاثرین سیلاب کی تین سال میں بحالی کیلئے منظم طریقہ کار طے کر لیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کو مجموعی طور پر تینتالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس تین ستمبر کو طلب کرلیا۔ متاثرین میں امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز رواں ہفتے شروع کردیا جائے گا۔اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کابینہ کو اب تک ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سیلاب سے براہ راست دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ،بارہ لاکھ گھر منہدم ہوگئے۔ انچاس ہزار افراد کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار پل اور چار ہزار کلو میٹر سڑکیں سیلابی پانی کی نذر ہو گئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پیپکو اور واپڈا کو مجموعی طور پر تیرہ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سیلاب سے زراعت اور معیشت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے،اٹھارہ لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے آئندہ مال سال میں بھی زراعت کے شعبے پر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں، سبزیوں، گوشت اور دودھ کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس طرح کے نقصانات سے بچنے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی جا رہی ہے، دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ متاثرین سیلاب کو صحت اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے جن سے نمنٹے کیلئے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور تین سال میں متاثرین کی بحالی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

Shortlink: