![]() |
ٹھٹھہ: سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں سیلاب نے تباہی مچادی۔ پندرہ سو سے زیادہ دیہات زیر آب ہیں۔ سپریو بند میں شگاف دو سو فٹ چوڑا ہوگیا۔ پانی تیزی سے میہڑ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گیسٹرو سے مزید دس بچے جاں بحق ہوگئے۔ ٹھٹھہ کے علاقے لادیو اور سچ جان خان مکمل خالی کرالیا گیا۔ ریلا کارو گونگرو میں داخل ہوگیا۔ سیلاب کا رخ بدین کے علاقے احمد راجو کی جانب ہے۔ گولارچی شہر بچانے کیلئے جاتی اور بارن آباد روڈ کو کٹ لگا کر پانی کا رخ سمندر کی طرف کردیا گیا۔ سیلاب سے ٹھٹہ کے پندرہ سو سے زیادہ دیہات زیر آب آئے۔ شہری علاقے جاتی ، سجاول ، بیلو، ٹنڈو حافظ شاہ، بیگنا سمیت کئی شہری علاقے بھی سیلاب کی نذر ہوگئے۔ متاثر علاقوں سے سات لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ ٹھٹہ میں بھوکے پیاسے ہزاروں افراد اب بھی کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ مکلی قبرستان میں بھی متاثرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔جوہی کا سیہون اور سعید آباد سے زمینی رابطہ اب تک بحال نہیں ہوسکا۔ یو سی گاڈی میں ریلا داخل ہونے سے قدیمی درگاہ میاں نصیر محمد اور تاریخی مسجد گاڑی بھی پانی میں ڈوبی ہے۔ دادو کی تحصیل میہڑ کے سپریو بند میں پڑنے والا شگاف اب تک پر نہیں کیا جا سکا۔ بروقت کارروائی نہ کرنے پر شگاف دو سو فٹ چوڑا ہوگیا۔ جس سے مزید پندرہ دیہات زیر آب آگئے۔ پانی تیزی سے میہڑ شہر کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے دادو کو بھی خطرہ ہے۔ میہڑ شہر بچانے کے لیے حفاظتی رنگ بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔ جوہی میں سو سے زیادہ دیہات زیر آب آ گئے۔ میہڑ کی سب جیل سے قیدیوں کو سینٹرل جیل لاڑکانہ منتقل کیا جارہا ہے۔ لوگوں کی نقل مکانی بھی جاری ہے۔ سیپا شہر کو بچانے کے لیے جوہی بیراج کے بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔سندھ بھر میں قائم ریلیف کیمپوں میں صحت اور صفائی کی سہولتوں کا فقدان ہونے کی وجہ سے وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ گیسٹرو کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خیرپورکی تحصیل نارو اور سول اسپتال میں چار بچے گیسٹرو سے جاں بحق ہوگئے۔ شہداد کوٹ میں دو بچے اور قمبر میں سات سالہ بچہ گیسٹرو سے جاں بحق ہوگیا۔ شکارپور کے علاقے یوسف علی میں گیسٹرو کے باعث دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ لاڑکانہ میں قمبر روڈ کے ریلیف کیمپ میں ایک بچی چل بسی۔
Shortlink: