اسلام آباد : وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ربیع کی نئی گندم کی فصل کی امدادی قیمت سوا چھ سو روپے سے بڑھاکر 950 روپے فی چالیس کلوگرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے،کاشتکاروں کو ڈیڑھ فیصد شرح پریمیئم کیساتھ بیمہ کرانے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے ‘انہوں نے بتایا کہ بے نظیر زرعی کارڈ جاری کئے جائیں گے،انہوں نے مزید کہا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائیگی اورکھاد پر سبسڈی برقرار رہے گی،انہوں نے واضح کیا کہ ہم مشکل فیصلے کر رہے ہیں مقبولیت گرنے کی پروا نہیں‘ ملک کو ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کرینگے‘ ۔ بڑے کاشتکاروں کو ڈیڑھ فیصد شرح پریمیئم کے ساتھ بیمہ کرانے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 5ایکڑ سے 25ایکڑ تک کی اراضی رکھنے والے کسانوں کی فصل کا بیمہ وفاقی حکومت خود کرائے گی اور خود پریمیئم ادا کرے گی۔ کاشتکاروں کو بے نظیر کریڈٹ کارڈ نادرا جاری کرے گا جس میں فصل کے لئے بیج‘ کھاد جراثیم کش ادویات وغیرہ خریدنے کے لئے بینکوں سے آسان شرح سود پر قرضے حاصل ہوا کریں گے،واضح رہے کہ نئی قیمت کا اطلاق اپریل09ء میں آنے والی گندم کی فصل پر ہوگا۔ وزیراعظم کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن اور وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل کے ہمراہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہنگامی میڈیا کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکرم شہیدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے صحافیوں کے ہر قسم کے سوالات کے جوابات بے حد تحمل کے ساتھ ٹو دی پوائنٹ اور جامع دیئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ اشیائے خوردنی اور تیل کی عالمی قیمتوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک متاثر ہوئے ہم نے اپنی معیشت کا رخ بدلنا ہے۔ پاکستان خوش قسمتی سے زرعی ملک ہے۔ ہم نے پاکستان میں زراعت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے ہمیں عوام کی ضروریات کا احساس ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام بے حد متاثر ہوئے ہیں ہم عوام کو ریلیف دے رہے ہیں‘ ہم نے فود سکیورٹی کے اقدامات کئے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ گندم کی بوائی شروع ہونے والی ہے۔ زرعی کلاس تنخواہیں بھی مزدور کو گندم کی شکل میں دیتے ہیں‘ 60 سے 70فیصد آبادی کا روزگار گندم کی فصل ہے۔ نگران حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت خرید نہیں بڑھائی جس کی وجہ سے گندم بونے کی ترغیب کاشت کار کو نہ ملی۔ 60ارب روپے کی گندم کی درآمد کرانا پڑی۔ اب ہم نے گندم کی کم سے کم سرکاری قیمت خرید مقرر کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گندم کی سرکاری قیمت خرید 950روپے فی من مقرر کی ہے۔ پیداواری ہدف 25ملین ٹن ہے۔ یہ ہدف پورا کرنے کے لئے تین من فی ایکڑ پیداوار بڑھادیں۔ اس سے قومی ٹارگٹ پورا ہوگا‘ عوام کو فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بوائی کی مہم کا افتتاح کریں عوام میں گندم کی کاشت کو اہمیت دیں۔ 950روپے فی من گندم کی خریداری سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ ہم باہر سبسڈی دے رہے تھے یہ سبسڈی اب ہم ملکی کاشت کار کو دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے یہ بات طے کی ہے بے نظیر زرعی کارڈ جاری کریں گے۔ زمین کی پاس بک کے بدلے میں فصل کے لئے بینکوں سے قرضے لئے جاسکیں گے۔ وہ رقم کھاد بیج کے لئے استعمال کرسکیں گے۔ فصل آنے پر قرضہ واپس کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراپ انشورنس اسکیم شروع ہوگی فصل کی بیمہ کی اسکیم سے کاشتکاروں کو تباہی سے چھٹکارا مل جائے گا۔ سیلاب‘ طوفان‘ قحط سالی کے شکار کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ اس کا پریمیئز 1.5فیصد ہوگا۔ چھوٹے کاشتکار کو بیمے کی پریمیئم کی رقم حکومت ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بار ہمیں دو نقصان ہوئے۔ 2.1ملین ٹن کا ہدف تھا۔ رپورٹ دی کہ سرپلس گندم ہوئی اس پر گندم سستی برآمد کر دی پھر چارگنا زیادہ قیمت پر گندم درآمد کرائی۔ آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی وزیر خزانہ‘ گورنرا سٹیٹ بینک‘ وزیر خوراک و زراعت پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین پر مشتمل ہوگی جو گرین ٹریکٹر اسکیم تیار کرے گی۔
Shortlink: