وکلاء تحریک کامیاب ترین موومنٹ ہے،ا س کے دباؤ سے 48 جج بحال ہوئے،اعتزازاحسن

لاہور: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ فاٹا اور قبائلی علاقوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ان علاقوں میں حکومتی رٹ قائم ہونی چاہئے اور اس کیلئے سیاسی اور فوجی دونوں پالیسیاں اپنانا ہونگی، افتخار چوہدری کے بطور چیف جسٹس حلف اٹھانے تک وکلاء تحریک جاری رہے گی، پیپلز پارٹی میں بعض لوگ ججوں کی بحالی نہیں چاہتے۔ وہ گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ زمان پارک کے سبزہ زار میں پارٹی کارکنوں کے اعزاز میں دی گئی دعوت افطار کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ چوہدری اعتزاز احسن کی دعوت افطار میں پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پارٹی تنظیم سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں، فیڈرل کونسل کے جنرل سیکرٹری خالد احمد خان کھرل، پی پی لاہور کے صدر عزیز الرحمن چن، صوبائی فنانس سیکرٹری اورنگزیب برکی، منیر احمد خان، نوید چوہدری، آصف ہاشمی، طاہر خلیق، شاہد امتیاز، ایاز عمران، ساجدہ میر سمیت دیگر شریک ہوئے۔ اعتزاز احسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک ملک کی کامیاب ترین تحریک ہے اب تک 60 معزول ججوں میں سے 48 جج اسی تحریک کے دباؤ کے نتیجہ میں بحال ہوئے، اگرچہ ہم اس انداز کی بحالی کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ججوں کی بحالی کا کریڈٹ وکلاء تحریک کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تحریک ہر وقت ایک ہی طرز پر نہیں چلتی اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن یہ تحریک اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف نہیں اٹھا لیتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں بہت سے لوگ وکلاء تحریک کے حامی ہیں، پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک میں بھی شریک رہی لیکن پارٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ججوں کی بحالی نہیں چاہتے، ان کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کیلئے 9مارچ، 5 اگست اور 7 اگست کو تحریری معاہدے کئے گئے اور ججوں کی بحالی کا قوم سے وعدہ کیا گیا لیکن کچھ لوگوں نے ایسا نہ ہونے دیا۔

Shortlink: