ایک شخص کیلئے آئین میںترمیم نہیںہوسکتی،سراج الحق

لاہور:امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہاہے اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ انتہائی خطرناک ہو سکتاہے ۔ ایک فرد کے مفاد کے لیے آئین کو بازیچہ اطفال بنایا جارہاہے ،آئین ملک و قوم کے لیے بنتاہے ، کسی فرد یا خاندان کے لیے نہیں ،ایک فرد کو سر پر بٹھانے کے لیے آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا ملکی استحکام کے لیے اداروں کے درمیان باہمی اعتماد اور ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی ضروری ہے اگر ریاستی ادارے ایک دوسرے کیساتھ ملکر نہیں چلیں گے تو انتشار اور افراتفری پھیلے گی جس سے قومی وحدت اور یکجہتی کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔
چترال کے علاقہ دروش میں ایک بڑے شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا اگر یورپ ،امریکہ،اسرائیل اور ہندوستان اکٹھے ہوسکتے ہیں تو دینی جماعتیں کیوں نہیں ہوسکتیں ۔خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ،امریکی خوشنودی کیلئے وزیرخارجہ نے تو اپنے پاکستانی شہری اور ایک عالم دین کیخلاف بیان دیا۔پاکستان نے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور سرخ ریچھ کے غرور کوخاک میں ملادیااس بڑے کارنامے پر اگر انہیں شرمندگی ہے تو پھر وہ ادھر امریکہ میں ہی رہیں ہمیں اپنے اس کارنامے پر فخر ہے ،سی پیک میں اس خطے کیلئے حکومت سے اپنا حصہ مانگا ہے جو میرٹ کی بنیاد پر چترال اور مالاکنڈ کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا دنیا میں تمام نظام ناکام ہوچکے ہیں، اسلامی نظام کی باری ہے ۔
میں ان سیاستدانوں میں سے نہیں جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چترال سیر سپاٹے کیلئے آتے ہیں ۔انکاکہنا تامیں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم قومی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب کریں گے اور ان سے پائی پائی کا حساب لیکر بیرون ملک جمع کی گئی رقم واپس لائینگے ۔انہوں نے کہا جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ دینی جماعتوں کا اتحاد ہو ،دینی جماعتوں کے اتحاد کیلئے میں نے علماکرام سے ملاقاتیں کی ہیں میں نے ان سے کہا ہے کہ افغانستان پر حملہ آور ہونے کیلئے اگر یورپ،اسرائیل ،امریکہ و ہندوستان متحد ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ایک ہوسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں