Roshni


آبرو

نکمے اور بے وقوف لوگوں پر مال اس طرح چھا جاتا ہے جس طرح گلے ہوئے پودوں کی جڑوں میں سیلاب کا پانی گھس جاتا اور انہیں بہا کر لے جاتا ہے ۔ میں اپنا مال خرچ کرکے اپنی آبرو بچاتا ہوں اور اس کو بگڑنے نہیں دیتا ٬ خدا اس دولت میں برکت نہ دے جو آبرو کھو کر حاصل کی جائے ۔ اگر مال ختم ہو جائے گا تو اس کو کمانے کے لئے میں بہت سے ذرائع اختیار کر لوں گا ۔ لیکن عزت چلی گئی تو پھر اسے کسی ذریعہ سے واپس نہیں لا سکتا ۔ فقر با نصب لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے اور کمینہ سرشتوں بدمعاشوں کو (محض امیری کے باعث) رہبر اور لیڈر بنا لیا جاتا ہے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 سخت پتھر سے پانی نہیں پھوٹتا

خبردار ! اپنے دین میں سخاوت اور مال میں بخل کبھی روا نہ رکھنا اگر کبھی تمہیں مدد یا احسان کی ضرورت ہو تو ایسے سخی کا در کھٹکھٹانا جو تمہاری درخواست پر نرم پڑ جائے ٬ کمینہ کا در مت کھٹکھٹانا اس لئے کہ سخت پتھر سے کھبی پانی نہیں پھوٹتا ‘‘ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

زندگی

 

 

زبیر بن کلبی نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا ۔

میرے بیٹو ! میں بوڑھا ہو چکا ہوں میں نے زمانہ دیکھا ہے ۔ زندگی کے بیشمار تجربوں نے مجھے پختہ کار بنا دیا ہے ۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں زندگی اور اس کے معاملات آزمائش و تجربات ہی کا دوسرا نام ہے ۔ جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے دل لگا کر سنو اور یاد کرلو خبردار ! حوادث و مصائب کا مقابلہ کرنے میں کم ہمتی اور کمزوری کا مظاہرہ نہ کرنا ۔ اپنے کاموں کو دوسروں پر مت ڈالنا ورنہ تمہیھ رنج و کوفت اور تمہارے دشمنوں کو مسرت حاصل ہوگی ۔ جس کی وجہ سے تم خدا سے بدگمان ہو جاؤ گے ۔ دیکھو زمانہ کی گردشوں کو مذاق سمجھ کر ان سے کبھی غافل اور بے خوف نہ رہنا ٬ کیونکہ جس قوم نے بھی انقلابات زمانہ کا مذاق اڑایا وہ بڑی سخت مصیبتوں میں مبتلا ہو گئی ۔ تم ان کے منتظر رہو ٬ اس لئے کہ دنیا میں انسان اس نشانہ کی طرح ہے جسے تیراندازوں نے تختہ مشق بنا رکھا ہو ٬ ہو سکتا ہے کہ کبھی تیر اس تک پہنچتا ہی نہ ہو اور کبھی دائیں بائیں سے گزرتا ہو آگے نکل جاتا ہو ٬ لیکن یہ بھی تو ہے کہ کوئی تیر کسی وقت یقیناًٹھیک نشانہ پر بھی لگ جائے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 بہتان تراشی

ایک بدوی عورت نے اپنے لڑکے کو وصیت کرتے ہوئے کہا ۔”مرے پیارے بیٹے ! بہتان تراشی سے بچو ۔ کیونکہ اس سے دلوں میں رنجش و عداوت اور دوستوں میں جدائی ہوتی ہے ۔ دوسروں کی عب جوئی نہ کرو ورنہ تم نشانہ بنا لئے جاؤ گے اور بہت ممکن ہے کہ تیروں کی بوچھاڑ سے نشانہ جمانہ رہ سکے ٬ ورنہ لگا تار تیر لگنے سے وہ کمزور تو ہو ہی جائے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک ماں کی وصیت

 عرب کی ایک دیہاتی عورت نے اپنی بیٹی کو سہاگ رات کے موقع پر یہ وصیتیں کیں ۔

میری پیاری بیٹی ! اگر با ادب اور شائستہ ہونے کی وجہ سے کسی کو وصیت سے بالاتر سمجھا جاتا تو وہ تیری ہی ذات ہوتی ٬ مگر اس وصیت سے غفلت شعار کو تنبیہ ہوتی اور ہوشیار کو مدد ملتی پھر اگر ماں باپ کی محبت اور ان کی دولت کے باعث کوئی عورت شوہر سے مستغنی ہوسکتی ہے تو وہ تم ہی ہو سکتی تھی۔پیاری بیٹی ! جس ماحول میں تم نے جنم لیا تھا آج تم اس سے جدا ہو رہی ہو اپنے جانے پہچانے گھر اور مانوس ساتھیوں کو چھوڑ کر تم ایک اجنبی گھر اور نا آشنا ساتھی کے پاس جا رہی ہو ۔ میری دس نصیحتیں ہیں ان کو اپنے ساتھ لیتی جاؤ ٬ یہ تمہارے لئے بہت کارآمد ثابت ہونگی ۔ ،، اپنے شوہر کے ساتھ صبر و شکر کے ساتھ رہنا خندہ پیشانی سے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں لگی رہنا اس کی نگاہوں کو سمجھنا اور ایسا موقع نہ دیناکہ اس کی آنکھیں تمہارے کسی عیب پر پڑ جائیں اس کے کھانے کے اوقات معلوم کر لینا اور جب وہ سو رہا ہو تو خاموش رہنا ٬ اس لئے کے بھوک کی گرمی غصہ کو برانگیختہ کرتی ہے اور آرام میں خلل اندازی نفرت و عداوت کا سبب بن جاتی ہے اگر وہ کبیدہ خاطر ہو تو اس کے سامنے خوشی کا اظہار نہ کرنا ٬ اگر وہ خوش ہو تو تم رونے نہ بیٹھ جانا اس لئے کہ اولالذکر عادت بدتمیزی ہے اور دوسری اس کو کوفت کا باعث ٬ سب سے زیادہ اس کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا ٬ تو وہ بھی تمہاری انتہائی عزت کرے گا ۔ اور یقین کرلو کہ تم کو حقیقی مسرت اسی وقت نصیب ہو سکے گی جب تم اپنی مرضی کو اس کی مرضی پر قربان کر دو ٬ اور اپنی خواہش کو اس کے آگے جھکا دو ٬ خواہ اس میں تمہارا بھللا ہو یا برا ۔ خدا تمہارا بھلا کرے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

:چشم پوشی

جو اپنے دوست کے ساتھ چشم پوشی سے کام نہیں لیتا اور اس کی بعض خامیوں کو معاف نہیں کرتا وہ مرتے دم تک غصہ میں ہی رہے گا ۔ اور جو شخص ہر ایک کے عیب کی ٹوہ میں لگا رہے گا اور ہر لغزش پر گرفت کرے گا وہ تا حیات کس کو اپنا مخلص دوست نہیں بنا سکے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 :شر

جس طرح سردار سے ڈرتے ہو رذیل سے بھی ڈرتے رہو ۔ اس لئے کہ شیر (جو جنگل کا سردار ہے ) پنجوں (رذیل اعضاء ) اور نکیلے دانتوں (بالائی اعضائ) سے حملہ کرتا ہے موذی جانور جن کی تباہ کاریوں سے تم ڈرتے ہو ان کے مضر رساں اعضاء یا تو ان کے سر میں ہوتے ہیں یا ان کی دموں میں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 امیر و فقیر

   کل رات میں ایک پریشان حال کے پاس سے گزرا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ پیٹ پر ہے اور وہ اپنے پیٹ کی تکلیف کا شکوہ کر رہا ہے ۔ میں نے اس کے حال زار پر رحم کھاتے ہوئے اس کی حالت دریافت کی تو اس نے بتایا کہ بھوک کی وجہ سے میرے پیٹ میں درج ہو رہا ہے ۔ چنانچہ میں نے کسی قدر اس کی بھوک فرو کرنے کی کوشش کی پھر اسے چھوڑ کر اپنے ایک امیر و خوش حال دوست سے ملنے چلا گیا ۔ وہاں مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ بھی اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور وہی تکلیف بتار رہا تھا ۔ جو اس بد احوال فقیر نے بتائی تھی میں نے اس کی حالت دریافت کی تو اس نے بدہضمی کی شکایت بتائی اس پر میں نے کہا ’’ ہمارے معاشرہ کی حالت کس قدر تعجب انگیز ہے ! اگر یہ مالدار اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک اس فقیر حال کو دے دیتا تو دونوں میں سے کوئی پریشان و شاکی نہ رہتا اس کا فرض تھا کہ اتنی ہی غذا استعمال کرتا جس سے یہ اپنی بھوک فرو کرتا اور اپنی ضرورت پوری کر لیتا لیکن افسوس اس کی خود غرضی حد سے بڑھ گئی اور اس نے اپنے دسترخوان کی رونق بڑھانے کے لئے فقیر کی پلیٹ بھی اپنی طرف گھسیٹ لی جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے اسے بدہضمی کی سزادی تاکہ ظالم اپنے ظلم کی وجہ سے چین سے نہ بیٹھ سکے اور طمانینت حاصل نہ ہو سکے اور اس طرح یہ مشہور مثل اس پر صادق آگئی کہ امیر کی بدہضمی فقیر کی بھوک کا انتقام ہوتی ہے ۔

آسمان پانی برسانے میں بخل نہیں کرتا نہ زمین پودے اگانے میں کمی کرتی ہے البتہ طاقتور کمزوروں کے پاس یہ چیزیں دیکھنے میں حسد کرتے ہیں اور وہ ان چیزوں کو غریبوں تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اس طرح محتاج اور اپنی پریشان حالی کا شکوہ کرنے والا طبقہ پیدا ہو جاتا ہے لہذا غریب طبقہ کا حق دبانے والے سرمایہ دار اور امیر لوگ ہیں نہ کہ زمین و آسمان۔

طاقتور لوگ کس قدر ظالم اور سخت دل ہیں ! وہ اپنے گدوں پر آرام کی نیند سوتے ہیں اور ان کا پڑوسی جو سردی سے ٹھٹھرتا اور تکلیف سے آہیں بھرتا ہے ان کی نیند میں خلل انداز نہیں ہوتا وہ قسم قسم کے کھٹے میٹھے سلونے کھانوں سے بھری ہوئی میز پر بیٹھا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی اس کے دل میں کوئی تکدر پیدا نہیں ہوتا کہ اس کے بہت سے رشتہ دار ایسے ہیں جو اس دسترخوان کے بچے کچھے ٹکڑوں کے لئے بھوک سے بیتاب ہیں بلکہ ان امیروں میں ایسے بھی ہی جن کے دل میں نہ رحم و مہرابانی کا گزر ہے نہ حیا ان کی زبانوں کو لگام لگاتی چنانچہ وہ فقیروں کے سامنے انہیں سنانے کے لئے اپنس آسودگی و خوشحالی کی داستانیں بیان کرتے ہیں اور اپنے زرو جواہر و اثاثہ کی گنتی کرانے کے لئے فقیروںسے خدمت لیتے ہیں تاکہ غریب کا دل توڑیں اور اس کی زندگی بدمزہ کردیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہر بات اور ہر ادا سے یہ بتانا چاہے ہیں کہ ہم امیر ہیں اس لئے خوش نصیب اور تم فقیر ہو اس لئے بد بخت و کم نصیب ہو ۔ میں انسان کو انسان سمجھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تا آنکہ وہ احسان سے کام نہ لے اس لئے کے میں انسان و حیوان کے درمیان جو صحیح حد فاصل قائم کر سکتا ہوں وہ احسان ہی ہے مجھے یہاں تین قسم کے انسان ملتے ہیں ایک وہ جو کسی پر اس لئے احسان کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ وہ اپنے ساتھ احسان کرنا چاہتا ہو ایسا شخص مستبد و جبار ہے جو احسان کے معنے آدمی کو غلام بنا لینے کے سمجھتا ہے ۔ دوسرا وہ انسان ہے جو اپنے اوپر احسان کرتا ہے اور دوسروں پر احسان نہیں کرتا اس لالچی اور خود غرض انسان کو اگر معلوم ہو جائے کہ سیال کا خون کسی عمل سے جم کر سونا بن جاتا ہے تو وہ اس سونے کو حاصل کرنے کے لئے تمام انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گا ۔ تیسری قسم کا انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ احسان کرتا ہے نہ دوسروں کے ساتھ اور یہ احمق بخیل ہے جو اپنا پیٹ مار کر اپنے صندوق کا پیٹ بھرتا ہے ۔ رہ گئی انسان کی چوتھی قسم جو دوسروں کے ساتھ احسان کرتا ہو اور اپنے ساتھ بھی احسان کرتا ہو تو میں اسے نہیں جانتا اور اب تک اس سے نہیں مل سکا اور میرا خیال ہے کہ اس قسم کے انسان کو یونانی فلسفی اڈوگین کلبی ٬ دن میں چراغ لے کر ڈھونڈتا پھرتا تھا اور جب اس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تلاش کر رہے ہو تو اس نے جواب دیا تھا ’’ انسان کو تلاش کر رہا ہوں ‘‘ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میرا ایک دوست تھا جو میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محترم و معزز تھا ۔ وہ اصل سبب جس نے اسے میری نظر میں بزرگ و محترم بنایا ٬ یہ تھا کہ اس کی نظر میں دنیا حقیر تھی ۔ وہ اپنے پیٹ کا غلام نہ تھا ۔ اس لئے جو چیز وہ نہ پاتا اس کی خواہش نہ کرتا ۔ اور جب کوئی چیز پا لیتاتو زیادہ نہ لیتا اس کی زبان مطلق العنان تھی ۔ اس لئے جب کوئی بات نہ جانتا اسے منہ سے نہ نکالتا ۔ اور جس بات کو جانتا اس میں اصرار اور جھگڑا نہ کرتا اس پر جہالت کی حکومت بھی نہ تھی ۔ لہذا جب تک اسے فائدہ کا پختہ یقین نہ ہو جاتا وہ کسی کام کو کرنے کے لئے آگے نہ بڑھتا ۔ زیادہ وقت وہ خاموش رہتا لیکن جب وہ بات کرتا تو سب بولنے والوں سے سبقت لے جاتا ۔ وہ کمزور تھا اور لوگ اسے بے یارو مددگار خیال کرتے تھے ۔ لیکن جب کوئی اہم معاملہ آن پڑتا تو مہ حملہ آور شیر تھا وہ کبھی مقدمہ میں حصہ نہ لیتا نہ جھگڑے میں شریک ہوتا ۔ نہ کوئی دلیل و ثبوت پیش کرتا تا آنکہ وہ ہوشیار قاضی اور سچے گواہوں کو نہ دیکھ لیتا ۔ وہ کسی کو ایسی حرکت پر ملامت نہ کرتا جس پر اس کے پاس کوئی عذر ہوتا تاوقتیکہ وہ اس کا عذر معلوم نہ کر لیتا۔ وہ اپنی درد کی شکایت صرف اسی سے کرتا جس سے اسے صحت یابی کی امید ہوتی وہ کسی دوست سے مشورہ نہ کرتا تاوقتیکہ اس سے خیر خواہی کی امید نہ رکھتا ۔ وہ نہ اُکتاتا نہ غصہ کرتا ٬ نہ گلہ کرتا ٬ نہ بہت ہی چیزوں کی خواہش کرتا ٬ نہ دشمن سے بدلہ لیتا نہ دوست سے غافل رہتا ٬ نہ وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لئے کسی قسم کی کوشش ٬ چارہ سازی اور تدبیر و قوت کو حاصل کرتا۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو ان خصائل کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو اور تم ہر گز اپنے اندر یہ صفات پیدا نہیں کر سکتے لیکن سب کچھ چھوڑ دینے سے تھوڑا سا لے لینا بہتر ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭ تم خواہ کیسی ہی حسین پوشاک کیون نہ پہنا دئیے جاؤ یہ خیال نہ کر کہ حسن و جمال پوشاک میں ہوتا ہے ۔ حقیقتاً حسن و جمال تو خیر و کرم کے وہ سرچشمے اور بلند کارنامے ہیں جو تم کو عزت و سروری سے سرفراز کردیں ۔

٭ زبان کا زخم نیزہ کے گھاؤ سے زیادہ کاری اور تکلیف دہ ہوتا ہے ۔

٭ کچھ جلد بازیاں تاخیر کا باعث ہوتی ہیں ۔

٭ حق کی طرف واپس آ جانے سے تمام گناہ دھل جاتے ہیں ۔

٭ جو سیدھی راہ چلے گا ٹھوکروں سے محفوظ رہے گا ۔

٭ تم برائی چھوڑ دو برائی تمہیں چھوڑ دے گی ۔

٭ شریف آدمی جو وعدہ کرتا ہے اسے وفا کرتا ہے ۔

٭ انسانوں کے بدترین اخلاق بے وفائی اور دغا بازی ہیں۔

٭ انسان دیکھنے میں بڑا نظر آتا ہے لین آزمانے پرسب اچھے ثابت نہیں ہوتے ان میں جو سب سے افضل و برگزیدہ ہیں وہ نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ لوگوں کا حق مارتے ہیں اور نہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔

٭ تمہارا ہاتھ شل ہو تو بھی تمہارا ہی ہاتھ ہے ۔