اسلام آباد: معاشی ترقی کے دعوؤں کے باوجود پاکستان کی نصف سے زائد آبادی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے ۔پاکستان میں گذشتہ دور اقتدار میں سات فیصد معاشی شرح نمو کا دعوی کیا گیا لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے ۔صحت اور تعلیم پر جی ڈی پی کامحض دو اعشاریہ چار فیصد خرچ ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سماجی اعشارئیے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں حوصلہ افزا نہیں ہیں۔محبوب الحق ہیومن ڈوپلمنٹ سنٹر کی دس سالہ جائزہ رپورٹ کے مطابق نو مولود بچوں کی شرح اموات ایک ہزار بچوں میں اناسی ہے ۔جبکہ ایک لاکھ خواتین میں پانچ سو خواتین دوران زچگی وفات پا جاتی ہیں ۔ملک کی پچاس فیصد بالغ آبادی ناخواندہ ہے اور پرائمری تعلیم کے بجائے اعلی تعلیم پر زیادہ رقم خرچکی جا رہی ہے۔پاکستان کی چوہتر فیصد آبادی کی یومیہ آمدن دو ڈالر سے بھی کم ہے اور دیہات کی چھتیس فیصد آبادی غربت کا شکار ہے ۔دیہی اور شہری علاقوں کی آمدن میں بھی فرق بڑھ گیا ہے ۔
Shortlink: